Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اور وہ اِس پر بڑا تَلمَلایا ، پہلے پہل اُس کا خیال تھا کہ یہ  حُکم میر ے سِوا کسی اورکونہیں بھیجا گیالیکن جب اُس نے تفتیش کرائی تو معلوم ہو ا کہ اُس کا یہ خیال صحیح نہیں ۔ چُنانچہ اس نے کہا: یہ آفت ہم پر کہاں سے آ پڑی ؟ امیر المؤمنین کو یہ مشورہ کس نے دیا؟ اُسے بتایا گیا کہ یہ کار نامہ عمر بن عبد العزیز(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) نے اَنجام دیا ہے ، یہ سن کر بولا :آہ ! اگر مشورہ دینے والا عمر ہے تو اِس  حُکم کو رَد کرنا ممکن نہیں ۔ پھر حجاج نے ایک چال چلی وہ یوں کہ قبیلہ بکر بن وائل کے ایک دیہاتی کو بلوایا جو بڑا اَکھڑ ، بَدمِزاج اور عقیدے کے اِعتبار سے خارِجی تھا، حجاج نے اس سے پوچھا: معاویہ بن ابوسفیان( رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ اس نے اُن کی عیب جوئی کی ۔ پھر پوچھا : یزید کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ اس نے یزید کو گالیاں سنا دیں ، پھر پوچھا : عبد الملک کیسا تھا ؟ اس نے کہا: ظالم تھا ۔ پھر پوچھا : موجودہ خلیفہ ولیدکیسا ہے ؟اس نے کہا: یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہے کیونکہ اُس نے تمہارے جَوروسِتَم کو جانتے ہوئے بھی تجھے ہم پر مُسَلَّط کر دیا ۔ اِس جواب کو سن کر حجاج خاموش ہو گیا کیونکہ اُسے لوگوں کو قَتل کرنے پر دلیل چاہئے تھی جو اُسے مل چکی تھی ، لہٰذا اُس نے  خارِجی کو ولید کے پاس بھیج دیا اور ساتھ ہی ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا: ’’میں اپنے دین کے معاملے میں بے حد محتاط ہوں ، جس رعایا پر آپ نے مجھے حاکم بنایاہے اُن کی سب سے زیادہ حفاظت کرتا ہوں اور میں اِس بات سے نہایت اِحتراز کرتا ہوں کہ کسی ایسے شخص کوقَتل کردوں جو اس کاسزاوارنہ ہو، لیجئے ! میں آپ کے پاس ایک شخص کوبھیج رہاہوں ، آپ اس کی باتیں سنئے اور یقین کیجئے کہ میں اِسی قسم کے لوگوں کوان کے خیالاتِ فاسدہ کی بناپرقَتل کیاکرتاتھا، اب آپ جانیں اوریہ جانے !‘‘وہ خارِجی ولیدکے دربارمیں پیش ہوا ۔ اُس وَقت مجلس میں اہلِ شام کی ممتازشخصیات کے علاوہ خودحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزبھی موجودتھے ، ولیدنے خارِجی سے کہا:میرے بارے میں کیاکہتے ہو؟اس نے کہا:ظالم اورجابِر ۔ ولیدنے کہا: اورعبدالملک؟خارجی بولا:جبّاراور سرکش ۔ ولید نے کہا :اور معاویہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ) ؟ خارجی نے کہا:ظالم(مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ) ۔ ولیدنے اپنے جلّاد’’ ابنِ ریّان‘‘ کو حُکم دیا:اُڑادواِس کی گردن ۔ ‘‘اگلے ہی لمحے خارجی کاسر تَن سے جُداتھا ۔ پھر ولید وہاں سے اُٹھ کر گھرچلاگیااورخادِم سے کہا:ذرا عمر بن عبد العزیز (عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز) کوبُلالاؤ ۔ جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزاس کے پاس تشریف لے گئے توکہنے لگا: ’’ابوحَفص! کیا خیال ہے ؟ ہم نے ٹھیک کیایاغَلَط؟ فرمایا: ’’آپ نے اُسے قَتل کرکے ٹھیک نہیں کیا، بہتر تھاکہ آپ اُسے جیل بھجواتے ، پھریاتووہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرلیتایا اس کوموت آلیتی ۔ ‘‘ ولیدغصّے سے بولا:اُس نے  مجھے اور(میرے باپ) عبدالملک کو گالیاں دیں اوروہ خارجی تھا مگر پھربھی آپ کے خیال میں میں نے اُسے قَتل کرکے ٹھیک نہیں کیا؟حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا:’’جی نہیں !واللّٰہ!میں اِسے جائز نہیں سمجھتا، آپ اسے قیدبھی توکرسکتے تھے اوراگر معاف ہی کردیتے تو اور بھی اچھا ہوتا ۔ ‘‘ یہ سن کرولیدغصّے سے اٹھ کرچلاگیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۴ملخصًا)

