Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

گورنر مقرر کردیا ۔ (تاریخ طبری ج۴، ص۱۹۹تا۲۱۴ ملخصًا)

صرف ایک غلام ساتھ تھا

             جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزمدینۂ طَیِبَّہ زَادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  آئے تھے تو آپ کا ذاتی سامان اونٹوں پر لَد کر آیا تھا مگر جب معزول ہونے کے بعد رات کی تاریکی میں دِمشق جانے کے لئے نکلے تو صِرف ایک غلام’’ مُزاحِم‘‘ ساتھ تھا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۷ملتقطاً)

 بے چین ہوگئے

            مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً سے رخصتی کے وَقت حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو یہ حدیث یاد آئی :’’الْمَدِینَۃُ کَالْکِیرِِ تَنْفِی خَبَثَہَایعنی مدینہ بھٹی کی طرح ہے کہ وہ میل کچیل اور گندگی کو نکال باہَر کرتا ہے ، (الاحسان بترتیب ابن حبان ، الحدیث ۳۷۲۴، ج۶، ص۱۸) اس پربے چین ہوگئے اور اپنے غلام  مُزاحِم سے فرمایا: نَخْشٰی اَنْ نَّکُوْنَ مِمَّنْ نَّفَتِ الْمَدِیْنَۃُ   یعنی ہمیں ڈرہے کہ کہیں ہم بھی اُن میں سے نہ ہوں جن کو مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً باہَر نکال دیتا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۴)

افسوس وقتِ رخصت نزدیک آرہا ہے           اِک ہُوک اٹھ رہی ہے دل بیٹھا جارہا ہے

                        آہ! اَلفِراق آقا! آہ! الوداع مولیٰ          اب چھوڑ کر مدینہ عطارؔ جا رہا ہے (وسائلِ بخشش ص۴۱۳)

 بدشگونی کی تَردِید

              امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے غلام  مُزاحِم کا بیان ہے کہ :جب ہم مدینۂ طیِّبہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ  تَکْرِیماً سے نکلے تو میں نے دیکھا کہ چاند ’’دَبَران‘‘ میں ہے ، میں نے ان سے یہ کہنا تو مناسب نہ سمجھا بلکہ یہ کہا: ’’ ذرا چاند کی طرف نظرفرمایئے ، کتنا خوبصورت لگتا ہے ۔ ‘‘ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے دیکھا تو چاند دَبَران[1]  میں تھا، فرمایا شاید تم مجھے یہ بتانا چاہتے ہو کہ چاند دَبَران میں ہے ،  مُزاحِم!ہم چاند سورج کے ساتھ نہیں ، بلکہ  اللہ واحد وقہّار عَزَّوَجَلَّ کے  حُکم و مَشَیِّت کے ساتھ نکلتے ہیں ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۲۷)

بدشگونی کیا ہے ؟

            کسی چیز یا عمل کو دیکھ کریا کسی آواز کو سن کر اسے اپنے حق میں اچھا یا برا سمجھنا  شگون کہلاتا ہے ۔ اس کی دو قسمیں ہیں :(۱) اچھا شگون (نیک فال) (۲) بدشگونی ۔

مثلاً کوئی شخص گھر سے کہیں جانے کے لئے نکلا اور کالی بلی نے اس کا راستہ کاٹ لیا ، جسے اس نے اپنے حق میں منحوس جانا اور واپس پَلَٹ گیا یا یہ ذہن بنا لیا کہ اب مجھے کوئی نہ کوئی نقصان پہنچ کر ہی رہے گا تو یہ بدشگونی ہے جس کی اسلام میں مُمَانَعَت ہے ۔ اور اگرگھر سے نکلتے ہی کسی نیک شخص سے ملاقات ہوگئی جسے اُس نے اپنے لئے باعث خیر سمجھا تو یہ نیک فالی کہلاتاہے اور یہ جائزہے ۔

