Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

             ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے ہاتھ پر بَیعَت کرنا چاہی تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس سے اِن الفاظ پر بَیعَت لی : تُطِیْعُنِیْ مَااَطَعْتُ اللّٰہَ فَاِنْ عَصَیْتُ اللّٰہَ فَلَاطَاعَۃَ لِیْ عَلَیْک یعنی تم میری اُس وَقت تک اِطاعت کرو گے جب تک میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی اِطاعت کرو ں اور اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو تم پر میری اِطاعت لازِم نہیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۶۷)

مجھے اس مَنصَب کی چاہ نہیں تھی

            جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے چچازاد بھائی اور مرحوم خلیفہ کے بیٹے ہشام نے بَیعَت کے لئے اپنا ہاتھ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے ہاتھ میں دیا تو اُس کے منہ سے نکلا: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ (یعنی ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے ۔ ) آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے کہا: اَجَلْ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ (یعنی بے شک ہم اللّٰہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا ہے ۔ ) پھر فرمایا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی قسم! میں اِس مَقام ومَنصَب کی خواہش نہیں رکھتا تھا کیونکہ یہ ایسی شے نہیں ہے جس کے ذریعے میں رب تعالیٰ کا قُرب پاسکوں ۔ (تاریخِ دمشق ، ج۴۵ ، ص ۱۵۹)

آپ رَنجِیدہ کیوں ہیں ؟

            جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز سلیمان بن عبدالملک کی تدفین کے بعد واپس ہوئے تو بہت رنجیدہ اور غمگین دکھائی دے رہے تھے ، غلام نے سبب پوچھا تو فرمایا:آج اِس دنیا میں کوئی رَنجیدہ اور فِکر مند ہوسکتا ہے تو وہ میں ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ اِس سے پہلے کوئی حقدار مجھ سے اپنا حق طَلَب کرے میں اُس کا حق اس تک پہنچا دوں ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۸۵)

شاہی سُواری سے اِنکار

            خِلافت کا بارِ گراں اٹھاتے ہی فرض کی تکمیل کے اِحساس نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی زندگی بدل کر رکھ دی ۔ جب سلیمان بن عبدُالملک کی تدفین سے فارِغ ہو کر آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہقبرستان سے واپس آنے لگے تو سُواری کے لئے عمدہ نَسَل کے خچر اور تُرکی گھوڑے پیش کئے گئے ، پوچھا:’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ عَرض کی گئی:’’یہ شاہی سُواریاں ہیں جن پرکبھی کوئی سُوار نہیں ہوا، ان کا مَصرَف یہ ہے کہ نیا خلیفہ ہی پہلی بار اِن پر سُوار ہواکرتاہے ، چونکہ اب آپ(رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) ہی ہمارے خلیفہ ہیں لہٰذا اِن میں سے کسی کوقَبو ل فرمائیے ۔ ‘‘ مگرحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز اِن میں سے کسی پر سُوار نہ ہوئے اور اپنے خادِم خاص  مُزاحِم سے فرمایا:’’ میرے لئے میراخچر ہی کافی ہے ، انہیں مسلمانوں کے بیتُ المال میں داخل کردو ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۳۳)

مجھے اپنے جیسا ہی سمجھو

            جب روانہ ہونے لگے تو ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر عَرض کی: ’’حضور! چلئے ، میں آپ کے خچر کی لگام پکڑ کرساتھ ساتھ چلتاہوں ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اُسے بھی مَنع کردیااور فرمایا:’’میں بھی تمہاری ہی طرح ایک عام مسلمان ہوں ۔ ‘‘ (سیرت ابن جوزی ص۶۵ ملتقطًا)

شاہی خیمے میں نہیں گئے

             شاہی دَستُور تھا کہ مَسنَدِخِلافت سنبھالنے پر خلفاء کے لئے اعلیٰ قسم کے خیمے اورشامیانے نَصب کئے جاتے تھے ، چنانچہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ  الْعَزِیز کے لئے بھی نئے شاہی خیمے اور شامیانے آراستہ کئے گئے ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اُنہیں دیکھ کر فرمایا: ’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ عَرض کی گئی : ’’ شاہی خیمے اور شامیانے ہیں جو کبھی استعمال نہیں ہوتے ، ان میں نئے خلیفہ کی سب سے پہلی نَشِست ہوتی ہے ۔ ‘‘

