Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَنصَبِ رِسالت اور مَنصَبِ خِلافت میں فرق

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک مرتبہ خُطبَہ دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا : لوگو! رسولِ اکرم نورِ مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کوئی نبی نہیں ، نہ ہی کتاب اللّٰہ کے بعد کوئی کتاب ہے ، جو چیزیں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے اپنے نبی محترمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زَبان سے حلال ٹھہرادیں وہ قیامت تک حلال رہیں گے اور جو حرام ٹھہرا دیں وہ قیامت تک حرام رہیں گی ۔ خوب سمجھ لو! میں خود سے فیصلہ کرنے والا نہیں بلکہ اللّٰہ ورسولعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فیصلوں کواللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی خاطر نافِذ کرنے والا ہوں ، میں کوئی نیا راستہ نہیں نکالوں گابلکہ پہلوں کے راستے پر چلوں گا ، سُن لو! اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں ، میں تم سے بہتر نہیں بلکہ تمہیں میں سے ایک فرد ہوں البتہ میری ذمّہ داریاں تم سے زیادہ ہیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۶۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹا دیا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ایک مرتبہ فرمایا: ’’مُزاحِم‘‘ وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے مجھے ایک زبردست نصیحت کی تھی ، ہوایوں کہ میں نے ایک شخص کو قید کیا اوراس کی مقررہ سزا سے زیادہ مدّت قید میں رکھنا چاہاتو  مُزاحِم نے مجھ سے اُس کی رہائی کی بات کی مگرمیں نے کہا: میں اسے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ اس کے جُرم سے زیادہ سزا نہ دے لوں ، تو  مُزاحِم نے کہا: ’’میں آپ کو اُس رات سے ڈراتا ہو ں جس کی صبح میں قِیامت برپا ہوگی ۔ ‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اس نے یہ بات کہہ کر گویا میری آنکھوں سے غفلت کے پردے ہٹا دئیے ۔ ‘‘ پھر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے حاضرین سے فرمایا: ذَ کِّرُوْا اَنْفُسَکُمْ رَحِمَکُمُ اللّٰہ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ یعنی اللّٰہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے ، ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہا کرو کہ سمجھانا مسلمان کو فائدہ دیتا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۶۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے عطا کردہ اس مَدَنی پھول پر عمل پیرا ہونے میں دونوں جہاں کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں ، سورۂ  اٰل عمران میں اِرشاد ہوتا ہے :

وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴)  ۴ سورۃ آل عمران: ۱۰۴)

ترجمۂ کنزالایمان : اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اوربری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچے ۔

بہترین آدمی کی خُصُوصِیّات

            صاحِبِ قراٰنِ مُبین، جنابِ صادِق و امین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک مرتبہ منبرِ اَقدس پر جلوہ فرما تھے کہ ایک صَحابی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے عَرض کی :’’یَارَسُوْلَ اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّملوگوں میں سے سب سے اچّھا کون ہے ؟‘‘ فرمایا: لوگوں میں سے وہ شخص سب سے اچھّا ہے جو کثرت سے قراٰنِ کریم کی تلاوت کرے ، زیادہ مُتقی ہو، سب سے زیادہ نیکی کا  حُکم دینے اور برائی سے مَنع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صِلَۂ رَحمی(یعنی رشتے داروں کے ساتھ اچّھا برتاؤ ) کرنے والا ہو ۔ ( مُسندِ احمد ، ج۴۵ ص۴۲۱ حدیث ۲۷۴۳۴)

عطاہو’’ نیکی کی دعوت‘‘ کا خوب جذبہ کہ

                          دوں دُھوم سنّتِ محبوب کی مچا یاربّ(وسائل بخشش ص۹۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سکیورٹی کے مسائل

            چونکہ خوارِج کے ناگہانی حملوں سے خلفاء کی زندگی غیر محفوظ ہوگئی تھی یہاں تک کہ خلفاء کی حفاظت کے لئے بہت سے حارِسین رکھے جاتے تھے ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز سے بہت سے لوگوں نے کہا : آپ کھانا دیکھ بھال کر کھائیں ، نَماز پڑھیں تو ساتھ ساتھ پہرہ دار رکھیں کہ کوئی شخص حملہ نہ کر بیٹھے ، طاعون میں جیسا کہ تمام خلفاء کا طریقہ تھا کہ باہر نکل جائیں ۔ مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے جواب دیا :بالآخر وہ بھی دُنیا سے چلے گئے ۔ جب لوگوں نے بہت اِصرار کیا تو فرمایا :یا الہٰی عَزَّوَجَلَّ اگر میں روزِ قیامت کے سِوا اور کسی دن سے ڈروں تو میرے خوف میں کمی نہ فرما ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۶)

آرام کا وَقت نہ ملتا

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز   لوگوں کے مسائل حل کرنے میں اس قَدَر مصروف رہتے کہ کبھی کبھار تو آرام کے لئے بالکل وَقت نہ ملتا ۔ ایک دن ظہر کی نَماز سے قَبل بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس ہونے لگی تو کچھ دیر قَیلُولہ(یعنی آرام) کرنے کے لئے کمرے میں تشریف لے گئے ۔ ابھی آ پ لیٹے ہی تھے کہ آپ کے شہزادے حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق حاضِر ہوئے اور عَرض کرنے لگے : ’’یاامیرَالمُؤمنین ! آپ یہاں کیسے تشریف فرماہیں ؟‘‘آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: ’’مجھے مسلسل بے آرامی کی وجہ سے بہت زیادہ تھکاوٹ ہورہی تھی، اس لئے کچھ دیر کے لئے آرام کی غَرَض سے آیاہوں ۔ ‘‘ صاحبزادے نے عَرض کی: ’’حضور! لوگ آپ کے منتظِر ہیں ، مَظلُوم اپنی فریاد یں لے کر حاضِر ہیں اور آپ یہاں آرام فرمارہے ہیں ۔ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:’’میں ساری رات نہیں سوسکا اب تھوڑی دیر آرام کرکے ظہر کے بعد لوگوں کے مسائل حل کروں گا ۔ ‘‘ شہزادے نے بڑے اَدَب سے عَرض کی : ’’یا امیرالمؤمنین! کیاآپ کویقین ہے کہ آپ ظہر تک زندہ رہیں گے ؟آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جب اپنے لختِ جگر کافکرِ آخِرت سے بھرپوریہ جملہ سنا تو شہزادے کو قریب بلایا ، اُن کی پیشانی کوبوسہ دیا اور فرمانے لگے : ’’تمام تعریفیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے لئے ہیں جس نے مجھے ایسی اولاد عطافرمائی جودین کے معاملہ میں میری مدد کرتی ہے ۔ ‘‘ پھرآپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  آرام کئے بغیر فوراً



Total Pages: 139

Go To