Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

نہیں بلکہ ہم میں سے ہر ایک سے اپنے ماتحت کے بارے میں سوال ہو گا، چُنانچِہ

ماتَحْتوں کے بار ے میں سُوال ہوگا

            حُضُورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے :’’تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت اَفراد کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ بادشاہ نگران ہے ، اس سے اس کی رِعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ آدمی اپنے اہل وعِیال کا نگران ہے اس سے اس کے اہل وعیال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولادکی نگران ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، الحدیث ۸۹۳، ج۱، ص۳۰۹)

نگرانوں اور ذمّہ داران کے لئے فکرانگیز فرامینِ مصطٰفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(امیرِ اہل ِ سنت مدظلہ العالی کے رسالے ’’مُردے کے صدمے ‘‘سے ماخوذ)

            {1}  مَا مِنْ عَبْدٍ اِسْتَرْعَاہُ اللّٰہُ رَعِیَّۃً فَلَمْ یَحُطْہَا بِنَصِیْحَۃٍ اِلَّا لَمْ یَجِدْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِیعنی جس شخص کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی رِعایا کا نگران بنایا پھر اس نے ان کی خیر خواہی کا خیال نہ رکھا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا ۔ ‘‘ (بخاری، ج ۴ ، ص۴۵۶، الحدیث ۷۱۵۰)

{2}کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْؤُوْلٍ عَنْ رَعِیَّتِہیعنی تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اُس کے ماتَحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ ‘‘ (مجمع الزوائد ج۵ ص ۲۰۷)

            {3} اَ یَّمَا رَاعٍ اِسْتَرْعٰی رَعِیَّۃً فَغَشَّہَا فَہُوَ فِی النَّارِیعنی جو نگران اپنے ماتحتوں سے خِیانت کرے وہ جہنَّم میں جائے گا ۔ ‘‘(مسند امام احمد بن حنبل ج ۷ ص۲۸۴ الحدیث ۲۰۳۱۱)

            {4}"لَیَاْتِیَنَّ عَلَی الْقَاضِی الْعَدْلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سَاعَۃٌ یَتَمَنَّی اَنَّہُ لَمْ یَقْضِ بَیْنَ اثْنَیْنِ فِی تَمْرَۃٍ قَطُّ یعنی اِنصاف کرنے والے قاضی پر قِیامت کے دن ایک ساعَت ایسی آئے گی کہ وہ تمنّا کرے گا کہ کاش ! دو آدمیوں کے درمیان ایک کھجور کے بارے میں بھی فیصلہ نہ کرتا ۔ ‘‘(مسند امام احمد بن حنبل ج ۹ ص۳۵۱ ، الحدیث ۲۴۵۱۸)

            {5}مَا مِنْ اَ مِیرِ عَشْرَۃٍ اِلاَّ یُوْتَی بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُولاً حَتَّی یَفُکَّہُ  الْعَدْلُ اَوْ یُوْبِقَہُ الْجَوْرُ  یعنی جو شخص دس آدمیوں پر بھی نگران ہو قیامت کے دن اسے اس طرح لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہو گا ۔ اب یا تو اس کا عَدل اسے چھُڑائے گا یا اس کا ظُلم اسے عذاب میں مُبتَلاکرے گا ۔ ‘‘ (السنن الکبریٰ للبیھقی ج ۱۰ ص۱۶۴ ، الحدیث ۲۰۲۱۵)

            {6} ( دعائے مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم ) اَللّٰہُمَّ مَنْ وَلِیَ مِنْ اَ مْرِ اُمَّتِی شَیْئًا فَشَقَّ عَلَیْہِمْ فَاشْقُقْ عَلَیْہِ وَمَنْ وَلِیَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِی شَیْئًا فَرَفَقَ بِہِمْ فَارْفُقْ بِہِیعنی’’ یا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! جو شخص میری اُمّت کے کسی مُعامَلے کا نگران ہے پس وہ ان پر سختی کرے تو تُو بھی اس پر سختی فرما اوراگروہ ان سے نَرمی برتے تو تُو بھی اس سے نرمی فرما ۔ ‘‘  (مسلم ، ص ۱۰۱۶ ، الحدیث ۱۸۲۸)

            {7} مَنْ وَلَّاہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ شَیْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِینَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِہِمْ وَخَلَّتِہِمْ وَفَقْرِہِمْ اَحْتَجَبَ اللَّہُ عَنْہُ دُونَ حَاجَتِہِ وَخَلَّتِہِ وَفَقْرِہِیعنی’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ جس کو مسلمانوں کے اُمُور میں سے کسی مُعامَلے کا نگران  بنائے پس اگر وہ ان کی حاجتوں ، مفلِسی اور فَقرکے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بھی اس کی حاجت ، مفلِسی اور فَقر کے سامنے رُکاوٹ کھڑی کرے گا ۔ ‘‘( ابوداوٗد، ج ۳ ص ۱۸۹، الحدیث۲۹۴۸)

