Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آمدنی کم ہو گئی

            حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے صاحبزادے حضرت عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدیر سے دریافت کیا گیا: ’’آپ کے والد کی آمدنی کتنی تھی؟‘‘ انہوں نے جواب دیا:’’ خلافت سے قَبل چالیس ہزار دینار تھی لیکن اِنتقال کے وقت’’ 400 دینار‘ ‘رہ گئی تھی اوراگر کچھ دن مزید زندہ رہتے تو شاید اس سے بھی کم ہو جاتی ۔ ‘‘(تاریخ الخلفاء ، ص ۱۸۷)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز خلافت کے اعلیٰ ترین مَنصَب پر پہنچے تو ان کی آمدنی پہلے سے کم ہوگئی مگر آج مَنصَب وعہدے کو اپنی آمدنی بڑھانے کا آسان ذریعہ تصوّر کیا جاتا ہے اور عذاباتِ آخِرت کو بھول کر زیادہ سے زیادہ مال کمانے کے عجیب وغریب طریقے اپنائے جاتے ہیں حالانکہ اِدھرانسان کی آنکھیں بندہوئیں اُدھر مال کا ساتھ خَتم! کتنی پریشان کُن بات ہے کہ انسان دُنیا سے پُھوٹی کَوڑی تک بھی اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا مگر حساب اُسے سارے مال کا دینا پڑے گا حالانکہ وہ مال اس کے وارِث استعمال کرتے ہیں ، کسی بُزرگ کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہ اس نے بہت مال جمع کر لیا ہے تو انہوں نے دریافت فرمایا:کیا اس کو خَرچ کرنے کے لئے اَیّام بھی جمع کر لئے ہیں ؟‘‘(منہاج القاصدین) یقینایہ بے وفا دنیا نہ پہلے کسی کی ہو ئی نہ اب ہو گی، اِس دنیا کے مال و اَسباب کے پیچھے ہم کتنا ہی دوڑیں یہ پیٹ بھر نے والا نہیں ہے جیسا کہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’اگر انسان کو سونے کی دو وادیاں مل جائیں تو وہ تیسری کی تمنّا کرے گا ، انسان کا پیٹ تو مٹی ہی بھر سکتی ہے ۔ ‘‘(بخاری ، کتاب الرقاق، ج۴، ص۲۲۹، رقم: ۶۴۳۶) اکثر لوگ اپناوقت اور صلاحیتیں محض دنیا کمانے میں صَرف کر تے ہیں حالانکہ دنیا کی حقیقت تو یہ ہے کہ محنت سے جوڑنا ، مَشَقَّت سے سنبھالنا اورحَسرَت سے چھوڑنا  ۔

پیچھے کیا چھوڑا؟

            حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ   رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَرفُوعاً مَروِی ہے :’’جب کوئی شخص مر جاتا ہے توفِرِشتے کہتے ہیں :مَا قَدَّمَ یعنی اِس نے آگے کیا بھیجا ؟اورلوگ پوچھتے ہیں : مَا خَلَّفَ یعنی اِس نے پیچھے کیا چھوڑا ؟‘‘(شعب الایمان ، الحدیث ۱۰۴۷۵، ج۷، ص۳۲۸)

             مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’یعنی مرتے وقت اُس کے وارِثین تو چھوڑے ہوئے مال کی فِکر میں ہوتے ہیں کہ کیا چھوڑے جارہا ہے ؟اور جو ملائکہ(یعنی فِرشتے ) اس کی قَبضِ رُوح وغیرہ کے لیے آتے ہیں وہ اُس کے اَعمال و عقائد کا حساب لگاتے ہیں ۔ ‘‘ (مراٰۃ المناجیح ، ج۷، ص۴۸)

نہ دے جاہ وحَشمت نہ دولت کی کثرت

        گدائے مدینہ بنا یاالٰہی(وسائل بخشش ص۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مال قبول نہ فرماتے