کلمہ حق کہنے سے نہ ڈرے

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ  الْعَزِیزفرماتے ہیں :ایک دن خلافِ معمول دوپہر کے وَقت خلیفہ ولید بن عبدالملک نے مجھے بلوایا، میں گیا تو وہ اپنے کمرۂ خاص میں تھا اور غصے میں دکھائی دیتا تھا ۔ اُس نے مجھے اپنے سامنے اِس طرح بٹھا لیا جیسے مجرموں کو بٹھایا جاتا ہے ، اس وَقت وہاں ہم دونوں کے علاوہ اس کا جّلادخالد بن ریّان تھا جو تلوار سونتے کھڑا تھا ۔ ولید نے گَرَج دار آواز میں پوچھا: اس شخص کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے جو خلفا ء کو بُرا بھلا کہتا ہے ، اسے قَتل کردیا جائے یا نہیں ؟میں خاموش رہا ، وہ پھر گرجا : جواب کیوں نہیں دیتے ؟ میں پھر چپ رہا کیونکہ وہ مجھ سے ’’ہاں ‘‘ کہلوانا چاہتا تھا، اس نے سہ بار پوچھا تو میں نے کہا :’’کیا مجھے قَتل کرنا چاہتے ہو؟‘‘وہ کہنے لگا: ’’نہیں ، مگر سوال خلفاء کی عزت کا ہے ۔ ‘‘ اب کی بار میں نے ہمت کر کے کہا: تو میری رائے یہ ہے کہ ایسے شخص کو خلفاء کی توہین کرنے کے جُرم میں سزا دی جاسکتی ہے ۔ ولید نے سر اٹھا کر جلّاد کی طرف دیکھا ، مجھے  ایسا لگا جیسے اس نے مجھے قَتل کرنے کا اشارہ کیا ہے ، تاہم ایسا نہیں ہوا اور خلیفہ طیش کے عالَم میں یہ کہہ کر گھر کے اندر چلا گیا کہ یہ ’’مُتَکَبِّر ‘‘ہے ۔ اُس کے جانے کے بعد جلّاد نے مجھے بھی واپس ہونے کااشارہ کیا اور میں وہاں سے اٹھ کر چلا آیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۵)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے بزرگانِ دین عَلَیْہِم  رحمۃُ اللّٰہِ الْمُبِین نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے میں رُعبِ شاہی کو بھی  خاطر میں نہ لاتے تھے ۔ اے کاش ! ہمیں بھی اَمْرٌبِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے ) جیسی عظیم ذِمّہ داری کا اِحساس ہوجائے اور ہم بھی اس کے بدلے میں ملنے والے ثواب کے لئے کوشاں ہوجائیں ۔

نیکی کی دعوت کا ثواب

            حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے بار گاہِ  خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں عَرض کی:اے ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ !جواپنے بھائی کو بلائے اور  اُسے نیکی کا  حُکم کرے اور برائی سے روکے اُس شخص کا بدلہ کیا ہوگا؟فرمایا:’’میں اس کے ہر کلمے کے بدلے ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اوراسے جہنَّم کی سزادینے میں مجھے حیا آتی ہے ۔ ‘‘ (مکاشفۃ القلوب، باب فی الامر والمعروف ، ص۴۸)

سمجھانا کب واجِب ہے ؟

           عام حالات میں اگر چِہ نیکی کی دعوت دینامُسْتَحَب ہے ، مگر بعض صُورَتوں میں  یہ واجِب ہوجاتی ہے ، واجِب ہونے کی صُورت یہ ہے کہ جب کوئی شخص گناہ کر رہا ہواور ہمارا ظنِّ غالِب ہو کہ اس کومَنع کریں گے تو یہ مان جائیگا تو اب اس کوبتانا، سمجھانا، مَنْع کرنا واجِب ہے ۔ اب ہم کو غور کرنا چاہئے کہ یہ واجِب کو ن ادا کررہا ہے ؟ مَثَلا ًآپ دیکھ رہے ہیں کہ فُلاں بِلا عُذرِ شَرعی نَماز کی جماعت تَرک کرنے کا گناہ کررہا ہے اوروہ آپ سے چھوٹابھی ہے بلکہ آپ کاماتَحت، ملازِم یا بیٹا بھی ہے ، اورآپ کا ظنِّ غالِب بھی ہے کہ سمجھاؤں گا تو مان جائیگا مگر آپ اُس کی اِصلاح کی کوشِش نہیں فرماتے تو آپ گنہگار ہوں گے ۔ (زلزلہ اور اس کے اسباب ، ص۵ )

عطاہو’’ نیکی کی دعوت‘‘ کا خوب جذبہ کہ

دُوں دُھوم سنّتِ محبوب کی مچا یاربّ(وسائل بخشش ص۹۷)

 



Total Pages: 139

Go To