$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اس رقم کی اَدائی کے احکامات جاری کردیئے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۱)

پھوپھی صاحبہ کا وظیفہ

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خلافت کے بعد آپ کی پھوپھی صاحبہ آپ کی اہلیہ محترمہ حضرتِ فاطمہ بنت عبدالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیھا کے پاس آئیں اور کہا:’’ میں امیرُ المُؤمنین سے کچھ کہنا چاہتی ہوں ۔ ‘‘ حضرتِ فاطمہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیھا نے کہا :’’ ذرا تشریف رکھئے وہ ابھی مصروف ہیں ۔ ‘‘ وہ بیٹھ گئیں ، تھوڑی دیر بعد غلام گھر سے چراغ لے کر گیاتو حضرتِ فاطمہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیھا نے کہا:اب امیرُ المُؤمنین فارغ ہیں آپ اُن سے بات کرسکتی ہیں ، ان کا معمول یہ ہے کہ جب تک مسلمانوں کے کام میں مصروف ہوتے ہیں تو سرکاری شمع جلاتے ہیں اور اپنا ذاتی کام کرنا ہو تو گھر سے چراغ منگوالیتے ہیں ۔ پھوپھی صاحبہ  امیرُ المُؤمنین کے پاس گئیں ، وہاں دیکھا کہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہشام کا کھانا تناوُل فرمارہے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی چند روٹیاں ، کچھ نمک اور ذرا سا زیتون! بس یہ تھا امیرُ المُؤمنین کاکھانا ۔ پھوپھی صاحبہ نے کہا :’’ امیرُ المُؤمنین! میں تو اپنی ضرورت کے لئے آئی تھی مگر تمہیں دیکھ کر مجھے اِحساس ہوا کہ اپنی ضرورت سے پہلے مجھے تمہارے مسائل پر کچھ کہنا چاہیے ۔ ‘‘ امیرُ المُؤمنین نے کہا :’’ فرمائیے پھوپھی جان!‘‘ پھوپھی صاحبہ نے کہا :’’ذرا اِس سے نرم کھانا کھایا کرو ۔ ‘‘ جواب دیا: ’’پھوپھی جان! یقینا میں ایسا ہی کرتا مگر کیا کروں کہ اس کی گنجائش ہی نہیں ۔ ‘‘اس کے بعد پھوپھی صاحبہ نے کہا :’’ تمہارے چچا عبدُالملک مجھے اتنا اتناوظیفہ دیا کرتے تھے ، انکے بعدتمہارے تایازاد بھائی ولیداور سلیمان آئے تو انہوں نے اس میں اِضافہ کردیا، اب تم آئے تو میرا وظیفہ ہی بند کردیا!‘‘ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہبولے : ’’پھوپھی جان! میرے چچا عبدُالملک ، چچازادبھائی ولید اور سلیمان آپ کو مسلمانوں کا مال دیا کرتے تھے ، اب یہ مال میرا تو ہے نہیں کہ میں آپ کو دیا کروں ! آپ چاہیں تو ذاتی مال سے دے سکتا ہوں ۔ ‘‘ وہ پوچھنے لگیں : وہ کون سا ؟ جواب دیا: وہی جو مجھے دو سو دینار سالانہ وظیفہ ملتا ہے ۔ پھوپھی صاحبہ نے کہا:میں تمہارے وظیفے کا کیا کروں گی ؟کہا : ’’پھوپھی جان!میرے پاس تو یہی کچھ ہے اس کے علاوہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۔ ‘‘ یہ سن کرپھوپھی صاحبہ واپس چلی گئیں ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۴)

حکمِ الہٰی کا پاس

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکی پھوپھی جان اُم عمر بنت مَروان نے کسی موقع پر آپ سے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا فیصلہ ہے مگر تم نے ہمیں بہت ساری ایسی چیزوں سے محروم کردیا جو دوسرے خلفاء دیا کرتے تھے ! آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جواب دیا: یَا عَمَّۃٌلَوْلَا ذٰلِکَ الْحُکْمُ لَکُنْتُ اَوْصَلُھُمْ لَکیعنی پھوپھی جان!اگر ’’اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا فیصلہ‘‘ نہ ہوتا تو میں آپ کو دوسروں سے زیادہ دیتا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۴)

