$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بچوں کی امّی پر اِنفرادی کوشِش

            ایک دن امیرُ المُؤمنین خلیفۃُ المُسْلِمِین حضرت سیِّدُناعمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی زوجہ محترمہ نے ان سے عَرض کی:’ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے ۔ ‘‘ تو آپ نے فرمایا :’’توسنئے !جب میں نے دیکھا کہ اِس اُمّت کے ہر سرخ و سفید کی ذمّہ داری میرے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے تومجھے فوراًدُور دراز کے شہروں اور زمین کے اَطراف و اَکناف میں رہنے والے بھوک کے مارے ہو ئے فقیروں ، بے سہارا مسافروں ، سِتَم رسیدہ لوگوں اور اس قسم کے دوسرے اَفراد کا خیال آیا اور میرے دل میں یہ اِحساس پیدا ہوا کہ قیامت کے دن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے میری رِعایا کے بارے میں باز پُرس فرمائے گا اور اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم ان تمام لوگوں کے حق میں میرے خلاف بیان دینگے ۔ یہ سوچ کر میرے دل پر ایک خوف طاری ہو گیا کہ اللّٰہ  تعالیٰ ان کے بارے میں میراکو ئی عُذر قبول نہیں فرمائے گا اور میں اپنے آقا و مولیٰ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکے حُضُور کسی قسم کی صفائی پیش نہیں کر سکوں گا ۔ یہ سوچ کر مجھے خود پر تَرَس آتا ہے اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں ۔ اِس حقیقت کو میں جتنا یاد کر تا ہوں ، میرا اِحساس اتنا ہی بڑھتا چلا جاتاہے ۔ ‘‘ پھر آپ نے اپنے بچوں کی امّی سے مخاطب ہوکر فرمایا:’’ اب آپکی مرضی ہے اس سے نصیحت حاصل کریں یا نہ کریں ۔ ‘‘(تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۱۹۸ملخصًا)

           میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  وہی ہستی ہیں کہ جس دن آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ مَنصَبِ خلافت پرفائز ہو ئے اُسی دن سے تَن دِہی سے رِعایا کی خدمت میں مصروف ہو گئے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اپنی ذات اور ذہن کو مسلمانوں کی خیرخواہی کے لئے وَقف کر رکھا تھا، اس کے باوجودآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو آخِرت میں گِرِفت کا کسقدراِحساس تھا ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سونے کے انداز کی اِصلاح

            ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی بیٹی یا زوجہ چِت سوئی ہوئی تھیں ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے دیکھا تو اِس طرح لیٹنے سے مَنع فرمایا ۔ اپنی بیٹیوں کوفرمایا کرتے کہ شیطان تمہارے سامنے ہوتا ہے جب تم چِت لیٹو گی تو وہ تم میں بُری خواہش رکھے گا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۷، ۲۹۸)

’’کاش!جنّتُ الْبقیع ملے ‘‘ کے پندرہ حُرُوف کی نسبت سے سونے ، جاگنے  کے 15 مَدَنی پھول

{1} سونے سے پہلے بستر کواچھی طرح جھاڑلیجئے تاکہ کوئی مُوذی کیڑا وغیرہ ہو تو نکل جائے {2}  سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیجئے :   اَ للّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰ ترجَمہ: اے   اللہعَزَّوَجَلَّ ! میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں (یعنی سوتا اور جاگتا ہوں ) ( بُخارِی ج۴ص۱۹۶ حدیث ۶۳۲۵) {3} عَصر کے بعد نہ سوئیں عَقل زائل ہونے کا خوف ہے ۔ فرمانِ مصطفٰی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   : ’’جو شخص عَصر کے بعد سوئے اور اس کی عَقل جاتی رہے تو وہ اپنے ہی کو مَلامت کرے ۔ ‘‘  (مسند  ابی یعلی حدیث ۴۸۹۷ ج۴ ص۲۷۸) {4} دوپہر کوقیلولہ ( یعنی کچھ دیر لیٹنا) مستحب ہے ۔ (عالَمگیری ج ۵ ص ۳۷۶ )  صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں :غالِباً یہ ان لوگوں کے لیے ہوگا جو شبِ بیداری کرتے ہیں ، رات میں نَمازیں پڑھتے ذکرِ الٰہی کرتے ہیں یا کُتب بینی یا مطالعے میں مشغول رہتے ہیں کہ شب بیداری میں جو تکان ہوئی قیلولے سے دَفع ہوجائے گی ۔ (بہارِشریعت حصّہ۶ا ص ۷۹ مکتبۃ المدینہ) {5} دن کے ابتدائی حصے میں سونا یا مغرب و عشاء کے درمیان میں سونا مکروہ ہے ۔ (عالَمگیری   ج ۵ ص ۳۷۶ ) {6} سونے میں مستحب یہ ہے کہ باطہارت سوئے اور{7} کچھ دیرسیدھی کروٹ پر سیدھے ہاتھ کو رخسار (یعنی گال) کے نیچے رکھ کر قبلہ رُو سوئے پھر اس کے بعد بائیں کروٹ پر (اَیْضاً) {8}  سوتے وَقت قَبْر میں سونے کو یاد کرے کہ وہاں تنہا سونا ہوگا سوا اپنے اعمال کے کوئی ساتھ نہ ہوگا{9} سوتے وقت یادِ خدا میں مشغول ہو تہلیل و تسبیح وتحمید پڑھے {یعنیلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ- سُبْحٰنَ اللّٰہ-اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔ کا ورد کرتا رہے } یہاں تک کہ سوجائے ، کہ جس حالت پر انسان سوتا ہے اُسی پر اٹھتا ہے اور جس حالت پر مرتا ہے قیامت کے دن اُسی پر اٹھے گا  (اَیْضاً) {10} جاگنے کے بعد یہ دعا پڑھئے : ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّـذِیْٓ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ۔ ( بخاری ج۴ص۱۹۶ حدیث ۶۳۲۵) ترجمہ: تمام تعریفیں  اللہعَزَّوَجَلَّ  کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے {11} اُسی وَقت اس کا پکا ارادہ کر ے کہ پرہیز گاری وتَقویٰ کرے گا کسی کو ستائے گا نہیں ۔ ( فتاوٰی    عالَمگیری   ج ۵ ص ۳۷۶)  {12} جب لڑکے اور لڑکی کی عمر دس سال کی ہوجائے تو ان کو الگ الگ سُلانا چاہیے بلکہ اس عُمر کا لڑکا اتنے بڑے (یعنی اپنی عمر کے ) لڑکوں یا (اپنے سے بڑے ) مَردوں کے ساتھ بھی نہ سوئے (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص۶۲۹)  {13}میاں بیوی جب ایک چار پائی پر سوئیں تو دس برس کے بچّے کو اپنے ساتھ نہ سُلائیں ، لڑکا جب حدِشَہوت کوپَہنچ جائے تو وہ مَرد کے  حُکم میں ہے ( دُرِّمُختار ج۹ص۶۳۰) {14} نیند سے بیدار ہوکرمِسواک کیجئے {15}رات میں نیند سے بیدار ہوکر تہَجُّد ادا کیجئے تو بڑی سعادت ہے ۔ سیِّدُ المُبَلِّغین، رَحمۃٌ  لِّلْعٰلمِین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشادفرمایا : ’’فرضوں کے بعد افضل نَماز رات کی نَماز ہے ۔ ‘‘(صَحِیح مُسلِم ، ص ۵۹۱ حدیث

$footer_html