Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَسُور کی دال اور پیاز سے پیٹ بھرا

            امیرُ المُؤمنینحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کا معمول تھا کہ عشا کی نَماز سے فارِغ ہو کر کچھ دیر کے لئے اپنی صاحبزادیوں کے پاس تشریف لے جاتے ۔ حسبِ معمول ایک رات اُن کے یہاں گئے تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی آہٹ پاتے ہی انہوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لئے اوراندر کی طرف لپکیں ۔ آپ نے خادِمہ سے اُس کا سبب دریافت کیا، اس نے بتایا کہ ان کے پاس شام کے کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا، مجبوراً انہوں نے ، مَسُور کی دال اورپیاز سے پیٹ بھرا ہے ، ان کو گوارا نہ ہوا کہ آپ کو انکے منہ کی بُو محسو س ہو ۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزرو پڑے اور صاحبزادیوں سے فرمایا :’’ تمہیں ا س سے کیا نفع ہوگا کہ تم رنگا رنگ کے کھانے کھاؤ اورفِرِشتے تمہارے باپ کو پکڑ کر دوزخ میں لے جائیں !‘‘ یہ کہہ کرآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہواپس آگئے اور صاحبزادیوں کی روتے روتے چیخیں نکل گئیں ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۴۹)

جَلا دے نہ مجھ کو کہیں نارِ دوزخ

           کرم بہرِ شاہِ اُمَم یاالٰہی (وسائل بخشش ص۸۳)

            اس حکایت سے ان نادانوں کو عِبرت پکڑنی چاہئیے جو صرف اور صرف اپنے گھر والوں کی فرمائشیں اور ضَرورتیں پوری کرنے کے لئے مالِ حرام کا وَبال اپنے سر لے لیتے ہیں ، ایسوں کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ یہ سَراسر خَسارے کا سودا ہے ، چُنانچِہ

 اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا بدنصیب

            ہمارے پیارے آقا، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:’’ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مؤمن کو اپنا دین بچانے کے لئے ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ اورایک غار سے دوسرے غار کی طرف بھاگنا پڑے گاتواس وقت روزی اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی ناراضی ہی سے حا صل کی جائے گی پھرجب ایسا زمانہ آجائے گا تو آدمی اپنے بیوی بچوں کے ہاتھوں ہلاک ہوگا ، اگر اس کے بیوی بچے نہ ہوں تو وہ اپنے والدین کے ہاتھوں ہلاک ہوگا، اگر اس کے والدین نہ ہوئے تو وہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوگا ۔ ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَان نے عَرض کی:’’یا رسولَ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! وہ کیسے ؟ ‘‘ فرمایا:’’ وہ اُسے مال کی کمی کا طعنہ دیں گے تو آدمی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے کاموں میں مصروف کر دے گا ۔ ‘‘( تو گویا انہیں کے ہاتھوں ہلاک ہوا) (التر غیب والترھیب ، کتاب الادب ، باب فی العزلۃ لمن لایا من ۔ ۔ ۔ الخ رقم۱۶، ج۳، ص ۳۶۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 ذِمّی کو اس کی زمین واپس دلوائی

