Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

شاہی فرامین کو نافِذ کرنا ضروری سمجھتا تھا، خواہ و ہ کتنے ہی ظالمانہ اور مخالفِ حق کیوں نہ ہوں ۔ عین اس حالت میں جب کہ اس کے سامنے لوگوں کو سزائیں دی جاتیں وہ ذِکر و تسبیح اور وظیفہ میں مشغول رہتا اور ساتھ کے ساتھ سزا کے بارے میں ہدایات بھی دیتامثلاً یوں کہتا: ’’اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر !اے لڑکے ! اس کو رسی سے ذرا ٹھیک سے باندھ ‘‘وغیرہ ۔ اس کی اِسی بَدترین حالت کی وجہ سے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے اس کی معزولی کا حُکم تحریر فرمایا ۔ بہرحال یہ اَسباب تھے جن کی بنا پر آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اِن تینوں اُمُور میں فوری فیصلہ ضروری سمجھا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۳۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پہلے سائل کی مدد

            پھر ایک شخص لاٹھی ٹیکتا ہوا آگے بڑھا اور حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے سامنے پہنچ کر کہنے لگا :’’یاامیرَالمُؤمنین !  میں شدید حاجت مند اور فاقوں کا مارا ہواہوں ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  آپ سے میرے یوں آپ کے سامنے کھڑے ہونے کے بارے میں پوچھے گا ۔ ‘‘اِتنا کہنے کے بعد وہ پُھوٹ پُھوٹ کررونے لگا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے دَریافت فرمایا: تمہارے گھر میں کتنے اَفراد ہیں ؟اُس نے عَرض کی:پانچ!میں ، میری بیوی اورتین بچے ۔ چُنانچِہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اُس کے لئے دس دینار وظیفہ مقرر کردیا اورہاتھوں ہاتھ تین سودینار بیتُ المال سے اور200 دیناراپنی جیبِ خاص سے بھی عطا فرمائے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۰ ملخصا)

قَصرِخِلافت میں قیام نہیں فرمایا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزسے پوچھا گیا :کیاآپ قَصرِ خلافت میں قیام فرمائیں گے ؟تو فرمایا: نہیں !ابھی اس میں ابوایو ب(یعنی سلیمان بن عبدالملک) کے گھر والے ہیں ، میرے لئے میرا خیمہ ہی کافی ہے ۔ چنانچہ قَصرِ خلافت خالی ہونے تک حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزاپنے پہلے گھر میں ہی قیام پذیر رہے ۔ (سیرت ابن جوزی۶۲)

سابق خلیفہ کی مخصوص اشیاء بیتُ المال میں جمع کروا دیں

            اُس دور میں یہ عام رواج تھا کہ جب کسی خلیفہ کا اِنتقال ہوجاتا تو اس کے ملبوسات اور عِطر وغیرہ میں سے جو چیزیں اُس کی استعمال شدہ ہوتیں وہ اس کے اہل و عِیال کا حق سمجھی جاتیں اورنئے عِطر اور لباس آنے والے خلیفہ کی نَذ ر کردیا جاتا ۔ سلیمان بن عبدُالملک کے اِنتقال کے بعد اس کے اہلِ خانہ نے سلیمان کی تیل اور خوشبو کی شیشیاں اور کپڑے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے کہا :یہ چیزیں آپ کی ہیں اور وہ ہماری ہیں ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا ’’یہ‘‘ اور’’ وہ ‘‘کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے دَستُور بتایا مگرحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا :یہ ساری چیزیں نہ میری ہیں ، نہ سلیمان کی اور نہ تمہاری، پھر آواز دی:  مُزاحِم! ان کو مسلمانوں کے بیتُ المال میں پہنچاؤ ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۳۴)

