Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

فائدہ ہی فائدہ

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیکی کی بات بتانے ، گناہ سے نفرت دلانے اور ان کاموں کیلئے کسی پر اِنفِرادی کوشِشکا ثواب کمانے کیلئے یہ ضَروری نہیں کہ جس کو سمجھا یا وہ مان جائے تو ہی ثواب ملیگا بلکہ اگر وہ نہ مانے تب بھیاللہ عَزَّوَجَلَّ ثواب ہی ثواب ہے اور اگر آپ کی اِنفِرادی کوشِش سے کسی نے گناہوں سے توبہ کر کے سنّتوں بھری زندگی گزار نی شروع کر دی پھرتو اللہ عَزَّوَجَلَّ  آپ کا بھی بیڑا پار ہو جائیگا ۔ آیئے اِس ضِمْن میں اِنفِرادی کوشِش کی ایک مَدَنی بہار سنتے چلیں ، چُنانچِہ

بدنامِ زما نہ شخص کی توبہ

             پنجاب(پاکستان) کے شہر مدینۃ الاولیاء (ملتان ) کے نَواحی علاقے    جَھوک وَنِیس میں مُقِیم اسلامی بھائی کے بیان کا لب لباب ہے کہ  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکتیں ملنے سے پہلے میں اپنے علاقے کا بدنام ترین شخص تھا ۔ ہر دوسرے دن تھانے میں میرے خلاف کوئی نہ کوئی شکایت پہنچ جاتی ۔ لوگ مُجھ سے دور بھاگتے اور گھر والے میری حرکتوں کی وجہ سے  سَخت نالاں تھے ۔ پھر وہ وَقت بھی آیا کہ مجھے اپنے علاقے میں نیک نامی نصیب ہوگئی اور میں اپنے گھر والوں کی آنکھوں کا تارا بن گیا ۔ یہ اس طرح ممکن ہوا کہ جس جگہ میں نوکری کرتا تھا وہاں دعوتِ اسلامی کے ایک مبلغ کسی کام سے آئے ۔ انہوں نے مجھ سے بھی ملاقات کی اوراِنفِرادی کوشِش کے دوران دعوتِ اسلامی کی مَدَنی بہاریں سُنانے کے بعد تحفے میں شیخِ طریقت  امیر اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیہ کے بیان کی کیسٹ’’ قَبر کی پہلی رات ‘‘دی ۔ جب میں نے یہ بیان سنا تو مارے خوف کے میرے رُونگٹے کھڑے ہوگئے ۔ گزشتہ زندگی کے ناگُفتَہ بِہ حالات میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے ۔ میں نے خُود کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا نافرمان پایا ۔ اپنے اَنجام کا تصوُّر کر کے میں بے قرار ہوگیا ۔ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوکر اُسی وَقت اپنے خالق ومالک عَزَّوَجَلَّ  سے معافی مانگی اور سچی توبہ کر لی ۔ پھر مجھ پر  دعوتِ اسلامی کا ایسا مَدَنی رنگ چڑھا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے اور اُن کی نفرت محبت میں تبدیل ہونا شروع ہوگئی ۔ ایک خواہش مسلسل مجھے تڑپاتی رہتی کہ کاش میں اس ولیٔ کامل یعنی امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی زِیارت کا شربت پی سکوں جن کی بنائی ہوئی تحریک ’’دعوتِ اسلامی ‘‘ کی بدولت میری زندگی میں مَدَنی اِنقلاب برپا ہوا ۔ آخر کارمیری سعادتیں اپنی مِعراج کو پہنچیں اور  امیر اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیہ غالباً کسی مَدَنی مشورے کے لئے عیدگاہ مدینۃُ الاولیاء ملتان تشریف لائے ۔ وہاں میں آپ دَامَت بَرَکاتُہُم الْعَالِیہ کے دَستِ مُبارَک پر بیعت کر کے عطّاری ہوگیا اور رات بھردِیدارِمُرشِد کے مزے بھی لُوٹتا رہا ۔ تادَمِ تحریر میں علاقائی مشاورت کے خادِم (نگران) کی حیثیت سے مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

مقبول جہاں بھرمیں ہو دعوتِ اسلامی

صدقہ تجھے اے ربِّ غفار مدینے کا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دھوکہ دہی سے روکا

            ولید کا بھائی سلیمان بن عبدالملک اس کا ولی عہد تھا مگر وہ اُسے ولی عہدی سے ہٹا کر اپنی اولاد کو خلافت منتقل کرنا چاہتا تھا اور یہ کام حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے تعاوُن کے بغیر ممکن نہ تھا ۔ جب ولید نے اِس بارے میں آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ سے بات کی تو حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا:’’ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِنَّا بَایَعْنَا لَکُمَا فِیْ عُقْدَۃٍ وَّاحِدَۃٍ فَکَیْفَ نَخْلَعُہٗ وَنَتْرُکُکَ  یعنی امیرالمؤمنین ! ہم نے آپ دونوں کی ایک ہی وَقت میں بَیعَت کی تھی اب اکیلے سلیمان کو اس بَیعَت سے کیسے الگ کرسکتے ہیں ؟ــ‘‘(سیرت ابن جوزی۵۲) اِس پر ولید نے ناراض ہوکر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو قید میں ڈال دیا ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو کافی عرصہ قید میں رکھا گیا مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہاپنے اِرادے پر ثابت قدم رہے ، بالآخر کسی کی سفارش پر رہائی ملی ۔ سلیمان بن عبدالملک نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی وفاداری اور اِحسان کو یاد رکھا چُنانچِہ اپنے بعد آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہہی کو اپنا جانشین مقرر کیا ۔ (تاریخ الخلفاء ص۲۳۵) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

انسان کو وہی کچھ ملے گا جو آگے بھیجا ہوگا

            ایک بار حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز، خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے ساتھ کسی سفرکے لیے نکلے ، آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے اپنا سامان اور خیمہ وغیرہ پہلے سے آگے نہیں بھجوایا تھا ۔ منزل پر پہنچے تو ہر شخص اپنے خیمے میں چلا گیا جو اُس نے پہلے سے بھجوارکھا تھا ۔ سلیمان بھی اپنے خیمے میں چلا گیا، جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کہیں نظر نہ آئے تو سلیمان نے کہا اِنہیں تلاش کرو، غالباً انہوں نے کوئی خیمہ نہیں بھیجا تھا ۔ تلاش کیا گیا تو وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے رو رہے تھے ۔ سلیمان کو اِطلاع دی گئی ، اس نے آپ کو بلایا اور دریافت کیا : ’’ابوحَفص! کیوں رورہے تھے ؟‘‘ فرمایا :امیر المومنین ! مجھے قیامت کا دن یاد آگیا، دیکھئے میں نے گھر سے کوئی چیز نہیں بھیجی تھی، اِس لئے مجھے یہاں کچھ نہیں ملا، اِسی طرح قیامت میں بھی جس نے جو چیز آگے بھیجی ہوگی وہی اُسے ملے گی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۳ملخصًا)

ہائے ! حُسنِ عمل نہیں پلّے          حشْر  میں  میرا  ہو گا  کیا  یاربّ

                     خوف آتا ہے نارِ دَوزخ سے   ہو کرم بہرِ مصطَفٰے یاربّ(وسائل بخشش ص۸۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بارش سے عبرت

 



Total Pages: 139

Go To