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے پاس ایک ذِمّی کافر آیااور کہنے لگا: ’’ میں حَمص سے آیاہوں اور آپ سے کتابُ اللّٰہ کے مطابق فیصلہ چاہتا ہوں ۔ ‘‘آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے پوچھا: ’’ تم کس بات کافیصلہ چاہتے ہو؟‘‘کہنے لگا:’’ عباس بن ولیدنے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے ۔ ‘‘ عباس بن ولید بھی اسی مجلس میں موجود تھے ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ان سے پوچھا:’’ عباس! تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘ عباس بن ولید کہنے لگے :’’ حضور !یہ زمین مجھے میرے والد امیر المؤمنین ولید بن عبد الملک نے دی تھی، اُن کی لکھی ہوئی دستاویز میرے پاس موجود ہے ۔ ‘‘حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ذِمّی سے فرمایا: ’’اب تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ عباس کے پاس تو زمین کی ملکیت کی دستاویز ولید بن عبدُالملک کی طرف سے موجود ہے جس کے مطابق یہ زمین عباس کی ملکیت میں ہے ۔ ‘‘ ذِمّی کہنے لگا:’’یاامیرَالمُؤمنین !  میں آپ سے کتاب اللّٰہ کے مطابق فیصلہ چاہتاہوں ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا: ’’ولید بن عبد الملک کی کتاب (یعنی دستاویز) کے بجائے کتاب اللّٰہ زیادہ لائق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔ لہٰذا ، عباس! تم یہ زمین اس ذِمّی کوواپس کردو ۔ ‘‘یوں آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے وہ زمین سابق خلیفہ ولیدبن عبدالملک کے بیٹے عباس سے لے کر اُس ذِمّی کودلوادی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۲۶)

سات زمینوں کا ہار

             دوسروں کی جگہوں پر قبضہ کر کے عمارتیں بنانے والے ، لوگوں کی طرف سے ٹھیکے پر ملی ہوئی زَرعی زمینیں دبالینے والے کِسان، وڈیرے اورخائن زمیندارسنبھل جائیں کہ اگرچہ دنیا میں رشوت اور تعلُّقات کے بَل بوتے پر وہ سزا سے بچنے میں کامیاب ہوبھی جائیں مگر آخِرت میں سخت ذِلّت ورُسوائی کا سامنا ہوگا جیسا کہ سرکارِ نامدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عبرت نشان ہے : ’’مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنْ الْاَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَہُ اللَّہُ إِیَّاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ سَبْعِ اَرَضِینَیعنی جو شخص کسی کی بالِشت بھر زمین ناحق طور پر لے گا تُو اسے قِیامت کے روز سات زمینوں کا طَوق(یعنی ہار) پہنایا جائے گا ۔ (مسلم ، الحدیث ۱۶۱۰ ج ۳ ص۵۶  ) چنانچِہ ایسوں کو گھبراکر جھٹ پٹ توبہ کرلینی چاہئے اور جِن جِن کے حُقُوق دبائے ہیں وہ فوراً اَدا کردینے چاہئیں ۔

دُعا قبول نہ ہوئی

            حضرتِ سیِّدناسفیان ثوریعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکہتے ہیں : بنی اسرائیل سا۷ت برس قحط میں مبتلا رہے یہاں تک کہ مُردوں اور بچوں کو کھانے لگے ، پہاڑوں میں نکل جاتے اور عاجِزی وتضرُّع کے ساتھ دعا مانگتے اور روتے مگر رحمت ِ الٰہیعَزَّوَجَلَّ اُن کے حال پر اصلاً توجہ نہ فرماتی یہاں تک کہ ان کے پیغمبر عَلَیہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر وحی ہوئی: ’’اگر تم میری طرف اس قدر چلو کہ تمہارے گُھٹنے گِھس جائیں اور تمہارے ہاتھ آسمان کو لگ جائیں اور تمہاری زَبانیں دعا کرتے کرتے گُونگی ہو جائیں جب بھی میں تم میں سے کسی دعا مانگنے والے کی دعا قبول نہ کروں اور کسی رونے والے پر رحم نہ فرماؤں ، جب تک مظلوموں کو ان کے حُقُوق واپس نہ کر دیں ۔ ‘‘ پس بنی اسرائیل نے مظلوموں کو ان کے حق واپس کئے ، اسی دن مینہ برسا ۔ (احیاء العلوم ، ج۱، ص۴۰۷ )

اِحساسِ ذمّہ داری نے رُلا دیا

            حضرت سیِّدُنا فُضَیل بن عِیاض رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز بہت روئے جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:لَوْاَنَّ سَخْلَۃً ھَلَکَتْ



Total Pages: 139

Go To