Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

عَلٰی شَاطِیِٔ الْفُرَاتِ لَاُخِذَ بِھَا عُمَرُ یعنی فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی مرگیا تو عمر سے مؤاخذہ ہوگا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۶)

مظلوم کی مدد

             آذربائجان سے ایک شخص حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے پاس آیا اور ان کے سامنے کھڑے ہوکر بولا :’’یاامیرَالمُؤمنین ! اپنے سامنے میرے اِس طرح کھڑے ہونے سے اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ ربُّ العزّت کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے ، آپ کے فریقوں کی کثرت بھی آپ کو چُھپنے نہیں دے گی ، جس دن عملِ محکم کے علاوہ کوئی چارہ اور گناہوں سے چھٹکارا ممکن نہیں ہوگا ۔ اس کی یہ بات سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزبہت روئے پھر فرمایا :تمہارابھلاہو !ذرا پھر سے کہنا ۔ اس نے دوبارہ یہی بات کہی تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ پھر رونے لگے ، لمبی لمبی آہیں بھرنے لگے ۔ تھوڑااِفاقہ ہوا تو دریافت  فرمایا :مَاحَاجَتُکَ یعنی تمہاری کیا حاجت ہے ؟  اس نے بتایا: آذربائجان کے عامِل نے مجھ پر ظُلم کیا اوربِلاوجہ میرے بارہ ہزار درہم بیتُ المال میں ڈال دیئے ہیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اُسی وقت آذربائجان کے عامل کو یہ خط لکھنے کا  حُکم دیا کہ اسکا مال اسے لوٹادیا جائے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۶۷)

غلام آزاد کردیا

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس ایک غلام تھا ۔ وہ غلام ایک خچر کے ذریعہ محنت مزدوری کیا کرتا تھا ۔ ایک دن آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  نے اس غلام سے حال اَحوال دریافت کیاتوشکوہ کرتے ہوئے کہنے لگا: اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ بِخَیْرٍ غَیْرِیْ وَغَیْرُکَ یعنی میرے اورآپ کے سوا باقی سب لوگ خیریت سے ہیں ۔ فرمایا :’’فَاذْھَبْ فَاَنْتَ حُرٌّ یعنی جاؤتم آزاد ہو ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۱۸۶)

اپنے علاقوں میں واپس چلے جاؤ

            جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے خلیفہ بننے کی خبر عام ہوئی تو دُور ونزدیک سے لوگ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس پہنچنا شروع ہوگئے ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ان سب کو جمع کر کے فرمایا:اے لوگو! اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے جاؤ کیونکہ جب تم میرے پاس ہوتے ہو تو میں تمہیں بھول جاتا ہوں اور جب تم اپنی اپنی جگہ پر ہوتے ہو مجھے خوب یاد رہتے ہو، دیکھو! میں نے کچھ لوگوں کو تم پر حاکِم مقرر کیا ہے ، میرا یہ ہرگز دعویٰ نہیں ہے کہ وہ تم میں سے بہترین ہیں ، ہاں ! یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ بہت سے لوگوں سے اچھے ہیں ، اگر کوئی حاکم تم پر ظُلم ڈھاتا ہے تو اسے میری طرف سے ہرگز اس کی اِجازت نہیں ہے (یعنی اس کا محاسبہ ہوگا) ۔ (سیرتِ ابن عبدالحکم ۴۰  وسیرت ابن جوزی۸۹)

بَدُّوؤں کو زمین واپس دلائی

            غَصَب شدہ جائیدادیں اور مقبوضہ زمینیں واپس کرنے کا سلسلہ تادمِ مَرگ قائم رہا ۔ حُقُوق کی واپسی کے لیے کسی قَطعی شہادت یا حُجت کی ضرورت نہ تھی، بلکہ جو شخص دعویٰ کرتا تھا معمولی سے معمولی ثُبُوت پر اس کا مال واپس مل جاتا تھا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۶) ایک بار بَدُّوؤں (یعنی دیہاتیوں ) نے دعوی کیا کہ انہوں نے ایک قِطعَہ زمین آباد کیا تھا جس کو عبدُالملک نے اپنی اولاد کو دے دیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم  نے  فرمایا ہے : ’’اَلْبِلَادُ بِلَادُ اللّٰہِ وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللّٰہِ ، مَنْ اَحْیٰ اَرْضاً مَیْتَۃً فَھِیَ لَہ ٗیعنی زمین خدا عَزَّوَجَلَّ  کی زمین ہے ، اور بندے خدا عَزَّوَجَلَّ  کے بندے ہیں جس نے بنجر زمین کو آباد کیا وہ اس کا مُستحَِق ہے ۔ ‘‘ یہ کہہ کر زمین بَدُّوؤں کو واپس دلادی ۔

