Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

علمائِ کرام کو اپنے قریب کر لیا

            جب حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرخلیفہ مقرر ہوئے تو مختلف’’شخصیات ‘‘نے آپ کے پاس آنا جانا شروع کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ انہیں بھی وہی توجُّہ ملتی ہے جو عام لوگوں کو تو وہ پیچھے ہٹ گئیں ، پھر  حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے اپنی پسندیدہ شخصیات یعنی علماء کرام کو اپنے قریب کر لیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۹۱) تاریخِ دمشق میں ہے :کَانَ لِعُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیْزِ سُمَّارٌ  یَسْتَشِیْرُھُمْ فِیْمَا یَرْفَعُ اِلَیْہِ مِنْ اُمُوْرِ النَّاسیعنی :حضرتِ عمر بن عبدالعزیز کے چند مصاحِب تھے جن سے وہ رِعایا کے معاملات میں مشورہ کیا کرتے تھے ۔ (تاریخ دمشق، ج۴۵، ص۱۷۰)

کم رفتار سواری پر بیٹھنا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنے ایک گورنر کو لکھا:تم اُسی سواری پر بیٹھنا جس کی رفتار لشکر کی دیگر سواریوں سے کم ہو ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۳۷)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس فرمانِ نصیحت نشان کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتاہے کہ تم اپنے مرتبے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اچھی اچھی چیزیں اپنے لئے خاص نہ کر لینا ، اس سے اُن اسلامی بھائیوں کو خود پر ایک سوبارہ مرتبہ غور کرلینا چاہئے جنہیں کسی شُعبہ یا مَکتَب( دفتر ) میں فوقیت حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اچھی ، قیمتی اور معیاری اشیاء اپنے لئے خاص کرلیتے ہیں اور بَچاکُھچا سامان ماتحت اسلامی بھائیوں کو پیش کردیتے ہیں ۔

خاندان والوں سے میل جول کم کردیا

            خلیفہ بننے کے بعد آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے خاندان والوں سے میل جول کم کردیا تو ان میں بعض لوگوں نے کہا : ’’ آپ مُتَکَبِّرہوگئے ہیں ۔ ‘‘  فرمایا: میں پہلے محض ایک نوجوان تھا، خاندان کے لوگ بلا روک ٹوک میرے پاس آتے جاتے تھے لیکن خلیفہ بننے کے بعد میرے سامنے دوراستے تھے کہ یا تو میں پہلے کی طرح ان کے ساتھ زیادہ میل جول رکھوں اور حق کی مخالفت پر ان کو سزادوں ، یا ان سے ملنا جُلنا کم کردوں تاکہ انہیں میرے بل بوتے پر حق کی مخالفت کی جر أت ہی نہ ہو ، میں نے بہت سوچ سمجھ کر دوسرا راستہ اختیار کیا ہے ، ورنہ  تَکَبُّر تو صرف خدا عَزَّوَجَلَّ کا حق ہے ، میں اس کے متعلِّق اس سے کیونکر جنگ کرسکتا ہوں !(سیرت ابن جوزی ص۲۰۴ ملخصا)

بیس ہزار دیناردینے سے اِنکار

             خلیفہ سلیمان بن عبدُالملک نے عنبسہ بن سعید کو بیس ہزار دینار دینے کا  حُکم دیا تھا ، یہ  حُکم نامہ دفتری کارروائی کے آخری مرحلہ میں تھا اوراس رقم کا صِرف وُصول کرنا باقی تھا کہ سلیمان کا انتقال ہوگیا ۔ عبنسہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے گہرے دوست تھے ، آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ خلیفہ ہوئے تووہ اس رقم کی وُصُولی کے سلسلہ میں گفتگو کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ آپ کے دروازے پر بنو اُ مَیَّہ کے کئی لوگ بھی جمع ہیں اور وہ اپنے اپنے معاملات میں گفتگو کرنے کے لیے حاضری کی اِجازت چاہتے ہیں ۔ جب انہوں نے عنبسہ کو دیکھا تو آپس میں کہنے لگے کہ ہمیں امیرُ المُؤمنین سے بات چیت کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ عنبسہ سے کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟ چنانچہ انہوں نے عنبسہ سے کہا کہ آپ امیرُ المُؤمنین کے پاس جائیں تو ان کی خدمت میں ہمارا  تَذکِرہ بھی کریں اور واپس آکر ہمیں بتائیں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا ۔ عنبسہ اندر گئے اور عَرض کی:’’ یاامیرَالمُؤمنین !خلیفہ سلیمان نے مجھے کچھ رقم عطا کرنے کا  حُکم فرمایا تھا، اُس کی دفتری کارروائی مکمل ہوچکی تھی اور صرف قبضہ باقی تھا کہ ان کا انتقال ہوگیا، میری رائے میں اب آپ کو اس کی تکمیل بدرجہ اولیٰ کرنی چاہیے کیونکہ میرا آپ کا تعلق اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے جو میرا اور سلیمان کا تھا ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے پوچھا :’’ کتنی رقم ہے ؟‘‘ عَرض کی :’’ بیس ہزار دینار!‘‘ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہبہت حیران ہوئے اور فرمایا :’’ بیس ہزار دینار !اتنی رقم تو مسلمانوں کے چار ہزار گھروں کے لیے کافی ہوسکتی ہیں ، وہ ایک ہی آدمی کو دے ڈالوں ؟ واللّٰہ! میں یہ نہیں کرسکتا ۔ ‘‘عنبسہ کہتے ہیں میں نے یہ سن کر ناراضی سے وہ دستاویز پھینک دی ۔

حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا :یہ تمہارے پاس ہی رہے تو تمہارا کیا نقصان ہے ، ممکن ہے میرے بعد کوئی ایسا خلیفہ آئے جو اس مال کے معاملے میں مجھ سے زیادہ جَری(یعنی جر أ ت کرنے والا) ہو اور تمہیں یہ رقم دلوادے ۔ میں نے انکی رائے کو مفید سمجھتے ہوئے وہ دستاویز اٹھالی اور عَرض کی: امیر المومنین! ’’ جبلِ درس‘‘ کا کیا ہوا؟درحقیقت جبل درس حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی ہی جاگیر تھی مگر حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے عنبسہ کی چوٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے فرمایا:تم نے خوب یاد دلایا ۔ پھر خادِم کوایک ٹوکری لانے کا کہا ۔ کھجور کے تنکوں کی بنی ہوئی ٹوکری لائی گئی، اس میں جاگیروں کے کاغذات تھے آپ نے خادِم کو پڑھنے کا  حُکم دیا، وہ ایک ایک کو پڑھتا جاتا اور آپ اسے چاک کرتے جاتے ، یہاں تک کہ اس ٹوکری کے تمام کاغذات پھاڑ ڈالے ۔

            عنبسہ کہتے ہیں : میں باہر نکلا تو بنو اُمیہ کے لوگ دروازے پر موجود تھے ۔ میں نے سارا قصہ اُن کو سنایا تووہ مایوس ہوکر بولے :اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے ؟ آپ انکے پاس واپس جائیے اورہماری سِفارِش کیجئے یا یہ درخواست کیجئے کہ ہمیں دوسرے علاقوں میں جانے کی اِجازت دے دیں ۔ میں واپس ہوا اور عَرض کی: یاامیرَالمُؤمنین ! آپ کی قوم کے لوگ آپ کے دروازے پر کھڑے ہیں ، اُن کی درخواست ہے کہ آپ انکے وہ وظائف وعطیات جاری کردیں جو آپ سے پہلے ان کو ملا کرتے تھے ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا :’’ واللّٰہ! یہ مال میری ملکیت نہیں ، نہ میں یہ عطیات ان کو دے سکتا ہوں ۔ ‘‘ میں نے  عَرض کی:پھر ان کی درخواست ہے کہ آپ انہیں دوسرے علاقوں میں چلے جانے کی اجازت دیں ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا :’’ وہ جہاں جانا چاہیں انہیں اس کی اجازت ہے ۔ ‘‘ میں نے  عَرض کی :’’ مجھے بھی ؟‘‘ فرمایا: ہاں تمہیں بھی اجازت ہے ، مگر میرا مشورہ ہے کہ تم یہیں ٹھہرو ، تم اچھے خاصے مالدار آدمی ہو، میں سلیمان کا تَرکہ فروخت کرنا چاہتا ہوں ، ہوسکتا ہے کہ تم کوئی چیز خرید کر نفع کمالو اور اس طرح جو رقم تمہیں نہیں مل سکی اس کا بدل ہی مل جائے ۔ ‘‘عنبسہ کہتے ہیں : میں ان کی رائے کو بابرکت سمجھتے ہوئے وہیں رُک گیا ۔ جب سلیمان کا ترکہ فروخت ہوا تو میں نے وہ ایک لاکھ میں خرید لیا اور عراق لے جا کر دو لاکھ کا فروخت کردیا، یوں مجھے ایک لاکھ درہم کا نفع ہوا ۔ بیس ہزار کی دستاویز بھی میں نے محفوظ رکھی، جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کا وِصال ہوا اور یزید بن عبدُالملک خلیفہ بنے تو میں نے سلیمان کی تحریر لا کر ان کو دکھائی توانہوں نے



Total Pages: 139

Go To