آیندہ ایک درہم بھی نہیں دوں گا

            ایک مرتبہ عَنبَسَہ بن سعیدحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے ہاں سے نکلے تودروازے پرخاندانِ بَنوُ اُمَیَّہ کے لوگ جمع تھے ، جن میں یزیدبن عبدالملک بھی تھے جوحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے بعد ولی عہدتھے ۔ ان لوگوں نے عنبسہ سے شکایت کی کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ہمیں صِرف دس دس دینار بھیجے ہیں ، ہمیں ان کی رَنجِش کا اندیشہ ہے ورنہ ہم انہیں یہ رقم واپس کردیتے ۔ ولی عہد یزید بن عبدالملک نے کہا :انہیں بتا دیجئے کہ میں بھی اِس رقم پر راضی نہیں ، شاید ان کا خیال ہوگا کہ میں انکے بعد خلیفہ نہیں ہوں گا ۔

            یہ سن کر عنبسہ دوبارہ اندر گئے اور حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزسے بات کی کہ آپ کے خاندان کے لوگ دروازے پر بیٹھے ہیں ، انہیں آپ سے شکوہ ہے کہ آپ نے ان کو  صِرف دس دس دینار پر ٹرخا دیا ہے ، ولی عہدیزید بن عبدالملک نے تویہاں تک کہاہے کہ شایدعمرکا خیال ہوگاکہ ان کے بعدمیں خلیفہ بننے والا نہیں ہوں ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:ان سے میراسلام کہو، سلام کے بعدانہیں میری طرف سے بتاؤکہ ’’ اس ذات کی قسم جس کے سواکوئی معبودنہیں ، میں نے گذشتہ رات جاگ کراوراللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے اس بات کی معافی مانگتے ہوئے گزاری ہے کہ میں نے دوسرے مسلمانوں کوچھوڑکرتمہیں فی کس دس دینار کیوں دے ڈالے ؟واللّٰہُ العظیم!آیندہ میں تمہیں ایک درہم بھی نہیں دوں گااِلّایہ کہ دیگر مسلمانوں کوبھی ملے ۔ ‘‘اور یزید بن عبدالملک سے کہنا: ’’میں تمہیں اس اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی قسم دے کرپوچھتاہوں ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ اگرتم میری بَیعَت توڑڈالواورمسلمان مجھے خلافت سے مَعزُول کردیں پھرتم معاملاتِ خلافت سنبھال لوتو کیاتم مجھ سے اتناکم تَرمعاملہ کرسکتے ہو جتنا میں نے (خلیفہ ہوتے ہوئے ) خوداپنے آپ سے کررکھا ہے ؟جب کاروبارِخلافت تمہارے سِپُرد ہوگا تو جو تمہارے جی میں آئے کرلینا ۔ ‘‘عنبسہ باہرنکلے توان سے یہ ساراقصہ بیان کیا اور کہا:بھائیو!جس کی زمین ہے وہ جاکراپنی زمین کی دیکھ بھال کرے ( یعنی یہاں کچھ نہیں ملے گا) ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۱)

دُکانیں واپس دلوائیں

            چند مسلمانوں نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی عدالت میں دعویٰ کیا کہ حَمص میں انکی چند دکانوں پر ولید بن عبدُالملک کے بیٹے ’’رَوح‘‘ نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ’’رَوح‘‘سے فرمایا :’’ ان کی د کانیں واپس کردو ۔ ‘‘ رَوح بولا: یہ میرے پاس سابق خلیفہ ولید بن عبدالملک کی تحریر موجود ہے ۔ مگر آپ نے فرمایا :’’ جب دکانیں ان کی ہیں اور اس پر شہادت بھی موجود ہے تو ولید کی تحریر کیا معنی رکھتی ہے ؟‘‘ اس فیصلہ کے بعد دونوں فریق اٹھ کر چلے گئے ۔ باہر جا کر رَوح نے مُدَّعِی(یعنی دعویٰ کرنے والے ) کو دھمکایا ، اس نے واپس آکر شکایت کی :یاامیرَالمُؤمنین !  وہ مجھے دھمکیاں دیتا ہے ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے کَعب بن حامد جو آپ کا پولیس افسر تھا ، سے فرمایا: رَوح کے پاس جاؤ، اگر دکانیں ان کے حوالے کردے تو بہترورنہ اس کا سر کاٹ لاؤ ۔ ‘‘ رَوح کے حامیوں نے خلیفہ کا یہ فرمان سنا تو فوراً اُسے خبر کر دی ۔ جب ’’کعب بن حامد‘‘ پولیس افسر نے ایک بَالِشت تلوار نِیام سے باہر نکال کر ’’رَوح‘‘ سے کہا ان کی دکانیں فوراً ان کے حوالے کردو ورنہ …!! اس نے کہا :’’ بہت اچھا!‘‘اور دکانوں کا قبضہ چھوڑ دیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۲)

جواب نہ بَن پڑا

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html