Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

پاس کہیں آنے جانے کے لئے کوئی خادِم بھی نہ ہو ۔ ‘‘ لوگ آپس میں مشورہ کرنے لگے ، کچھ دیر بعد حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے خود ہی فرمایا :’’ ہاں ! مجھے یاد آیا، وہ فُلاں بوڑھا جو آنکھوں سے معذور ہے ، وہ بے چارہ برسات کی اندھیری رات میں ٹھوکریں کھاتا ہے ، اس کے پاس کوئی خادم نہیں جو اس کا ہاتھ پکڑ کر یہاں وہاں لے جائے ، اس رقم سے ایک خادِم کی قیمت نکال لو، خادِم درمیانی عمر کا ہو، اتنا بڑا نہ ہو کہ اسے ڈانٹا کرے نہ اتنا کم عمر ہو کہ بوڑھے کی خدمت سے عاجِز ہو ۔ ‘‘ چنانچہ اس رقم سے پینتیس (35) دینار اُس کے لئے نکال لئے گئے ۔ اس کے بعد حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے اس شخص کو بلایا جو آپ کے گھریلواَخراجات کا مُتَوَلِّی(یعنی دیکھ بھال کرنے والا) تھا ۔ اس سے فرمایا :یہ بقیہ دینار لے لواور میرا وظیفہ ملنے تک ہمارے اہلِ و عِیال پر خَرچ کرو ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۴۱)

کیا بات ہے اِیثار کی !

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اپنی ضَروریات وسہولیات پر ایک نابینا مسلمان کی ضرورت کو ترجیح دی اور اس کی خدمت کے لئے غلام خرید کر مہیا کردیا ، ہمیں بھی چاہئے کہ وقتاً فوقتاًایثار کرنے کی سعی کرتے رہا کریں ، سلطانِ دوجہانصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ بخشِش نشان ہے :اَ یَّمَا اِمْرَیئٍ ِاشْتَھَی شَھْوَتَہ ٗ فَرَدَّ وَآثَرَ عَلٰی نَفْسِہٖ غُفِرَ لَہ یعنی جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو، پھر اس خواہش کو روک کر (دوسروں کو) اپنے اوپر ترجیح دے ، تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاِسے بخش دیتا ہے ۔ (اتحاف السادۃ المتقین ج۹ ص ۷۷۹)

اِیثار کی مَدَ نی بہار

            ایک اسلامی بہن کے ساتھ پیش آنے والی ایک مَدَنی بہار مختصراً عَرضِ خدمت ہے :  بمبئی کے ایک عَلاقے میں تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کی طرف سے اسلامی بہنوں کے ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع ( پیر شریف۲۲ صفرُالمظفَّر ۱۴۲۸ھ بمطابق 12.3.2007 ) کے اختِتام پر ایک ذمّہ دار اسلامی بہن کے پاس کسی نئی اسلامی بہن نے اپنی چپّل کی گمشدگی کی شکایت کی ۔ ذمّہ دار اسلامی بہن نے انفِرادی کوشِش کرتے ہوئے اُسے اپنی چپّل کی پیش کش کی وہاں موجود ایک دوسری اسلامی بہن جن کو مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوئے تقریباً سات ماہ ہوئے تھے اُس نے آگے بڑھ کر یہ کہتے ہوئے کہ’’ کیا دعوتِ اسلامی کی خاطِر میں اتنی قربانی بھی نہیں دے سکتی!‘‘ باصرار اپنی چپّلیں پیش کر کے اُس نئی اسلامی بہن کوقَبول کرنے پر مجبور کر دیا اور خودپابَرَہْنہ (یعنی ننگے پاؤں ) گھر چلی گئی ۔ رات جب سوئی تو اُس کی قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی ! کیا دیکھتی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنا چاند سا چِہرہ چمکاتے ہوئے جلوہ فرما ہیں نیز ایک مُعَمَّر(مُ ۔ عَمْ ۔ مَر) مبلِّغ دعوتِ اسلامی سر پر سبز سبزعمامہ شریف سجائے قدموں میں حاضِر ہیں ۔ سرکارِ مدینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے لَبہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی رَحمت کے پھول جَھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے :چَپَّل اِیثار کرتے وَقت تمہاری زَبان سے نکلے ہوئے الفاظ’’ کیا دعوتِ اسلامی کی خاطِر میں اِتنی قربانی بھی نہیں دے سکتی! ‘‘ ہمیں بَہُت پسند آئے ۔ (علاوہ ازیں بھی حوصلہ افزائی فرمائی )  (ماخوذ ازپُراسرار بھکاری، ص۲۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