خُوبرُو کنیزوں کی پیش کش

            یہ صورتِ حال دیکھ کر سابق اُ مَراء ووُزَرَاء کو اپنی عیش کوشیوں کی بَقا کی فِکر پڑ گئی ، چُنانچِہ وہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے : جو کچھ آج تم نے دیکھا ہے اس کے بعد ہمارے لئے عالیشان سُواریوں ، خیموں ، شامیانوں ، زِینت و آرائش اور فَرش فروش کی توقُّع بے سُود ہے ، اب صرف ایک چیز باقی رہ جاتی ہے اور وہ ہیں کنیزیں !یہ ان کی خدمت میں پیش کرکے دیکھو، ممکن ہے اِنہیں سے تمہاری مُراد بَر آئے ، ورنہ تمہیں اِن ’’صاحِب‘‘ سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیے ۔ چنانچہ حسین وجمیل کنیزوں کو لاکرحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خدمت میں پیش کیا گیامگر آپ ایک ایک سے دریافت کرتے : تم کون ہو ؟ کس کی ہو ؟ اور کس نے تمہیں یہاں بھیجا ہے ؟ہر کنیز بتاتی کہ وہ اصل میں فُلاں کی تھی اور اِس طرح زبردستی پکڑ کر اسے یہاں لایا گیا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے سب کے بارے میں حُکم فرمایا کہ انہیں ان کے مالکوں کو واپس کردیا جائے ، چنانچہ سواری دے کر انہیں ان کے اصل شہروں کی طرف واپس کردیا گیا ۔ جب ان لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے قَطعِی مایوس ہوگئے اورانہیں یقین ہوگیا کہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ لوگوں کو اُن کا حق دلائیں گے اور اِنصاف کا سُلُوک فرمائیں گے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۳۴)

اب تم سے دل چسپی نہیں رہی

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے آزاد کردہ غلام سہل  بن صدقہ کا بیان ہے کہ جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو خلافت ملی تو گھر کے اندر سے رونے کی گُھٹی گُھٹی آوازیں سنی گئیں ۔ دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے اپنی کنیزوں سے فرمایا : مجھ پر ایسے کام کا بوجھ آن پڑا ہے جس نے تم سے میری دلچسپی ختم کردی، اب تمہیں اِختیار ہے کہ جسے آزادی کی خواہش ہو میں اُسے آزاد کردیتاہوں ، اور جو میرے یہاں رہنا چاہے ، خوب سوچ لے کہ اُسے اب مجھ سے کچھ نہ ملے گا ۔ ‘‘ اس لئے وہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہسے نااُمیدہو کر رو رہی ہیں ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۱ وسیرت ابن جوزی ص۷۰)

اِقتدار کے بار سے اَشکبار

            امیرُالمُؤمِنین حضرت سَیِّدُنا عُمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی زَوجۂ محترمہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیھا کا بیان ہے کہ جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ مرتبۂ خِلافت پر فائز ہوئے تو گھر آکر مُصلّے پر بیٹھ کر رونے لگے ، یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارَک آنسوؤں سے تَر ہو گئی، میں نے عَرض کی:’’یاامیرَالمُؤمِنین آپ کیوں روتے ہیں ؟ فرمایا:’’میری گردن پر امّتِ سرکار کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے ، جب میں بھوکے فقیروں ، مریضوں ، مظلوم قیدیوں ، مسافِروں ، بوڑھوں ، بچوں اور عِیالداروں ،  اَلغَرَض تمام دنیا کے مُصیبت زَدوں کی خبر گیری کے متعلِّق غور کرتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کے متعلِّق اللّٰہعَزَّوَجَلَّ بازپُرس فرمائے اور مجھ سے جواب نہ بَن پڑے ! بس یہ بھاری ذِمّہ داری اور فِکر رُلارہی ہے ۔ ( تاریخُ الخلفاء ص۲۳۶)

          اِقتِدار کے نشے میں مَست رہنے والے غور فرمائیں کہ فکرِ آخِرت رکھنے والے حُکّام دُنیوی اقتِدار کے مُعاملے میں کس قَدَر فکرمند ہوتے ہیں ، مگر یاد رہے کہ صِرف حاکم سے ہی



Total Pages: 139

Go To