Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

گے ، اس لئے کچھ دیر کے لئے سلیمان کی موت کو چھپائے رکھایہاں تک کہ دابَق کی جامع مسجد میں  بَنُو اُمَیَّہ کے اَفرادکو جمع کرکے دوبارہ  بَیْعَت لے لی ۔ اس کے بعد سلیمان کی موت کی خبر دی گئی اور وَصِیَّت نامہ کھول کر پڑھا گیاجس میں حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خلافت کی وَصِیَّت درج تھی ، چنانچہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے خلیفہ بننے کا اعلان کردیا گیامگر آپ کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ جب تلاش کیا گیاتو مسجد کے آخری کونے میں سرجھکا کر بیٹھے ہوئے ملے ۔ خلافت کے لئے نام نکلنے کے بعد آپ کی حالت غیرہورہی تھی حتّٰی کہ اُٹھنے کی طاقت نہ رہی تھی ۔ لوگ انہیں سہارا دے کر منبر کے قریب  لائے اوراس پر بٹھادیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکافی دیر تک خاموش بیٹھے رہے ، بالآخر پہلی بات یہ اِرشاد فرمائی ’’اے لوگو!اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی قسم! میں نے پوشید ہ اورظاہر ی طور پر کبھی بھی اللّٰہ تعالیٰ سے خلافت کا سوال نہیں کیاتھا ۔ ‘‘ (سیرت ابن جوزی ص۶۴، ۶۹ملخصا) یوں آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ ۱۰ صفر المظفر ۹۹ھ کو جمعۃ المبارک کے دن خلیفہ مقرر ہوگئے ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۱۹)

اِحساسِ ذمّہ داری کی وجہ سے رونے لگے

            حضرتِ سیِّدُناحماد عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْجوّاد بیان کر تے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز خلیفہ مقرر ہو ئے تو رونے لگے ۔ جب میں نے رونے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا:’’ حماد !مجھے اِس ذمّہ داری سے بڑا خوف آتا ہے ۔ ‘‘ میں نے ان سے پوچھا:’’ آپ کے دل میں مال و دولت کی کتنی محبت ہے ؟‘‘ اِرشاد فرمایا:’’ بالکل نہیں ۔ ‘‘ تو میں نے عَرض کی:’’پھرآپ خوف زَدہ نہ ہوں ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی مدد فرمائے گا ۔ ‘‘(تاریخ الخلفاء ، ص ۱۸۵)

مِرا دل پاک ہو سرکار! دنیا کی محبت سے

                                مجھے ہو جائے نفرت کاش! آقا مال و دولت سے (وسائل بخشش ص ۲۳۷)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا طَرزِ عمل ملاحظہ فرمایا کہ بغیر طَلَب کے خلافت کا اعلیٰ ترین مَنصَب ملنے پر خوش ہونے کے بجائے اِحساس ِ ذمّہ داری کی وجہ سے کس قدرپریشان ہوگئے اور ایک ہم ہیں جو عہدہ ومَنصَب کے حُصول کے لئے دوڑ دُھوپ کرتے ہیں اوراپنی خواہش پوری ہوجانے پر پُھولے نہیں سماتے لیکن اگر ہماری تگ ودَو کا مَن پسند نتیجہ نہ نکلے تو ہمارا موڈ آف ہو جاتا ہے ۔ صِرف اِسی پر بس نہیں بلکہ(معاذ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ) حَسَد وبُغض، چُغلی و غیبت، تُہمت اورعیب جُوئی کا ایک سنگین سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ نیز  حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیز کو تسلی دینے والے کی مَدَنی سوچ بھی مرحبا کہ اگر حِرصِ مال دل میں نہیں ہے تواِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  عافیت وسلامتی نصیب ہوگی کیونکہ حِرصِ مال بہت سی تباہیوں کا سبب ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا کَعب بن مالِک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروِی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے حبیب، حبیبِ لَبِیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے :’’مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِی غَنَمٍٍ بِاَفْسَدَ لَہَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْئِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِیْنِہِ یعنی دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے رَیوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرص اور حُبِّ جاہ انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ‘‘(جامع الترمذی، کتاب الزھد، الحدیث:۲۳۸۳، ج۴، ص۱۶۶) مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : نہایت نفیس تشبیہ ہے مقصد یہ ہے کہ مومِن کا دِین گویا بکری ہے اور اس کی حِرصِ مال، حِرصِ عزت گویا دو بھوکے بھیڑیئے ہیں ۔ مگر یہ دونوں بھیڑیئے مومِن کے دین کو اس سے زیادہ برباد کرتے ہیں جیسے ظاہری بھوکے بھیڑیئے بکریوں کو تباہ کرتے ہیں کہ انسان مال کی حِرص میں حرام و حلال کی تمیز نہیں کرتا، اپنے عزیز اوقات کو مال حاصل کرنے میں ہی خَرچ کرتا ہے پھر عزت حاصل کرنے کے لیے ایسے جَتَن کرتا ہے جو بالکل خلافِ اسلام ہیں ۔ (مراٰ ۃ المناجیح ج ۷ ص۱۹)

            کاش! ہمیں ایسا خوف ِ خدا نصیب ہو جائے کہ حبِّ جاہ سے جان چھوٹ جائے اورحِرص سے بھی ، کسی’’ واہ‘‘ کی خواہش ہونہ کسی’’ آہ‘‘ کا غم ، صِرف اور صِرف رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ ہمارے پیشِ نظر رہے ۔

اپنی رِضا[1]؎ کا دیدے مُژدہ[2]؎

                                                    یااللّٰہ مری  جھولی  بھر  دے (وسائل بخشش ص۱۰۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عِطر والے کپڑے دھو ڈالے

            حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزبہت خوش پَوشاک اور عُمدہ سے عُمدہ عِطر استعمال کیا کرتے تھے مگر جب خلافت آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے سِپُرد کی گئی تو گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگے ، لوگ سمجھے کہ شایدخلافت ملنے کی خوشی میں رورہے ہیں ، کچھ دیر بعد سر اٹھایا ، آنکھیں مَلیں اور دعا مانگی :اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ عَقْلاً یَنْفَعُنِیْ وَاجْعَلْ مَااَصِیْرُ اِلَیْہِ اَھَمَّ مَایَزُوْلُ عَنِّیْ یعنی  یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ مجھے عَقلِ نافِع عطا فرما اور جو کام میں کرنے جارہا ہوں اسے میری نظر میں اہم بنادے اس چیز کے مقابلے میں جو مجھ سے دُور ہونے والی ہے ۔ ‘‘ پھر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ گھر گئے اور عِطر والے کپڑوں کو پانی سے دھو ڈالا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۳)

تمہارے پاس عَدل اور نرمی آرہی ہے

            جس دن حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے مسندِ خلافت کو زینت بخشی، اس سے ایک رات پہلے کسی نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص آسمان سے کہہ رہا ہے :’’ لوگو! تمہارے پاس عَدل اور نرمی آرہی ہے ، اب مسلمانوں میں نیکیوں کا چرچا ہوگا ۔ ‘‘ خواب دیکھنے والے نے دریافت کیا:’’وہ کون ہے ؟‘‘ آواز دینے والا آسمان سے زمین پر اُترا اور اپنے ہاتھ سے



[1]      راضی ہونا  

[2]    خوش خبری



Total Pages: 139

Go To