Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اپنے والدکی توقیر، بھائیوں کا اِکرام اور اولاد پر شفقت اِختیار کیجئے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عَدل کس طرح کروں ؟

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے حضرت محمد بن کَعب رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہسے ایک مرتبہ پوچھا کہ ’’مجھے عَدل واِنصاف کے بارے میں بتائیے ۔ ‘‘ انہوں نے فرمایا:’’آپ چھوٹوں کے لئے باپ کی جگہ، بڑوں کے لئے بیٹے کی اور اپنے ہم عمروں کے لئے بھائی کی جگہ ہیں ، لوگوں کواُن کی خطاؤں اور جسمانی طاقت کے مطابِق سزا دیجئے ، کسی کو اپنی ناراضی کی وجہ سے ایک بھی کوڑا نہ مارئیے کیونکہ اس وقت آپ ظالِم ٹھہریں گے ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی، ص ۱۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کیسی پیاری نصیحت ہے ! اے کاش ہمیں بھی یہ جذبہ نصیب ہوجائے کہ کسی مسلمان کو ہمارے ہاتھ یا زَبان سے تکلیف نہ پہنچے ۔

کامِل مسلمان کون؟

          سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا فرمانِ عظمت نشان ہے : اَ لْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ  یعنیمسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زَبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔  (صَحیح بُخاری ج۱ص۱۵حدیث۱۰)

نیک اورپرہیزگاروں کی صحبت

            جب حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرخلیفہ مقرر ہوئے تو مختلف لوگوں نے آپ کے قریب ہونے کی کوشِش کی مگر آپ صرف نیک اور پرہیزگارلوگوں کو اپنی صحبت میں رکھتے ، جب ایک پرانے دوست کے بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا: تَرَکْنَاہُ کَمَا تَرَکْنَا الْخَزَّ وَالْمُوَشّٰی یعنی ہم نے اُسے  اِسی طرح چھوڑدیا جس طرح ریشم اور نقش ونگار کو چھوڑدیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۹۱)

مجھے خبردار کردینا

            حضرتِ سیِّدُنا ابوحازِم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرمفرماتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز خلیفہ بنے تو فرمایا کہ میرے لئے دونیک اور صالح مرد تلاش کرو ۔ چنانچہ دوحضرات تشریف لے آئے تو اُن سے اِلتجاء کی: آپ میرے ہر ہر کام پر نگاہ رکھئے ، جب مجھے کوئی غَلَط کام کرتے دیکھیں تو مجھے خبردار کردیجئے گا اور رب تعالیٰ کی یاد دِلادیجئے گا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۳)

خود پرمُحاسِب مقرر کیا

            حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن مہاجر رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکابیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے مجھ سے فرمایا: اے عَمرو! جب تم مجھے راہِ حق سے اِدھر اُدھر ہوتے دیکھو تو میرا گِرِیبان پکڑکرجھنجھوڑڈالنا اور کہنا: مَاذَا تَصْنَعُ  یعنی  یہ تم کیا کررہے ہو؟(سیرت ابن جوزی ص۲۰۳)  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

زیادہ مُعاوِنِین نہ تھے

            مختلف بزرگانِ دین رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہم سے مَروِی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی مثال اس ماہِر کاریگر کی ہے جس کے پاس کاریگری کے آلات نہ ہوں مگر وہ بغیر اَوزار کے نہایت عمدہ کام کرے ۔ ( یعنی ان کے پاس کام کو اَنجام دینے کے لئے زیادہ مُعَاوِنین نہیں ہیں مگر پھر بھی اُن کی کارکَر دَگی مِثالی ہے ) (حلیۃ الاولیاء ، ج۵، ص۳۰۸  وسیرت ابن جوزی۸۸)

مُعِین ومددگار

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز   کے گھر کے تین افراد ، آپ کے بھائی’’ سہل‘‘ ، صاحبزادے ’’ عبدالملک‘‘ اور غلام’’  مُزاحِم‘‘ اُمورِ خلافت میں آپ کے خُصُوصی مددگار تھے ۔ یہ تینوں حضرات حق کے نَفاذ میں آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے معاوِن تھے اور تائید وقوّت کا سبب تھے ۔ ایک موقع پر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اِس کا اِظہار اِن الفاظ میں کیا :اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے سہل، عبدالملک اور  مُزاحِم کے ذریعے میری کمر مضبوط کردی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۴۵)

اہلِ حق کی قَدَردانی

            آپ کے ایک بہترین مُصاحِب حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عبداللّٰہرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  تھے ، جو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی زندگی ہی میں فوت ہوگئے تھے لیکن اُن کی محبت امیرالمؤمنین کے دل میں جوش مارتی رہتی تھی ۔ اکثرفرمایاکرتے تھے :اگر حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ حیات ہوتے تو میں ان سے رائے لئے بغیر کوئی سرکاری  حُکم جاری نہ کرتا ، ایک مرتبہ فرمایا:’’کاش مجھے فُلاں فُلاں شے کے بدلے حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی ایک مَجلِس نصیب ہوجائے ۔ ‘‘(سیرتِ ابن جوزی، ص۱۳ ) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نصیحت کرنے والے کا شکریہ ادا کیا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے مَسندِخلافت سنبھالنے کے بعد ایک شخص آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے پاس آیا اور کہا:آپ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے فیصلے پر راضی رہئے اور اُس کے  حُکم کے سامنے جھکے رہئے ، جو کچھ اس کے پاس ہے اِسی کی امید رکھئے کیونکہ اللّٰہ  تعالیٰ کے پاس ہمیشہ کی بھلائی اور مصائب کا بہترین عِوَض ہے ، آپ کو جس چیز کا اندیشہ اپنے سے پہلے خلیفہ



Total Pages: 139

Go To