Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘نیکی کی دعوت، اِحیائے سنّت اور اشاعتِ علمِ شریعت کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزمِ مُصمّم رکھتی ہے ، اِن تمام اُمور کو بحسن و خوبی سر انجام دینے کے لئے متعدِّد مجالس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں سے ایک مجلس ’’المدینۃ العلمیۃ‘‘بھی ہے جو دعوتِ اسلامی کے عُلماء و مُفتیانِ کرام کَثَّرَ ھُمُ اللّٰہُ تعالٰی پر مشتمل ہے ، جس نے خالص علمی، تحقیقی اوراِشاعتی کام کا بیڑا اُٹھایا ہے ۔ اس کے مندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں :

(۱) شعبۂ کتُبِ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ    (۲) شعبۂ درسی کُتُب  

(۳) شعبۂ اصلاحی کُتُب                     (۴) شعبۂ تراجمِ کتب

(۵) شعبۂ تفتیشِ کُتُب                      (۶) شعبۂ تخریج

             ’’المدینۃالعلمیۃ‘‘کی اوّلین ترجیح سرکارِاعلٰیحضرت اِمامِ اَہلسنّت، عظیم البَرَکت، عظیمُ المرتبت، پروانۂ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و  مِلَّت، حامیٔ سنّت ، ماحیٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْرو بَرَکت، حضرتِ علامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضاخانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کی گِراں مایہ تصانیف کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق حتَّی الْوَسْعَ  سَہْل اُسلُوب میں پیش کرنا ہے ۔ تمام اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں اِس عِلمی ، تحقیقی اور اشاعتی مدنی کام میں ہر ممکن تعاون فرمائیں اورمجلس کی طرف سے شائع ہونے والی کُتُب کا خود بھی مطالَعہ فرمائیں اور دوسروں کو بھی اِ س کی ترغیب دلائیں ۔

          اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی تمام مجالس بَشُمُول’’المدینۃ العلمیۃ‘‘کو دن گیارہویں اور رات بارہویں ترقّی عطا فرمائے اور ہمارے ہر عملِ خیر کو زیورِ اخلاص سے آراستہ فرماکر دونو ں جہاں کی بھلائی کا سبب بنائے ۔ ہمیں زیرِ گنبدِ خضرا شہادت، جنّت البقیع میں مدفن اور جنّت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔

                  اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

 

وہ جن کو لوگ یاد رکھتے ہیں

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس دنیا میں روزانہ شاید ہزاروں لوگ آتے ہیں ، اپنے حصے کی زندگی گزارتے اوریہاں سے چلے جاتے ہیں ، کچھ عرصے بعد لوگ بھی انہیں بُھول بھال جاتے ہیں لیکن بعض حضرات ایسے عظیم الشان اَنداز سے زندگی گزارتے ہیں کہ صدیوں بعد آنے والے لوگ بھی اُن کو یاد کرتے اور اُن سے محبت رکھتے ہیں حالانکہ انہیں دیکھا بھی نہیں ہوتا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز تاریخِ اسلام کی ایسی ہی تابناک شخصیت ہیں ۔ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے ۶۱ھ یا ۶۳ھ میں خاندانِ بنوامّیہ میں مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً  میں آنکھ کھولی اور مدینے شریف ہی میں عِلم وعمل کی منزلیں طے کرنے کے بعد صِرف25سال کی عمر میں مکۃ المکرمہ، مدینۃ المنورہ اور طائف کے گورنر بنے اور 6سال یہ خدمت شاندار طریقے سے اَنجام دینے کے بعد مُستَعفِی ہوکر خلیفہ کے مُشِیرِ خاص بن گئے اور سلیمان بن عبدالملک کی وفات کے بعد 10 صفر المظفر 99ھ کو تقریباً36سال کی عمر میں جمعۃُ المُبارک کے دن خلیفہ مقرَّر ہوئے اور اِس شان سے خِلافت کی ذمّہ داریوں کو نِبھایا کہ تاریخ میں اُن کا نام سُنہرے حُرُوف سے لکھا گیا، کم وبیش اڑھائی سال خلیفہ رہنے کے بعدحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے 25 رجب 101ھ بدھ کے دن تقریباً39سال کی عمر میں اپنا سفرِ حیات مکمل کرلیا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے ۔ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہکو حلب کے قریب دَیر سِمعَان میں سِپُردِ خاک کیا گیا جو مُلکِ شام میں ہے ۔

             حنبلیوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  فرماتے ہیں :اِذَارَأَیْتَ الرَّجُلَ یُحِبُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَیَذْکُرُ  مَحَاسِنَہٗ وَیَنْشُرُہَا فَاعْلَمْ اَنَّ مِنْ وَّرَائِ ذٰلِکَ خَیْراً اِنْ شَائَ اللّٰہُ  یعنی  جب تم دیکھو کہ کوئی شخص حضرتِ عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزسے محبت رکھتا ہے اور اُن کی خوبیوں کو بیان کرنے اور اُنہیں عام کرنے کا اِہتِمام کرتا ہے تو اِس کا نتیجہ خیر ہی خیر ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۴) حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی عِبادت گزاری پر نظر دوڑائیں تو عابِدوں کے سردار، زُہد وتقویٰ کو دیکھیں تو سُبْحٰنَ اللّٰہ!اُن کا خوفِ خدا دیکھ کر رَشک آئے ، ذوقِ تِلاوت کے بارے میں پڑھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں ، عِلمی وُسعَتوں کو ماپنا چاہیں توبڑے بڑے علماء ان کے سامنے زانوئے تلمُّذبچھاتے دکھائی  دیں ، تَجدِیدِ ی کارناموں کا شُمار کرنے جائیں تو اسلام کا پہلا مُجَدِّد سب سے مُنفرِد دکھائی دے ، طَرزِ حکومت کا مشاہدہ کریں توکامیاب ترین حکمران اور ایسے کامیاب کہ خلفائے راشدین میں اُن کا شُمار ہوتا ہے ، بطورِ خلیفہ انہوں نے وہ کچھ کردکھایا جس کا سوچنا بھی مشکل تھا ۔ 590صفحات پر مشتمل زیرِ نظر کتاب ’’حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز کی 425حکایات‘‘ انہی کی سیرتِ مُبَارکہ کی جھلکیوں پر مشتمل ہے ۔ بلا شُبہ آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہاُن عظیم شخصیات میں سے ہیں جن کی عظمتوں کا بیان کرنے والا تَردُّد کا شکار ہوجاتا ہے کہ کہاں سے شُروع کرے اور کہاں خَتم؟ کونسی حکایت پہلے بیان کرے اور کونسی بعد میں ؟ پھر بھی حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی زندگی کو دوبڑے حصوں میں تقسیم کرکے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے :(۱) خلافت سے پہلے کی زندگی اور(۲) خلافت کے بعد والی زندگی ۔ یوں تقریباً456حکایات(جس میں کم از کم425 حکایات حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی ہیں ) کامَدَنی گلدستہ آپ کے سامنے پیش کردیاہے ممکن ہے کہ کوئی واقعہ پہلے رُونما ہوا لیکن اس کتاب میں اس کا ذِکر بعد میں کیا گیا ہو یوں حکایات کی ترتیب آگے پیچھے ہوگئی ہو لیکن اِس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گاکیونکہ گلدستے کی خوشبو اِس بات کی محتاج نہیں کہ کونسا پھول کہاں رکھا گیا ہے ! اِس خوشبو کو سونگھئے اور اپنے مَشامِ جاں مُعَطَّر ومُعَنبرم کیجئے ۔ اِس کتاب میں شامل اکثرروایات وحِکایات حضرتِ علامہ عبدالرحمن ابنِ جوزی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکی کتاب ’’سیرتِ عمر



Total Pages: 139

Go To