Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

لکھا ’’ عمر !!‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۳۱)

خلافت کی بشارت

            حضرتِ سیِّدُناوُھَیب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کابیان ہے کہ ایک مرتبہ میں مقامِ ابراہیم کے قریب سویاہوا تھا ، میں نے خواب میں ایک شخص کو بابِ بنی شیبہ سے اندر آتے ہوئے دیکھا جو کہہ رہا تھا :لوگو!تم پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے ایک والی مقرر کیا ہے ۔ میں نے پوچھا :کون ؟ اس نے اپنے ناخُن کی طرف اشارہ کیا جس پر’’ع م ر‘‘ لکھا ہواتھا ۔ اس کے بعد حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکی بَیعَت کا واقعہ رُونما ہوگیا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۷۱)

ہدایت یافتہ خلیفہ

            ابوعنبس کا بیان ہے کہ میں خالد بن یزید بن معاویہ کے ساتھ بیتُ المقدَّس کی مسجد میں کھڑا تھا کہ ایک نوجوان نے آکر خالد کو سلام کیا، خالدنے سلام کا جواب دیا اور مصافحہ کیاتونوجوان نے پوچھا:ھَلْ عَلَیْنَا مِنْ عَیْنٍ یعنی کیا ہم پر کوئی  نگہبان ہے ؟ خالد کے بجائے میں نے جلد ی سے کہا:’’ ہاں ! تم پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے ایک فِراست والا نگہبان ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر اس نوجوان پر رِقَّت طاری ہوگئی اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔ جب وہ چلا گیا تومیں نے خالد سے پوچھا: یہ کون تھا ؟ کہا: کیا تم اُسے نہیں جانتے ؟یہ عمر بن عبدالعزیز ہے اور اگرتم زندہ رہے تو اُسے ہدایت یافتہ خلیفہ دیکھو گے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۵)

نصیحتِ نبوی

             حضرتِ سیِّدُنا امام خُزَاعی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیفرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے نبیِّ مکرم ، شفیع معظم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سَبزسَبز گنبد میں زِیارت کی تو اِرشاد ہوا: تم عنقریب میری اُمّت کے معاملات کے والی بنو گے تو خون بہانے سے بچنا، خون بہانے سے بچنا ، کیونکہ لوگوں میں تمہارا نام عمر بن عبدالعزیز اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کے ہاں ’’جابِر‘‘ ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۸۶)

اِن دونوں کی طرح خلافت کرنا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرم ، نورِ مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے رُخِ روشن کی خواب میں زِیارت کی ، آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے اپنے قریب بلاکر اِرشادفرمایا : یَاعُمَرُ! اِذَا وُلِّیْتَ فَاعْمَلْ فِیْ وِلَایَتِکَ نَحْواً مِّنْ عَمَلِ ھٰذَیْنِیعنی اے عمر! جب تمہیں خلیفہ بنایا جائے تو ویسے ہی کام کرنا جیسے اِن دونوں نے اپنی خلافت کے دوران کئے تھے ۔ میں نے عَرض  کی :یہ دونوں حضرات کون ہیں ؟ فرمایا: ابوبکر اور عمر(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما) ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۸۴)

حجاج کی زَبان پر ذکرِ خلافت

            عنبسہ بن سعید کا بیان ہے کہ حجاج بن یوسف نے غُنُودگی کی حالت میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کاتذکِرہ کیا تو میں نے حجاج کو خوش کرنے کے لئے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ پر نکتہ چینی کی مگر حجاج اُسی کیفیت میں کہنے لگا: ’’خاموش! ہم کہتے ہیں کہ وہ اس اَمرِ خلافت کے سربراہ بنیں گے اور عَدل واِنصاف کریں گے ۔ ‘‘پھر میں وہاں سے چلا آیا، بیدار ہونے کے بعد حجاج نے مجھے بلاکر کہا کہ جوبات غُنُودَگی کی حالت میں میرے منہ سے نکلی تھی اگر تم نے کسی سے کہی تو میں تمہاری گردن اُڑا دوں گا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۸)

سلیمان کے لئے خوشخبری

             سلیمان بن عبدالملک کے خلیفہ بننے سے پہلے ہی ایک شخص نے اُسے یہ خبر دے دی تھی کہ چند دن تک تمہیں خلافت ملے گی ، پھر اسی طرح ہوا ۔ جب یہ شخص دوبارہ خلیفہ سلیمان کے پاس آیا تواس نے پوچھا:میرے بعد کون خلیفہ ہوگا؟ اس نے کہا : میں نہیں جانتا ۔ سلیمان نے کہا: تجھ پر افسوس ہے ، کیا تمہیں میرا بیٹا ایوب نظر نہیں آتا! اس نے کہا : میں ایوب کو خلفاء کی فہرست میں نہیں پاتا ، البتہ اتنا ضَرور جانتا ہوں کہ آپ اپنا خلیفہ ایسے شخص کو بنائیں گے جو آپ کے بہت سے گناہوں کا کفّارہ ہوجائے گا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۱)

 خلافت سے دستبردارہونے کی پیشکش

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز خلافت کی عظیم ذمہ داری  کے اٹھانے سے لَرزاں تَرساں تھے ۔ چنانچہ آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  نے مسجد میں بَرسرِ منبر پیش کش کی:’’اے لوگو!میرے کندھوں پر خلافت کابارِگراں رکھ دیاگیاہے مگر میں اُسے اَنجام دینے کی طاقت نہیں رکھتالہٰذا میری  بَیْعَت کا جو طَوق تمہاری گردن میں ہے اسے خوداُتارے دیتا ہوں ، تم جسے چاہو اپنا خلیفہ بنا لو ۔ ‘‘جب حاضِرین نے یہ سناتو بے چین ہوگئے اورسب نے بیک زَبان کہا:’’ ہم نے آپ ہی کوخلیفہ مقرر کیا، ہم آپ(رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) سے راضی ہیں ، ہم سب آپ ہی کی خلافت پر مُتَّفِق ہیں ۔ آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کانام لے کر اُمور خلافت سَر اَنجام دیں ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اس میں بَرَکت دے گا ۔ ‘‘ (سیرت ابن جوزی ص۶۵)  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خلیفہ بننے کے بعد اِصلاحی بیان

            جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  نے لوگوں کی یہ عقیدت دیکھی اور آپ کواِس بات کا یقین ہوگیاکہ لوگ بخوشی میری خلافت قَبول کرنے پر آمادہ ہیں تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حَمد وثَنا کی اور حُضورِ اکرم   صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم پر دُرُود وسلام پڑھنے کے بعد لوگوں سے کچھ اِس طرح مُخاطِب ہوئے :’’اے لوگو!میں تمہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  سے ڈرنے کی وَصِیَّت کرتاہوں ، تم تقویٰ اختیار کرو اور اپنی آخِرت کے لئے نیکیاں کرو ۔ بے شک جوشخص آخِرت کے لئے نیک اعمال کرے گااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اُس کی دُنیوی حاجات کوخود پورافرمائے گا ۔ اے



Total Pages: 139

Go To