Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

لوگو!تم اپنے باطِن کی اِصلاح کی کوشِش کرواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   تمہارے ظاہر کی اِصلاح فرمائے گا ۔ موت کوکثرت سے یاد کیا کرو اور موت سے پہلے اپنے لئے نیک اَعمال کاخَزانہ اکٹھا کرلو، موت تمام لذّات ختم کردے گی ۔ اے لوگو! تم اپنے آباؤاجداد کے اَحوال میں غور وفِکرکیاکرووہ بھی دنیامیں آئے اور ز ندگی گزار کرچلے گئے اسی طرح تم بھی چلے جاؤگے ۔ اگر تم ان کے اَنجام کویادنہ رکھو گے تو موت تمہارے لئے بہت سختی کاباعث ہوگی لہٰذا موت سے پہلے موت کی تیّاری کرلو، اور بے شک یہ اُمّت اپنے رب عَزَّوَجَلَّ ، اُس کے نبی صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم اور اُس کی کتاب قرآن مجید کے بارے میں ایک دوسر ے سے جھگڑا نہیں کرے گی بلکہ ان کے درمیان عَداوت وفَساد تو دِرہَم ودِینار کی وجہ سے ہوگا ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں کسی ایک کوبھی ناحق کوئی چیز نہ دوں گااور حق دار کواُس کاحق ضَرور دوں گا ۔ ‘‘ اس کے بعد فرمایا:’’ اے لوگو!جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت کرے ، تم پر اُس کی اِطاعت واجِب ہے اور جواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کی اِطاعت نہ کرے اس کی اِطاعت ہرگز نہ کرو ۔ جب تک میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت کرتارہوں اس وقت تک تم میری اِطاعت کرنااگر تم دیکھو کہ  (معاذ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ) میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت نہیں کررہاتو اُس معاملے میں تم میری ہرگز اِطاعت نہ کرنا ۔ ‘‘(عیون الحکایات، ص۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عہدِ صِدِّیقی وفاروقی کی یاد تازہ کردی

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکوخلیفہ بننے کے بعد  مسلمانوں کے حُقُوق کی نگہداشت اور اللّٰہ  تعالیٰ کے اَحکامات کی تعمیل اور نَفاذ کی فِکر دامَن گیر رہتی جس کی وجہ سے اکثر چہرے پر پریشانی اور مَلال کے آثار دکھائی دیتے ۔ اپنی زوجہ محترمہ حضرت فاطمہ بنت عبدالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہاکو  حُکم دیا کہ اپنے زیورات بیتُ المال میں جمع کرا دو ورنہ مجھ سے الگ ہو جاؤ ۔ وفا شِعار اور نیک بیوی نے تعمیل کی ۔ گھر کے کام کاج کے لیے کوئی مُلازِمہ نہ تھی تمام کام وہ خود کرتیں ۔ اَلغَرَض آپ کی زندگی دَرویشی اور فَقر و اِستِغنا کا نَمُونہ بن گئی ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی تمام تَر کوشِشیں اس اَمر پر لگی ہوئی تھیں کہ ایک بار پھر عہدِصِدِّیقی و فاروقی کی یاد تازہ کر دیں ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اہلِ بیت کے ساتھ ہونے والی زِیادتیوں کا اِزالہ کیا، اُن کی ضَبط کی ہوئی جائیدادیں انہیں واپس کر دی گئیں ۔ اِحیائے شریعت کے لیے کام کیا ۔ بیتُ المال کو خلیفہ کی بجائے عوام کی مِلکیت قرار دیا ۔ اِس کی حفاظت کا نہایت مضبوط اِنتظام کیا، اِس میں سے تحفے تحائف اور بے جااِنعامات دینے کا طریقہ مَوقُوف کر دیا ۔ ذِمّیوں سے حُسنِ سلوک کی روایت اختیار کی ۔ اِس کے علاوہ بھی مُعاشی اور سیاسی نظام میں کئی اِصلاحات کیں ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکا زمانۂ خلافت اگرچہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی طرح بہت ہی مختصر تھا لیکن عالَمِ اسلام کے لیے تاریخی زمانہ تھا ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے پہلے مختلف حکمران اِسلام کے دئیے ہوئے نظامِ مذہب و اَخلاق اور سیاست و حکومت میں طرح طرح کی آمیزشیں کر رہے تھے ۔ آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اُن سب خرابیوں سے حکومت و معاشرہ کو پاک کرنے کی کوشِشیں کیں ، حکمرانوں کی اِمتیازی خصوصیات مٹانے کی پوری کوشِش کی، امیر غریب کے اِمتِیازات، جَبر و اِستِبداد کے نشانات اور حکمرانوں کے ظُلم و سِتَم کو ختم کرکے اِسلام کا نظامِ عَدل دوبارہ قائم کیا، حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ وہ خلافتِ اِسلامیہ کو خلافتِ راشِدہ کی طَرز پر قائم کرکے عہدِ صِدِّیقی اورعہدِ فاروقی کو دُنیا میں پھر واپس لے آئے تھے ۔ تجدید و اِصلاح کے اِسی کارنامہ کی بدولت آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا زمانہ خلافتِ راشِدہ میں شُمار کیا جاتا ہے ۔