 اپنے وفادار غلام سے فرمایا:’’  مُزاحِم! ان کو مسلمانوں کے بیتُ المال میں شامل کردو ۔ ‘‘ پھر آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہاپنے خچر پر سوار ہو کر اُن عالیشان قالینوں تک پہنچے جو نئے خلیفہ کے اِعزاز میں بچھائے گئے تھے اور اُن کو پاؤں سے ہٹاتے ہوئے نیچے کی چٹائی پربیٹھ گئے ۔ پھر ان قالینوں کوبھی مسلمانوں کے بیتُ المال میں جمع کروانے کا  حُکم دے دیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۳۳)  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تین فوری اَحکام

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے قلم کاغذ طَلَب کیا اور فوری طور پر تین اَحکام جاری کئے ، گویا اُن کے نزدیک خلیفہ بن جانے کے بعد ان میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی روا نہیں تھی ۔ پہلا حکم یہ تھا کہ مَسلَمَہ بن عبدُالملک کوقُسطُنطُنیَہ سے واپسی کی اجازت ہے ۔ اِس کا پس منظر یہ تھا کہ خلیفہ سلیمان بن عبدُالملک نے اپنی زندگی میں انہیں قسطنطنیہ کے بَرّی و بحری جِہاد کے لیے بھیجا تھا، قریب تھا کہ شہر فَتح ہوجائے مگر یہ دشمن کے دھوکے میں آگئے ، حریفوں نے اِن کے کھانے پینے اور دوسری ضروریات کے سامان پر قبضہ کرکے شہر کا دروازہ بند کرلیا ۔ سلیمان کو اس کی اطلاع پہنچی تو اسے اس فَریب خُوردَگی (یعنی دھوکے میں آجانے ) کا بے حد رَنج ہوا ،  اوراُس نے قسم کھالی کہ جب تک میں زندہ ہوں اُنہیں واپس آنے کی اجازت نہیں دوں گا ۔ مسلمہ اور اُن کی فوج کے لئے وہاں ٹھہرنا دُوبھر ہوگیاتھا، بھوک اور بدحالی میں جانوروں کو کھانے تک نوبت پہنچی، کوئی شخص اپنی سواری سے اِدھر اُدھر ہوتا تو لوگ اسے ذبح کرکے کھا جاتے ، مگر سلیمان بار بار کی اپیل کے باوجود اپنے فیصلے پر قائم تھا ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز اُن کی حالت سے پریشان تھے ۔ چنانچہ جب وہ خلیفہ ہوئے تو انہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور اِس اَمر کی گنجائش نظر نہ آئی کہ مسلمانوں کے معاملات ان کے سِپُرد ہوں اور وہ ان بے چاروں کے معاملہ میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی رَوا رکھیں ۔ دوسرا حکم جو تحریر فرمایا وہ اُسامہ بن زید تنوخی کی بَرطرفی تھی، یہ مصر کے خِراج کا تحصیلدار اوربڑا جابر و ظالِم تھا، خلافِ قانون لوگوں کے ہاتھ کاٹ ڈالتا، چوپاؤں کے پیٹ چاک کرکے ان کے پیٹ میں گوشت کے ٹکڑے بھر کے بَحری دَرِندوں کے سامنے ڈال دیتا ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے حُکم دیا کہ اُسے ہر علاقے کی جیل میں ایک سال رکھا جائے اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جائیں ، صرف نَماز کے وقت کھولا جائے اور پھر باندھ دیا جائے ۔ تیسرا حکم  یزید بن ابی مسلم کی افریقہ سے بَرطرفی کا تھا، یہ بڑا بے ڈَھب حاکم تھا، بظاہِر بڑے زُہد و عبادت کا مظاہرہ کرتا تھا، مگر چھوٹے بڑے تمام



Total Pages: 139

Go To