Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

‘‘اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  فرمائے گا:’’تو نے میرے عطا کردہ مال کے ساتھ کیا کیا؟‘‘ وہ عَرض کرے گا:’’ یا رب عَزَّوَجَلَّ   !میں نے اسے تیر ی طا عت (یعنی عبادت) میں خَرچ کیا اور مو ت کے بعد اپنے بچو ں کے لئے تیر ی عطا پر بھر وسہ کیا ۔ ‘‘ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  فرمائے گا:’’اگر تو حقیقت جا ن لیتا تو رو تا کم اور ہنستا زیادہ، تونے جو بھروسہ کیا تھا میں نے تیر ی اولاد کے ساتھ وہی معا ملہ کیا ۔ ‘‘(المعجم الاوسط، باب العین، رقم ۴۳۸۳، ج ۳، ص ۲۱۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

انگوٹھی کا نگینہ بھی واپس کردیا

             جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے زمینیں اور جائیدادیں اُن کے حقداروں کو واپس کرنا شروع کیں تو فرمایا: مجھے اپنے آپ سے اِبتداء کرنی چاہئے ۔ پھر اپنی ساری زمینوں اور مال ودولت پر غور کرنا شروع کیا ، جو بھی چیزمُشتَبَہ دکھائی دیتی واپس کرتے چلے جاتے یا بیتُ المال کے حوالے کردیتے ، اسی دوران آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی نگاہ اپنے ہاتھ کی انگوٹھی کے نگینے کی طرف گئی تو فرمایا: ’’یہ مجھے ولید نے دیا تھا ۔ ‘‘اور اس کو بھی بیتُ المال میں جمع کروادیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۳۲)

خیبر کی جاگیر

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے اپنی تمام جاگیروں کی دستاویزات چاک کردی تھیں ، البتہ ’’خیبر‘‘ اور’’ سُوَیدَاء ‘‘کی دو جاگیریں ابھی باقی تھیں ، آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے خیبر کی جاگیر کے بارے میں تحقیقات کی کہ میرے والد کو یہ کیسے ملی ؟ انہیں بتایا گیا کہ دراصل فتحِ خیبر کے بعد رسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے یہ اَراضی اپنی ضروریات کے لیے مخصوص فرمائی تھی، پھرآپ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم اس کو مسلمانوں کے لئے ’’فَے ‘‘ بنا کر چھوڑ گئے ، ہوتی ہوتی  یہ مَروان کے پاس پہنچی، مَروان نے آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے والدِ ماجد کو عطا کی اور اُن سے آپ کو ملی ۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے اس کی دستاویز بھی چاک کر ڈالی اور فرمایا :میں اِس کو اُسی حالت میں چھوڑتا ہوں جس حالت میں رسولُ اللّٰہ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم اسے چھوڑ کر گئے تھے (یعنی مالِ فَے کے طور پر) ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۳۰)

اپنی دولت راہِ خدا میں خرچ کردی

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے خلیفہ بننے کے بعد اپنے پاس کوئی ایسی زمین نہیں رہنے دی جس پر کسی کا مطالبہ بنتا ہو، اس کے بعد آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اپنی ساری زمینیں ، غلام ، کنیزیں ، لباس ، عِطر اور دیگر سامان بیچ ڈالا ، جس کی قیمت 23ہزار دینار ملی، آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے وہ ساری رقم راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں خَرچ کردی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۴)

خلیفہ کا یومیہ وظیفہ

            آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کوگھریلو اَخراجات کے لئے دو دِرہم روزانہ وظیفہ ملا کرتا تھا چاہے غلہ سَستا ہویا مہنگا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۴)

اپنے کھانے کی رقم سرکاری مَطبَخ (یعنی باورچی خانے ) میں جمع کرواتے  

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے سامنے کھانا پیش کیا گیا مگر آپ یُونہی بیٹھے رہے ، چُنانچِہ وہاں پر موجود لوگوں نے بھی نہ کھایا ۔ جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے پوچھا :تم لوگ کھاناکیوں نہیں کھارہے ؟ عَرض کی :اس لئے کہ آپ نہیں کھارہے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ذاتی رقم سے دودِرہم منگوائے اور کھانے کی قیمت سرکاری مَطبَخ(یعنی باورچی خانے ) میں جمع کروائی اور کھانا شروع کیا ، اب حاضِرین نے بھی کھانا کھا لیا ۔ اس کے بعدسے آپ روزانہ دودِرہم اپنے کھانے کے جمع کرواتے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۹۱)

بیتُ المال سے کبھی ناحق مال نہیں لیا

            حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہ الغفّار فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے مرتے دَم تک کبھی بیتُ المال سے ناحق کوئی شے نہیں لی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۶)

گورنروں کی بیش قیمت تنخواہ اور حضرت عمر کی تنگ دَستی

             حضرت ابن ابی زکریا رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عَرض کی :’’ یاامیرَالمُؤمنین ! میں آپ سے کچھ عَرض کرنا چاہتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’کہئے ۔ ‘‘عَرض کی :’’ میں نے سناہے کہ آپ اپنے ایک ایک گورنر کو دو یاتین سو دینار بلکہ اِس سے بھی زائد تنخواہ دیتے ہیں ۔ ‘‘  آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس کی وضاحت کی :’’ میرا مقصد یہ ہے کہ انہیں کتاب وسنّت پر عمل کرنے میں آسانی رہے اور وہ فکرِ مَعاش سے آزاد ہوکر کام کریں ۔ ‘‘ عَرض کی :’’ امیر المومنین! پھر توآپ اس کے بدرجہ اَولیٰ مُستَحِق ہیں کیونکہ آپ اُن سے کہیں زیادہ کام کرتے ہیں ، آپ بھی ان کے برابر وظیفہ لیجئے تاکہ آپ کے گھر والے بھی مُعاشی طور پر خوشحال ہوسکیں ۔ ‘‘ یہ سن کر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا:’’اللّٰہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے ، تم نے یہ مشورہ یقینا میری خیر خواہی میں دیا ہے ۔ ‘‘پھر پیٹ کی طرف اِشارہ کرکے فرمایا :’’ اِس کی پَروَرِش سرکاری مال سے ہوئی ہے ، جو کھا چکا وہی کافی ہے ، اب میں دوبارہ کبھی سرکاری مال سے اس کی ضِیافت نہیں کروں گا ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۱۹۲)

ذاتی منافع بھی بیتُ المال میں جمع کروا دیا

            ایک بار گھر میں ضَروریاتِ مَعاش کے لیے کچھ نہ تھا، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے غلام  مُزاحِم سخت پریشان ہوئے کہ کیا اِنتظام کیا جائے ؟ مجبوراً ایک شخص سے پانچ دینار قرض لئے ۔ جب یمن کی جائیداد کا منافع آیا تو وہ نہایت خوش ہو ئے کہ اب قَرض ادا ہوجائے گا ۔ یہ سوچ کر گھر میں گئے مگر تھوڑی ہی دیر بعدحیرانی کی حالت میں سر پر ہاتھ رکھے باہر نکلے اور کہنے لگے : اللّٰہعَزَّوَجَلَّ امیر المومنین کو اَجر دے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  امیر المومنین کو اَجر دے ، جنہوں نے اپنی ذاتی رقم بھی بیتُ المال میں جمع کروا دی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۹۴)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو

 



Total Pages: 139

Go To