خلافتِ راشِدہ کسے کہتے ہیں ؟

            دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ561 صفحات پر مشتمل کتاب ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے کہ امامِ اہلسنّت اعلیٰ حضرت مجدِّدِ دین و ملت، مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن  کی بارگاہ میں سُوال کیا گیا کہ   خلافتِ راشِدہ کسے کہتے ہیں اور اس کے مِصداق کو ن کون ہوئے ، اور اب کون کون ہوں گے ؟ جواب میں اِرشاد فرمایا:خلافتِ راشِدہ وہ خلافت کہ مِنہاجِ نُبُوَّت (یعنی نبوی طریقے ) پر ہو جیسے حضرات خلفائے اَربَعہ(یعنی چار خلفائے کرام حضرت سیِّدُنا صِدِّیقِ اکبر، حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم، حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی اورحضرت مولیٰ علی  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم )  وامام حَسَن مجتبیٰ وامیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم نے کی اور اب میرے خیال میں ا َیسی خلافتِ راشدہ امام مہدی  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ہی قائم کریں گے ۔ وَالْغَیْبُ عِنْدَ اللّٰہ (یعنی :اورغیب کا علم اللّٰہتعالیٰ کوہے ۔ ت) (ملفوظات، ص ۱۶۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خُراسانی کا خواب

            خُراسان میں ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص اُس سے کہہ رہا ہے کہ جب بنواُمَیَّہ میں (پیشانی پر) نشان والا خلیفہ ہوتو تم فوراً جاکر اس کی بَیعَت کر لینا اس لئے کہ وہ ’’امامِ عادِل‘‘ ہوگا ۔ چُنانچِہ وہ بنواُمَیَّہ کے ہر خلیفہ کا حُلیَہ دریافت کرتا رہا ۔ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز خلیفہ ہوئے تو اُس نے پے درپے تین دن تک خواب دیکھا کہ اُس سے بَیعَت کے لئے کہا جارہا ہے ، اِس پر وہ شخص ہاتھوں ہاتھ خُراسان سے روانہ ہوگیا اور دِمشق پہنچ کرآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی بَیعَت کر لی ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۸۱)

خلیفہ بنانے والے کے بارے میں حُسنِ ظَن

            محمد بن علی بن شافع کہتے ہیں : میرا حُسنِ ظن ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ   سلیمان بن عبدالملک کو عمر بن عبدالعزیز(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کو خلیفہ بنانے کے سبب جنت میں داخِل فرمائے گا ۔ (سیرت ابن جوزی۶۳)

لوگ بَیعَت کے لئے ٹوٹ پڑے

            جب سلیمان بن عبدالملک کو دَفن کیا جاچکا تو لوگ پَروانہ وار حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزسے بیعت کے لئے ٹُوٹ پڑے حتّٰی کہ ہُجوم کی وجہ سے آپ کے صاحبزادے کی قمیص کا گِرِیبان پھٹ گیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۴)

 بَیعَت کے الفاظ

 



Total Pages: 139

Go To