            {8}  لَا یَرْحَمُ اللّٰہُ مَنْ لَّا یَرْحَمُ النَّاسَ یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر رَحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رَحم نہیں کرتا ۔ ‘‘(بخاری ، ج۴، ص۵۳۲، الحدیث ۷۳۷۶ )

          {9}اِنَّکُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَی الْإِمَارَۃِ وَسَتَکُونُ نَدَامَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی بے شک تم عَنقریب حُکمرانی کی خواہِش کرو گے لیکن قِیامت کے دن وہ پَشَیمانی کا باعِث ہو گی ۔ اِنَّا لَا نُوَلِّی ہَذَا مَنْ سَأَلَہُ وَلَا مَنْ حَرَصَ عَلَیْہِ یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اس اَمر(یعنی حُکمرانی ) پر کسی ایسے شخص کو مقرَّر نہیں کرتا جو اس کا سُوال کر ے یا اس کی حِرص رکھتا ہو ۔ ( بخاری ، ج۴ ، ص ۴۵۶ ، الحدیث ۷۱۴۸، ۷۱۴۹)

           شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت ، بانیٔ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ تحریر فرماتے ہیں :’’ نگران‘‘ سے مُراد صِرف کسی مُلک یا شہر یا مذہبی وسماجی و سیاسی تنظیم کاذمّہ دار ہی نہیں ۔ بلکہ عُمُوماً ہر شخص کسی نہ کسی حوالے سے نگران ہو تا ہے ، مَثَلاً مُراقِب (یعنی سُپروائزر) اپنے ماتَحت مزدوروں کا، اَفسر اپنے کلرکوں کا، امیرِ قافِلہشُرکائے قافِلہ کا اور ذَیلی مُشاوَرت کا نگران اپنے ما تَحت اسلامی بھائیوں کا وغیرہ وغیرہ ۔ یہ ایسے معاملات ہیں کہ ان نگرانیوں سے فَراغَت مشکل ہے ۔ بِالفرض اگر کوئی تنظیمی ذمّہ داری سے مُستَعفِی ہو بھی جائے تب بھی اگر شادی شُدہ ہے تو اپنے بال بچّوں کا نگران ہے ۔ اب وہ اگر چاہے کہ ان کی نگرانی سے گُلو خَلاصی ہو تو نہیں ہو سکتی کہ یہ تو اسے شادی سے پہلے سوچنا چاہئے تھا ۔ بَہَرحال ہر نگران سخت امتحان سے دوچار ہے مگر ہاں جو اِنصاف کرے اُس کے وارے نیارے ہیں چُنانچِہ اِرشادِ رحمت بُنیاد ہے ، اِنصاف کرنے والے نور کے مِنبروں پر ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں ، گھروالوں اورجن کے نگران بنتے ہیں ان کے بارے میں عَدل سے کام لیتے ہیں ۔ ( نسائی ، ص۸۵۱، الحدیث ۵۳۸۹)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا تحریر سے واضح ہوا کہ ہم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے ، والدین اپنی اولاد کے ، اَساتذہ اپنے شاگردوں کے ، شوہر اپنی بیوی کا ، علی ھذا القیاس ۔ لہذا ! ہمیں چاہئے کہ اپنے اندر ذمّہ داری کا اِحساس پیدا کریں اور عَدل و اِنصاف سے کام لے کرشریعت کے اَحکام کے مطابق اپنی ذمّہ داریاں ادا کریں ۔   [1]

ہم نشینوں کے لئے شرائط

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے لوگوں سے فرمایا: جو  شخص میری صُحبت میں رہنا چاہتا ہے اُسے پانچ باتوں کی پابندی کرنی ہوگی:(۱) عَدل و اِنصاف کی جو صُورتیں ہم سے اَوجھل ہیں اُن کی طر ف ہماری رہنمائی کرے (۲) حق و اِنصاف کے قِیام میں ہماری مدد کرے (۳) جن لوگوں کی ضَرورتیں ہم تک نہیں پہنچ پاتیں ان کی ضَرورتیں ہمیں پہنچائے (۴)



[1]     احساسِ ذمہ داری کو سمجھنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ69 صفحات پر مشتمل کتاب’’احساسِ ذمّہ داری‘‘کامطالعہ بے حد مفید ہے ۔



Total Pages: 139

Go To