            عمر بن اسد کہتے ہیں کہ لوگ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے پاس بہت سا مال لے کر آتے مگر آپ لینے سے اِنکار فرما دیتے ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ عام لوگوں سے بے نِیاز تھے ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۸۸)

زمین سے ملنے والا نفع راہِ خدا میں خرچ کردیا

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے ایک مرتبہ فرمایا: ’’میں نے ہر چیز مسلمانوں کے بیتُ المال میں داخل کردی ہے ، البتہ ’’ چشمہ سُوَیدا‘‘ میرا اپنا ہے ، وہاں میری کچھ چَٹیَل(یعنی ویران وبے آباد) زمین تھی جس کی ایک بالِشت میں بھی کسی مسلمان کا حق نہیں تھا ، پھر جو وظیفہ مجھے عام مسلمانوں کے ساتھ ملتا ہے اِس رقم سے میں نے وہ زمین کاشت کرائی ہے ۔ ‘‘جب اس زمین کا غلہ آیا جس کی مالیت 200 دینار اور ایک بوری ’’صیہانی‘‘ اور’’ عَجوہ‘‘ کھجور تھی تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا : لاؤ! یہ عجوہ کھجور اِن حضرات (یعنی حاضرین مجلس) کے سامنے پیش کرو، یہ بڑی فَرحَت اَفزا اور صحت بَخش ہے ۔ ‘‘ جب گھر کی عورتوں نے سنا کہ آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکے پاس مال آیا ہے تو انہوں نے ایک کم سِن صاحبزادے کو بھیجا کہ اُسے اِس مال میں سے کچھ عنایت فرمایا جائے ۔ مَدَنی منّا آیا تو آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا :’’ اِسے مٹھی بھر کھجوریں دے دو ۔ ‘‘ کھجوریں لے کر بچہ تو خوشی خوشی چلا گیا، مگر جب عورتوں کے پاس پہنچا اور انہوں نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھ میں صرف کھجوریں ہیں تو اس سے کہا :’’جاؤ! یہ کھجوریں اُنہی کے سامنے ڈال دو ۔ ‘‘ مَدَنی مُنّا آیااور کھجوریں آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکے سامنے ڈال دیں اور دیناروں کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے ولید بن ہشام سے فرمایا : ولید! اس کا ہاتھ پکڑ لو ۔ ولید نے بچے کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس کے لیے طویل دُعا کی، جس میں یہ بھی تھا: ’’اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ عَاِلمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ بَغِّضْ اِلٰی ھٰذا الْغُلَامِ ھٰذا الذَّھَبَ کَمَا حَبَّبْتَھَا اِلٰی فُلَانِ بْنِ فُلاَنٍ یعنی  یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے !اے غیب اور ظاہر کو جاننے والے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !یہ مال اس بچے کے لیے اُسی طرح مَبغُوض (یعنی ناپسند) بنادے جس طرح فلاں شخص کے لئے اِس کو محبوب بنایا ہے ۔ ‘‘دُعا سے فارغ ہو کر فرمایا :’’ ولید ! اب اس کا ہاتھ چھوڑ دو ۔ ‘‘ مَدَنی مُنّے کا ہاتھ کانپنے لگا اور اس نے ایک دِینار کو بھی ہاتھ نہیں لگایا ۔ یہ دیکھ کر ایک شخص نے عَرض کی:’’امیرُ المُؤمنین! لگتا ہے کہ آپ کی دعا قبول ہوگئی ۔ ‘‘

            اِس کے بعدحضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے فرمایا: ان دو سو دینار کی زکوٰۃ نکالو ۔ جو شخص یہ مال لے کر آیا تھا اس نے عَرض کی: امیرُ المُؤمنین! اِس باغ کا عُشر ادا کیا جاچکا ہے ۔ مگر آپ نے زکوٰۃ الگ کرنے پر اِصرار فرمایا تو زکوٰۃکے پانچ دینار الگ کردیئے گئے ۔ پھرآپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا: ’’کوئی ایسا شخص بتاؤ جو آنکھوں سے معذور ہو اور اُس کے



Total Pages: 139

Go To