30ہزار درہم بیتُ المال میں جمع کروا دئیے

            ایک مرتبہ بحرین سے 30ہزار درہم حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خدمت میں اَخراجات کے لئے بھیجے گئے ، جب آپ کو اطلاع ہوئی تو اپنے خادمِ خاص  مُزاحِم سے فرمایا: اِس مال کو بیتُ المال میں جمع کروا دو ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۲۱ملخصًا)

خلیفہ کی اہلیہ کے زیورات

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے اپنی اہلیہ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہاسے فرمایا :’’ تمہیں اپنے اِن زیورات کا حال معلوم ہے کہ تمہارے والد نے یہ کس طرح حاصل کئے اور پھر کس طرح تمہیں دیئے ؟ اگر تم اجازت دو تو میں انہیں ایک صندوق میں بند کرکے تالا لگا کر بیتُ المال کے آخری گوشے میں رکھ دوں ، اگر اس سے پہلے بیت المال کا سارا مال خَرچ ہوجائے تو اسے بھی خَرچ کر ڈالوں گا اوراگر اسے خَرچ کرنے سے پہلے ہی میرا اِنتقال ہوجائے تو تمہیں یہ مل ہی جائیں گے ۔ ‘‘ (یعنی بعد کا خلیفہ تمہیں واپس کر ہی دے گا ۔ ) زوجہ نے سعادت مندی سے کہا :’’ جیسی آپ کی رائے ہو، میری طرف سے اِجازت ہے ۔ ‘‘ چنانچہ آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے زیورات بیتُ المال میں رکھوا دئیے ، یہ زیورات ابھی بیتُ المال ہی میں موجود تھے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کا وِصال ہوگیا بعد میں حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا کے بھائی یزید بن عبدُالملک خلیفہ ہوئے تو یہ زیورات اُنہیں واپس  کرناچاہے مگر انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کردیا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ میں ان کی زندگی میں زیورات سے دَستبردار ہوجاؤں اور انکی وفات کے بعد واپس لے لوں ۔ ‘‘ چنانچہ خلیفہ نے یہ زیورات گھر کی دوسری عورتوں میں تقسیم کردیئے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۳)

            اِس حکایت میں شادی شدہ اسلامی بہنوں کے لئے دَرسِ عظیم بھی پوشیدہ ہے کہ نازونِعَم سے پلی شہزادی حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا نے شوہر کے  حُکم پرآئیں بائیں شائیں کئے بغیر اپنے زیورات بیتُ المال میں جمع کروادئیے اور پھر واپس کرنے پر بھی دوبارہ قَبُول نہیں کئے ۔

سیاہ کو سفید اور سفیدکو سیاہ کردو

        فرمانِ مصطَفٰیصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم ہے : اگر شوہَر اپنی عورت کو یہ  حُکم دے کہ وہ زَرد رنگ کے پہاڑ سے پتھر اٹھا کر سیاہ پہاڑ پر لے جائے اور سیاہ پہاڑ سے پتھر اٹھا کر سفید پہاڑ پر لے جائے  تو عورت کو اپنے شوہر کا یہ  حُکم بھی بجا لانا چاہئے ۔ ( مُسنَد اِمام احمد  ج۹ ص ۳۵۳حدیث۲۴۵۲۵)

            مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یہ فرمانِ مبارک مُبالَغے کے طور پر ہے ، سیاہ وسفید پہاڑ قریب قریب نہیں ہوتے



Total Pages: 139

Go To