Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اے دنیا! ہم دھوکے میں رہے

            جب حضرت عبدالعزیز بن مَروان علیہ رحمۃُ الحنّان کی وفات کا وَقت قریب آیا تو فرمایا:’’مجھے وہ کَفَن دکھاؤ جس میں تم مجھے کفناؤ گے ۔ ‘‘ جب کَفَن سامنے آیا تو اُسے دیکھ کر فرمانے لگے :میرے اتنے سارے مال میں صِرف یہ میرے ساتھ جائے گا ! اور منہ پھیر کر رونے لگے پھر فرمایا:اے دُنیا! تجھ پر افسوس ہے کہ تیرا مال اگر بہت زیادہ ہوتو کم پڑتا ہے اور اگر تھوڑا ہوتو کافی ہوجاتاہے ، آہ ! ہم تیری طرف سے دھوکے میں رہے ۔ (درمنثور ج۴ص۱۹۳) ؎

مِرے دل سے دنیا کی چاہت مٹا کر

                  کر اُلفَت میں اپنی فنا یاالٰہی(وسائل بخشش ص۷۸)

خواب میں والدِگرامی کی زِیارت

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزفرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والدمحترم کو ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا کہ ایک باغ میں چہل قدمی کر رہے ہیں ، میں نے پوچھا:اَیُّ اْلَاعْمَالِ وَجَدتَّ اَفْضَلَ؟ یعنی آپ نے کس عمل کو افضل پایا؟ فرمایا:’’ اِستِغفَارکو ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۲۸۷)

دِلوں کے زنگ کی صفائی

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمارے مَدَنی آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   نے  کئی مرتبہ اِستِغفَار کی فضیلت بیان فرمائی ہے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنااَنَس  رضی اللّٰہ   تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ النَّبِیِّین،  صاحِبِ قراٰنِ مُبین، جنابِ صادِق وامینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ دلنشین ہے :اِنَّ لِِلْقُلُوْبِ صَدَاءٌ کَصَدَاءالْحَدِیْدِوَجَلاؤُہَاالْاِسْتِغْفَارُبیشک لوہے کی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی صفائی اِستِغفَار کرنا ہے ۔   ( مَجْمَعُ الزَّوَائِد ج۱۰ ص۳۴۶ حدیث۱۷۵۷۵) ؎

ہر خطا تُو دَرگزر کر بیکس و مجبور کی

                             یاالہٰی! مغفِرت کر بیکس و مجبور کی(وسائل بخشش ص۷۶)

 والدہ محترمہ

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی والدہ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ  عاصم رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہا   حضرت سیِّدُنا عاصم بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ   کی صاحبزادی اور امیرُالمُؤمنینحضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی پوتی تھیں ، اس لحاظ  سے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العَزِیزکی رَگوں میں فاروقی خون تھا، شایداِسی وجہ سے آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہکے کردار واَطوار پر حضرت سیِّدُنا عمرفاروق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا گہرا اَثر دکھائی دیتا ہے ۔

خوش نصیب مُبَلِّغَہ حضرتِ فاروقِ اعظم  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی بہو کیسے بنیں ؟

            حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العَزِیزکی نانی جان کا امیرُ الْمُؤمِنِین ، اِمامُ الْعَادِلین، حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکی بہو بننے کا واقعہ بھی بہت دِلچسپ ہے ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنی رِعایا کی خبر گِیری وحاجت رَوائی کے لئے اکثر رات کے وَقتمدینۂ منوَّرہ  زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً کا دَورہ فرمایاکرتے تھے کہ کہیں کوئی مصیبت زَدہ یا مظلوم مدد کا مُنتظِر تو نہیں ۔ حضرت سیِّدُنااسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکا بیان ہے کہ ایک رات میں بھی مَدَنی دورے میں امیرالمؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکے ہمراہ تھا ۔ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہتھک کرایک جگہ بیٹھ گئے اور ایک مکان کی دیوار سے ٹیک لگا لی ۔ اچانک ایک آواز سنّاٹے کو چِیرتی ہوئی آپ کے کانوں سے ٹکرائی ، بظاہر وہ کُھسَر پُھسَر ہی تھی مگر ماحول کی خاموشی کی وجہ سے صاف سُنائی دے رہی تھی ۔ اسی گھر میں ایک عورت اپنی بیٹی کو بیدار کرتے ہوئے کہہ رہی تھی:’’ بیٹی !اُٹھو اوردودھ میں تھوڑا ساپانی ملادو ۔ ‘‘ کچھ وقفے کے بعدلڑکی کی آواز سنائی دی :’’امی جان!کیاآپ کو معلوم نہیں کہ امیرُالْمُؤمِنِین نے یہ اِعلان کروایا ہے کہ کوئی بھی دودھ میں پانی نہ ملائے ۔ ‘‘ ماں نے کہا: اس وَقت امیرُالْمُؤمِنِین اور اِعلان کرنے والے تمہیں کہاں دیکھ رہے ہیں ! جاؤ اور دودھ میں پانی ملادو ۔ ‘‘مگربیٹی صاف اِنکار کرتے ہوئے کہنے لگی : امی جان! اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی قسم !یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا کہ میں لوگوں کے سامنے تو   امیرُالْمُؤمِنِین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکی اِطاعت گزاری کروں اور تنہائی میں نافرمانی !‘‘ حضرت سیِّدُنا اسلم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  فرماتے ہیں کہ امیرُ الْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے ماں بیٹی کی گفتگو سُن کر مجھ سے فرمایا:’’ اسلم! اِس مکان کو اچّھی طرح پہچان لو ۔ ‘‘ پھر آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ساری رات اسی  طرح  گلیوں میں دورہ فرماتے رہے ، جب صبح ہوئی تو مجھے اُس مکان کے مکینوں (رہنے  والوں ) کی معلومات کیلئے بھیجا ۔ میں نے معلومات کیں تو پتا چلا کہ اس گھر میں ایک بیوہ عورت اپنی کنواری بیٹی کے ساتھ رہتی ہے ، میں نے بارگاہِ خلافت میں حاضِر ہو کر اپنی  کارکَر دَگی پیش کر دی ۔ حضرت سیِّدُنا عمرفاروق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنے تمام بیٹوں  کو جمع کر کے دریافت فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی شادی کرنا چاہتا ہے ؟ حضرت سیِّدُنا  عبدُاللّٰہ اور سیِّدُنا عبدالرحمن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما نے عَرض کی:ـ ’’ہم تو شادی شُدہ ہیں ۔ ‘‘  لیکن تیسرے بیٹے حضرتِ سیِّدُنا عاصِم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  شادی کے لئے راضی ہوگئے ۔  چُنا نچِہ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اُس لڑکی کے گھر اپنے شہزادے سے شادی کے لئے پیغام بھیجا جوقبول کر لیا گیا، شادی خانہ آبادی ہوگئی، اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے کَرَم سے ان کے یہاں ایک خوش قسمت بیٹی پیدا ہوئی ، پھرجب اُس کی شادی ہوئی تواس کے بَطن سے ’’عمرِ ثانی‘‘ یعنی حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العَزِیز کی وِلادت ہوئی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ دودھ میں پانی ملانے سے اِنکار کرنے والی خوش نصیب مُبلِّغہ کو اس نیکی کا کیسا عُمدہ صِلہ ملا کہ ایک طرف   امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی بہواور دوسری جانب  عمرِثانی  امیرُالْمُؤمِنِینحضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی نانی ہونے کا شَرف حاصل ہوا ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو



Total Pages: 139

Go To