Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ایک بار سلیمان بن  عبدالملک کے ساتھ حج کے لیے گئے ۔ حج کے بعد طائف گئے تو راستہ میں گَرَج چمک کے ساتھ شدید بارش ہوئی، سلیمان نے آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:’’ ابوحَفص! کبھی  ایسی بارش دیکھی ؟‘‘ فرمایا :’’ھٰذَا عِنْدَنُزُوْلِ رَحْمَتِہٖ فَکَیْفَ لَوْکَانَ عِنْدَنُزُوْلِ نِقْمَتِہٖ یعنی ابھی تواللّٰہعَزَّوَجَلَّکی رحمت کی بارش ہے ، اگر اس کے غَضَب کی بارش ہو تو کیا حالت ہوگی؟‘‘(سیرت ابن جوزی۵۲)

گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی

                       ہائے ! میں نارِجَہنَّم میں جلوں گا یاربّ!(وسائل بخشش ص۹۱)

یہ صدقے سے بہتر ہے

            ایک صحرا میں اِسی قسم کا اور بھی واقعہ پیش آیا تو سلیمان نے گھبرا کر ایک لاکھ دِرہم حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو صدقہ کرنے کے لئے دیئے کہ اُس کی بَرَکت سے بادلوں کی گَرَج اور بجلی کی کَڑَک کی یہ آفت ٹل جائے توآپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے اُسے مشورہ دیا: اِس سے بھی بہتر ایک کام ہے ۔ سلیمان نے پوچھا: وہ کیا ؟ فرمایا: آپ نے بعض لوگوں کی جائیداد غَصَب کررکھی ہے ، وہ واپس دے دیجئے ۔ یہ اِنفِرادی کوشِش رنگ لائی اور سلیمان نے اُن کے تمام مال، جائیداد واپس کردیئے ۔ (سیرت ابن جوزی۵۳)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حکایت سے ہمیں یہ دَرس ملا کہ جب کوئی مصیبت آن پڑھے تو اُس سے نجات پانے کے لئے دعا کرنے اور صدقہ دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ کہیں ہم نے کسی کی زمین، مال یا کسی کی جائیداد پر ظالمانہ قبضہ تو نہیں کر رکھا اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوتو سَلب کردہ حُقُوق فوراً ادا کردینے چاہئیں ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ مصیبت ٹلنے کے ساتھ ساتھ دنیا وآخِرت کی ڈھیروں بھلائیاں بھی نصیب ہوں گی ۔

دُنیا کو دُنیا کھا رہی ہے

            ایک مرتبہ دورانِ سفر مقام عُسفَان کے قریب پہنچ کر سلیمان نے اپنے لاؤ لشکر اور قطار دَرقطار خیموں کو دیکھا تو سَرشاری میں حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزسے پوچھا : کَیْفَ تَرٰی مَاھَاھُنَا یَاعُمَرُ؟  یعنی آپ کو یہ سب دیکھ کر کیا محسوس ہورہاہے ؟جواب دیا: اَرٰی دُنْیَا یَأْکُلُ بَعْضُھَا بَعْضًااَنْتَ الْمَسْؤلُ عَنْھَا وَالْمَاخُوْذُ بِمَافِیْھَا یعنی مجھے توایسا دکھائی دیتاہے کہ دنیا کودنیا کھارہی ہے ، آپ سے اِس کا سوال اور مواخذہ کیا جائے گا ۔ (سیرت ابن جوزی۵۲)

یہ تمہارے فریق ہیں

            عَرفات میں قیام کے دوران سلیمان نے اجتماع گاہ کی طرف دیکھ کر کہا : کتنے زیادہ لوگ جمع ہیں !حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے اسے فِکرِ آخِرت دلاتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کے فریق ہیں (یعنی قیامت کے دن بارگاہِ الہٰی میں آپ کے خلاف دعویٰ کریں گے ) ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۹)