(سیرت ابن جوزی ص۱۲۵)

اپنے حکومتی کارِندوں کو بھی اِسی کی تاکید کی

            ان ذاتی کوشِشوں کے ساتھ ساتھ اُمَرا و عُمَّال (حُکومتی ذمّہ داران ) کو بھی ہدایتیں بھیجتے رہتے تھے کہ وہ بھی اسی مُستَعِدی(یعنی تیز رفتاری) کے ساتھ اموالِ مَغصُوبہ اُن کے مالِکان کو واپس دلائیں ۔ چُنانچہ ابو زناد کا بیان ہے : ہمیں عراق میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے لکھا :’’ ہم اہلِ حُقُو ق کو حقوق واپَس دِلادیں ۔ ‘‘ جب ہم نے اس کام کو شروع کیا تو عراق کا بیتُ المال بالکل خالی ہوگیا اور حضرتِ سیِّدُناِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو شام سے روپیہ بھیجنا پڑا ۔ ‘‘(سیرتِ ابن عبدالحکم، ص ۱۰۷) عبدالرحمن بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی کوئی تحریر ایسی نہیں آئی جس میں اَموالِ مغصوبہ کی واپسی، اِحیائے سنت، اِماتتِ بِدعت (یعنی بدعت کے خاتمے ) وغیرہ کی ہدایت درج نہ ہو(سیرتِ ابن جوزی، ص ۱۰۰ ) ، بلکہ ایک بارتو یہ بھی لکھ کربھیجا کہ رجسٹروں کا جائزہ لیں اور قدیم عُمَّال (یعنی حکومتی عہدیداروں ) نے کسی مسلمان یا ذِمّی پر  ظُلم کیا ہو تو اس کا مال واپس کردیں اور اگر وہ خود زندہ نہ ہوں تو اس کے وُرثا کو دے  دیں ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵، ص۲۶۴ )

ٹال مٹول کرنے والے حُکّام سے ناراضی

            جوذمّہ دارانِ حکومت حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے اِس  حُکم میں لَیْتَ وَ لَعَلَّ (یعنی ٹال مٹول) کرتے تھے ، اُن سے بہت ناراض ہوتے تھے ، ’’ عُروَہ ‘‘یمن کے عامل تھے ایک بار انہوں نے اِس معاملہ میں بہت قِیْلَ وَقَالَ (یعنی بحث وتکرار) کی تو ان کو لکھا کہ میں تمہیں لکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے اَموالِ مغصوبہ واپس کردو اور تم اس کے متعلِّق مجھ سے سوال جواب کرتے ہو! حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میرے اور تمہارے درمیان کتنا لمبا سفر ہے ؟اور موت کے آنے کا کچھ پتا نہیں ، اگر میں تمہیں لکھتا ہوں کہ ایک مسلمان کی غَصَب شُدہ بکری واپس کردو تو تم پوچھتے ہو کہ وہ بُھوری ہو یا سیاہ؟جلد از جلد مسلمانوں کا مال واپس کردو اور مجھ سے اِس معاملہ میں غیرضروری خط و کتابت نہ کرو ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۶)

اَدائے حقوق میں اِحتیاط

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے عُمَّال کے نام ایک خط میں لکھا: میں نے پہلے تمہیں لکھا تھا کہ ’’مقبوضہ ‘‘اَموال اُن کے مالکوں کو واپس کردئیے جائیں مگر بعد میں لکھا تھا کہ ابھی روک لئے جائیں اور تیسری بار لکھا تھا کہ واپس کردئیے جائیں ، دَراصل بات یہ تھی کہ بعض لوگوں کی طرف سے خیانتوں اور جھوٹی شہادتوں کی اِطِّلاع مجھے ملی تھی ، اِسی وجہ سے میں نے واپس کئے گئے بعض اَموال اپنی تحویل میں لے لئے تھے کہ جب تک دعویٰ داروں کی طرف سے قابلِ اِعتماد شہادت فراہم نہیں کی جاتی اُنہیں اَموال واپس نہ دئیے جائیں ، لیکن



Total Pages: 139

Go To