Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بلکہ دُور دُور ہوتے ہیں مقصد یہ ہے کہ اگر خاوَند (شریعت کے دائرے میں رہ کر) مشکِل سے مشکِل کام کا بھی حُکم دے تب بھی بیوی اُسے کرے ، کالے پہاڑ کا پتَّھر سفید پہاڑ پر پہنچانا سخت مشکل ہے کہ بھاری بوجھ لے کر سفر کرنا ہے ۔  ( مراٰۃ ج ۵ ص ۱۰۶ )

عورت پر شوہر کا حق

            شوہر کے حُقُوق کا بیان کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : ’’عورت پر مرد کا حق  خاص  اُمورِ مُتَعَلِّقہزَوجِیَّت میں اللہ  ورسولعَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم  کے بعد تمام حُقُوق حتّٰی کہ ماں باپ کے حق سے زائد ہے ان اُمور میں اس کے اَحکام کی اِطاعت اور اُس کے نامُوس کی نگہداشت (یعنی اس کی عزت کی حفاظت ) عورت پر فرضِ اَہَمّ ہے ۔ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمفرماتے ہیں : اگر میں کسی کو غیرِ خدا کے سَجدہ کا  حُکم دیتا تو عورت کو  حُکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ۔ (فتاوٰی رضویہ ج ۲۴ ص ۳۸۰) (ماخوذ از پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۱۱۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

گھروالوں کے خَرچ میں کمی

            امام اوزاعیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں کہ جس وقت حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنے اہل وعِیال کے خَرچ میں کمی کی تو انہوں نے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے تنگی کی شکایت کی ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: میرے پاس اِس قَدَر مال نہیں ہے کہ میں تمہیں اِس سے زیادہ دے سکوں ، اب رہا بیتُ المال تو اس پر تمہارا اُتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے مسلمانوں کا ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۹۰)

اہلیہ کا وظیفہ

            حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہانے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سے اپنے لئے الگ سے سرکاری وظیفہ مقرر کرنے کی درخواست کی تو فرمایا: نہیں ! تمہارے لئے میرا ذاتی مال ہی کافی ہے ۔ عَرض کی: تو پھر آپ پہلے خلفاء سے خود وظیفہ کیوں لیتے تھے ؟ فرمایا: وہ مجھے بغیر محنت کے ملنے والا اِنعام تھا اور اس کا وَبال دینے والوں پر ہے ، اب جبکہ میں خود خلیفہ ہوں تو یہ کام نہیں کروں گا کہ کہیں گناہ گار نہ ہوجاؤں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۸۷)

اُن کی دنیا بنانے کے لئے اپنی آخرت تباہ نہیں کروں گا

            ایک دن کسی نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزسے ان کے گھر والوں کی مُعاشی حالت کے حوالے سے گفتگو کی تو فرمایا:میں نے انہیں مالِ غنیمت سے دوسروں کی طرح اُن کو بھی حصہ دیا ہے ۔ عَرض کی گئی : اِتنی سی رقم میں وہ کیسے گُزارا کریں گے ؟کپڑے کہاں سے خریدیں گے ، گھر آئے مہمانوں کی میزبانی کیونکر کر سکیں گے ؟ تواِرشاد فرمایا:میں اُن کی دُنیا بنانے کے لئے اپنی آخِرت تباہ نہیں کرسکتا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۸۲)

احمق کون؟

             حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مِہران علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنے رُفَقاء سے پوچھا:اَخْبِرُوْنِیْ مَنْ اَحْمَقُ النَّاسِیعنی یہ بتاؤ کہ لوگوں میں سے زیادہ اَحمَق کون ہے ؟ کہنے لگے : رَجُلٌ بَاعَ آخِرَتَہ ٗبِدُنْیَاہُ یعنی وہ شخص جس نے اپنی آخِرت دنیا کے بدلے بیچ دی ۔ فرمایا : اَلَااُنَبِّئُکُمْ بِاحْمَقَ مِنْہُ یعنی کیا میں تمہیں ایسے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو اس سے بڑھ کر اَحمَق ہے !عَرض کی :بَلٰی یعنی کیوں نہیں ۔ فرمایا:رَجُلٌ بَاعَ آخِرَتَہٗ بِدُنْیَا غَیْرِہٖ یعنی وہ شخص جس نے دوسروں کی دنیا کے بدلے اپنی آخِرت بیچ ڈالی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۶)

بُرا سودا

            دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نَوالصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’اِنَّ مِنْ شَرِّالنَّاسِ عِنْدِ اللّٰہِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَبْداً اَذْہَبَ آخِرَتَہُ  بِدُنْیَا غَیْرِہٖ یعنی لوگوں میں سب سے بُرا اوربَدتَر ٹھکانا اس شخص کا ہے جو دوسرے کی دنیاکی خاطر اپنی آخِرت برباد کر دے ۔ ‘‘(المعجم الکبیر ج۸ ص۱۲۳ ، الحدیث۷۵۵۹)

            اپنے گھر والوں کو حرام کما کر کھلانے والوں کو سنبھل جانا چاہئے کہ میدانِ محشرمیں کہ جہاں ایک ایک نیکی کی سخت حاجت ہوگی ، یہی ’’اپنے ‘‘ اس سے کیا سُلوک کریں گے ؟ چُنانچِہ

 قیامت کے دن اہل و عِیال کا دعویٰ

            مَروِی ہے کہ مرد سے تعلُّق رکھنے والوں میں پہلے اس کی زوجہ اور اس کی اولاد ہے ، مگریہ سب (یعنی بیوی ، بچے قیامت میں ) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں عَرض کریں گے : ’’اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ!ہمیں اس شخص سے ہمارا حق لے کر دے ، کیونکہ اس نے کبھی ہمیں دینی اُمور کی تعلیم نہیں دی اور یہ ہمیں حرام کھلاتاتھاجس کا ہمیں عِلم نہ تھا ۔ ‘‘ چنانچہ اس سے ان کا بدلہ لیا جائے گا ۔ ‘‘ایک اورروایت میں ہے کہ ’’بندے کو میزان کے پاس لایاجائے گا، فرشتے پہاڑ کے برابر اس کی نیکیاں لائیں گے تو اس سے ا س کے عِیال کی خبر گیری اور خدمت کے بارے میں سوال ہوگا اور مال کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ کہاں سے حاصل کیا ؟اور کہا ں خَرچ کیا ؟حتی کہ اُس کے تمام اعمال اُن مطالبات میں خَرچ ہو جائیں گے اور اس کے لئے کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی ، اس وقت فرشتے آواز دیں گے :’’ یہ وہ شخص ہے جس کی نیکیاں اس کے اہل و عِیال لے گئے اور وہ اپنے اَعمال کے ساتھ گِروِی ہے ۔ ‘‘(قوت القلوب، باب ذکر التزویج الخ، ج۲ ص۴۷۸، ۴۷۹)

ہماری بگڑی ہوئی عادتیں نکل جائیں                                      ملے گناہوں کے اَمراض سے شِفا یا رب

رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزَن ہر دَم                             کریں نہ رُخ مرے پاؤں گناہ کا یارب

(وسائلِ بخشش ، ص۹۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 139

Go To