حکمِ شرعی کو فوقیت ہے

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے سلیمان بن عبدالملک سے کہا کہ میرے والد صاحب (یعنی عبدالعزیزرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کی بعض صاحبزادیوں کا عبدالملک کی وِراثت میں حصہ بنتا ہے وہ دِلوایا جائے ۔ سلیمان نے جواب دیا کہ عبدالملک نے ایک تحریر چھوڑی ہے کہ اُن کو حصہ نہ دیا جائے ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کچھ دیر خاموش رہے ، دوبارہ اِسی موضوع پر گفتگو کی تو سلیمان سمجھا کہ شاید ان کو میری بات کا یقین نہیں آیا چنانچہ خادِم کو کہا : ذراعبدالملک کی کتاب لانا ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے کہا : کیا تم نے کتابُ اللّٰہ منگوائی ہے (یعنی جب شریعت نے مِیراث میں ان کا حصہ مقرر کیا ہے تو کوئی اپنی تحریر سے اسے کیسے خَتم کرسکتا ہے ؟)  یہ سن کر سلیمان خاموش ہوکر رہ گیا اور اُس سے کوئی جواب نہ بن پڑا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۷)

عورتوں کو بھی مِیراث میں سے حصہ دیجئے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس شریعت نے وِرَاثت میں مَردوں کا حصہ مقرر فرمایا ہے اُسی شریعت نے عورتوں کا بھی حصہ مقرر کیا ہے لہٰذا ورثے کی تقسیم کے وَقت مَردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کوبھی حصہ دینا لازِم ہے مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایک تعداد عورتوں کو وِراثت میں حصہ دینے میں رُکاوٹ بنتی ہے بلکہ اگر کوئی اسلامی بہن اپنا حصۂ شَرعی لینے پر اِصرار کرے تو اوّل تو اُسے حصہ دینے سے ہی اِنکار کردیا جاتا ہے یا پھر یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر حصہ لینا ہے تو ہم سے تعلق خَتم کرنا ہو گانیز حصہ طَلَب کرنے کو مَعیُوب سمجھا جاتا ہے جو کہ دُرُست نہیں ہے ۔

جُذامیوں کی جان بچائی

            خلیفہ سلیمان بن عبدالملک ایک رات مکہ مکرمہ کے قریب سواری پر جارہا تھا کہ اُونگھ آگئی، اتنے میں جُذامیوں کے شور مچانے اور گھنٹیاں بجانے کی آواز آئی گھبراہٹ اور بے چینی سے سلیمان کی آنکھ کھل گئی، انکی اِس حرکت پر بڑی کَوفت  ہوئی اوراس نے جَلال کے مارے حُکم دے دیا انہیں آگ سے جلادیا جائے ، جس شخص کو یہ حُکم دیا گیا تھا وہ بے حد پریشان ہوا کہ کیا کیا جائے ؟ اتنے میں اُس کی ملاقات حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سے ہوئی اور اُس نے سارا ماجرا  سناکر مدد کی درخواست کی ۔ آپ نے فرمایا :’’ذرا ٹھہرو!میں امیرا لمومنین سے ملتا ہوں ۔ ‘‘ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سلیمان کے پاس گئے ، کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں پھر آپ نے فرمایا : امیر المومنین ! آپ نے کبھی ان  مُبتَلائے مصیبت (جذامی) لوگوں جیسا بھی کوئی دیکھا ؟  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اپنی عافیت میں رکھے ، کاش آپ ان کو یہاں سے نکال دینے کا  حُکم فرمادیتے ۔ ‘‘ سلیمان نے اِعتراف کرتے ہوئے کہا: ’’آپ نے ٹھیک فرمایا، ان کو یہاں سے نکال دیا جائے ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزواپس آئے اوراُس شخص سے فرمایا: امیر المومنین نے ان کو(جلانے کے بجائے ) یہاں سے نکال دینے کا  حُکم فرمادیا ہے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۶)

مُثلہ کرنے سے روکا

 



Total Pages: 139

Go To