بدشگونی کوئی چیز نہیں

            حضرتِ سیِّدنا ابوہریرہ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسولُ اﷲ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا : لَا طِیَرۃَ وَخَیْرُہَا الفَالُیعنی بدفالی کوئی چیز نہیں اور فال اچھی چیز ہے ۔ لوگوں نے عَرض کی:مَا الفَألُ ؟ فال کیا چیز ہے ؟ فرمایا: ’’اَلْکَلِمَۃُ الصَّالِحَۃُ یَسْمَعُہَا یعنی اچھا کلمہ جو کسی سے سنے ۔ ‘‘ ( بخاری ، الحدیث ۵۷۵۴، ج۴ ، ص۳۶) یعنی کہیں جاتے وَقت یا کسی کام کا اِرادہ کرتے وَقت کسی کی زَبان سے اگر اچھا کلمہ نکل گیا، یہ فال حَسَن ہے ۔ (بہار شریعت ، ج ۳، ص۵۰۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خلیفہ کے مُشیر بن گئے

            گورنری سے معزولی کے بعد حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ  الْعَزِیز ’’ سُوَیدا‘‘ پہنچے ۔ کچھ عرصہ وہیں رہے پھر آپ نے مسلمانوں کی خیرخواہی کے لئے دِمِشق منتقل ہونے کا اِرادہ کیا اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کے پڑوس میں رہائش پذیر ہوئے تاکہ اُسے بھلائی کے مشورے دے سکیں اور حتی المقدور اُسے  ظُلم سے روک سکیں ، یوں آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہدارُالخلافہ دِمشق میں ولید کی مرکزی مجلسِ شورٰی کے رُکن مقرر ہوگئے ۔

ناحق قتل سے روکا

            جب جب آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کو موقع ملتا بڑی جرا ء ت کے ساتھ حاکمِ وَقت کی اِصلاح فرمایا کرتے ۔ ایک روز ولید سے فرمایا: ’’میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں جب آپ کو مکمل فرصت ہومجھے یاد کر لیجئے گا ۔ ‘‘ولید کہنے لگا:’’ابھی فرمائیے !‘‘ جواب دیا:’’ابھی آپ اِطمینان اور دل جَمعِی کے ساتھ سن نہیں پائیں گے ۔ ‘‘کچھ ہی عرصہ بعد آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی  علیہ  شامیوں کی ایک جماعت کے ساتھ دربارِخلافت میں موجود تھے تو ولید کہنے لگا :ابوحَفص! کہیے آپ کیا کہنا چاہتے تھے ؟ فرمایا:’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک شِرک کے بعد سب سے بڑا گناہ کسی کو ناحق قَتل کرنا ہے ، آپ کے گورنر اور اُمَراء لوگوں کو ناحق قَتل کرڈالتے ہیں پھر آپ کو اس کا جھوٹاسچا جُرم لکھ کر بھیج دیتے ہیں ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں آپ کی بھی پکڑ ہوگی کیونکہ ان کو آپ نے گورنر مقرر کیا ہے ، لہٰذا آپ انہیں لکھ بھیجئے کہ کوئی گورنر کسی کو قَتل نہ کرے جب تک اُس کے جُرم کی شَرعی شہادت آپ تک نہ پہنچا دے اور آپ اُس کے واجبُ القتل ہونے کا فیصلہ نہ کردیں ۔ ’’مِزَاجِ شَاہَاں تَابِ سُخَنْ نَدَارَدْ یعنی شاہوں کا مزاج سننے کی تاب نہیں رکھتا‘‘کے مِصداق ولید کو غصّہ تو بہت آیا مگروہ اپنا غصّہ پی گیا اور کہنے  لگا:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر برکتیں نازل فرمائے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۴ملخصًا)

حجاج کی سازش

            آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے مشورے کے مطابق ولید نے تما م گورنروں  کو یہ  حُکم لکھ کر بھیج دیا ۔ سوائے حجاج کے کسی نے اِس سے تنگی محسوس نہیں کی ، اُس کو یہ  حُکم بڑا شاق گزرا



[1]    دَبَران چاند کی ایک منزل کانام ہے ، اس وقت چاند ثریا اور جوزا کے درمیان ہوتا ہے ، عرب میں نجومیوں کا یہ وہم رائج تھا کہ یہ ساعت منحوس ہوتی ہے ، مزاحم کا اشارہ اسی طرف تھا ۔



Total Pages: 139

Go To