Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بن عبدالعزیز ‘ ‘اورحضرتِ علامہ عبداللّٰہ  ابنِ عبدالحکم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الاکرمکی کتاب ’’سیرتِ عمر بن عبدالعزیز‘‘ سے لی گئی ہیں یہ دونوں کتابیں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکی سیرت کے حوالے سے ماٰخذ کی حیثیت رکھتی ہیں ، ان کے علاوہ تاریخِ دِمشق، حِلیۃُ الاولیاء، طبقات ابنِ سعد، تاریخِ طَبَری اوراِحیاء ُالعلوم وغیرہ سے بھی مواد لیا گیا ہے مگر قارئین کی دلچسپی کے پیشِ نظر لَفظ بَلَفظ ترجمے کے بجائے مقصود کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے ۔

            شاید یہ کتاب پڑھنے کے بعد آپ کے دل میں دو ہی حسرتیں پیدا ہوں :ایک   یہ کہ کاش !میں بھی حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز جیسا بن جاؤں ، اور دوسری :کاش! میں اُن کے دَور میں پیدا ہوا ہوتا ۔ اُن کے دَور میں پیدا ہونا تو ممکِن نہیں لیکن اُن جیسا بننے کی کوشِش ضرور کی جاسکتی ہے ۔ چُونکہ سیرتِ اَسلاف کا مطالعہ محض ذوق اَفزائی کے لئے نہیں بلکہ اپنی اِصلاح کے لئے بھی ہونا چاہئے اس لئے حتی المقدور اِس کتاب میں دَرج رِوایات وحِکایات سے ملنے والے مَدَنی پھولوں اوردَرسوں کو تحریری شکل دے دی گئی ہے اگرچہ ان کی وجہ سے کتاب کچھ طویل ہوگئی ہے مگر یہ طَوالت بے جا نہیں کیونکہ ہر ایک اِن دَرسوں کو نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ بعض مقامات پر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادِری مدظلہ العالی کی کُتُب ورسائل سے ضَرورتاً لَفظ بَلَفظ مواد نقل کیا گیا ہے جس کا حتی المقدور حوالہ بھی دے دیا گیا ہے ۔ اِس کتاب میں شامِل اکثر اَشعار بھی آپ دامت برکاتہم العالیہ کے نعتیہ دِیوان’’وسائلِ بخشش‘‘ سے لئے گئے ہیں ۔

            ’’حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز کی 425حکایات‘‘ کو خود بھی مکمَّل پڑھئے اور دِیگر اسلامی بھائیوں کوبھی پڑھنے کی تَرغِیب دے کر نیکی کی دعوت کو عام کرنے کا ثواب کمائیے ۔   اللّٰہ  تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مَدَنی انعامات پر عمل اور مَدَنی قافلوں  کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مَجالِس بَشُمُول مجلس المد ینۃ العلمیۃ کو دن گیارھویں رات بارھویں ترقی عطا فرمائے ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم 

شعبہ اِصلاحی کتب  مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی)

۲۱رمضان المبارک۱۴۳۲؁ھ، بمطابق 22اگست 2011ء

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

حدیث بیان کرنے سے پہلے درودِ پاک پڑھتے

             جلیلُ القَدَرمُحَدِّثحضرتِ سیِّدنا ابو عَرُوبہ حَرّ انی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ جب کسی کے سامنے حدیث پاک بیان کرتے تو پہلے دُرُود پاک پڑھتے اور فرمایا کرتے تھے کہ حدیث کی بَرَکت سے دُنیا میں  سَروَرِ کائنات ، شَہَنشاہِ موجوداتصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ  واٰلہٖ وسلَّم  کی ذاتِ اَقدَس پر کثرت سے دُرودِ پاک پڑھنے کی سعادت ملتی ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ  آخِرت میں جنت کی نعمتیں نصیب ہوں گی ۔ (مسالک الحنفاء للقسطلانی ص۳۰۵ ) ؎

پڑوسی خُلد میں یارَبّ بنادے اپنے پیارے کا

                       یِہی ہے آرزو میری یِہی دِل سے دعا نکلے (وسائل بخشش ص ۲۶۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اِبتدائی حالاتِ زندگی

             خلیفۂ عادِل امیرُالْمُؤمِنِینحضرت سیِّدُنا ابو حَفص عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے ۶۱یا ۶۳ھ میں مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً میں آنکھ کھولی ۔ (سیرت ِابن جوزی، ص۹)

وا لدِ گرامی

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العَزِیزکے والدِ ماجِد حضرتِ سیِّدُناعبدالعزیزرحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہسرزمینِ عَرَب کے معزز ترین خاندان ’’قُرَیش ‘‘کی شاخ ’’بنو اُمیّہ‘‘ کی ممتازشخصیت تھے ، 20برس سے زائد عرصہ مِصرکے گورنر رہے [1]؎ اوربہت سے یادگار کام کئے مثلاً ’’حُلوَان‘‘ میں بہت سی نئی مسجدیں تعمیر کروائیں ، مِصر کی جامع مسجد کو اَزسَرِنو (یعنی نئے سرے سے ) بنوایا [2]؎  ، لوگوں کی آسانی کے لئے خلیجِ مِصر پر دوپُل بنوائے [3]؎  ، علماء کرام کے حُقُوق واِحترام کو بڑی اہمیت دی ، اُن کے بیش بہا وظیفے مقرر کئے ۔ جب شادی کرنا چاہی تو اپنے خزانچی کو فرمایا:مجھے میرے مال سے خالِص حلال کے 400دینارلادو ، میں نیک گھرانے میں نکاح کرنا چاہتا ہوں [4]؎ ۔  جُمادَی الاُولیٰ ۸۵ھ میں ان کا وِصال ہوگیا [5]؎ ، وقتِ اِنتقال یہ الفاظ زَبان پرتھے : ’’یَالَیْتَنِیْ لَمْ اَکُنْ شَیْئاً مَّذْکُوْراً اَ لَا لَیْتَنِیْ کُنْتُ کَہٰذَا الْمَاء الْجَارِی اَوْکَنَبَاتَۃِ الْاَرْضِکاش! میں کوئی قابلِ ذِکر چیز نہ ہوتا ، کاش !میں کوئی شے نہ ہوتا ، کاش میں جاری پانی کی طرح ہوتا یا ایک تنکا ہوتا ۔ ‘‘   [6]؎

کاش! کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا                        قَبر و حَشر کا ہر غم خَتم ہو گیا ہوتا

آہ! سَلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے                 کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جَنا ہوتا(وسائل بخشش ص۲۵۶)

 



[1]    تاریخ دمشق ج۳۶، ص۳۵۱

[2]    حسن المحاظرۃ ، ج۱، ص۱۰۷   

[3]    حسن المحاظرۃ ، ج۲، ص۳۲۷ ۴

[4]    سیرت ابن جوزی ص۲۸۷

[5]    البدایۃوالنھایۃ، ج۶ص۱۷۹ 

[6]    تاریخ دمشق ج۳۶ص۳۵۹



Total Pages: 139

Go To