Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بن زیدرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ جو رسولِ اکرم ، نورِ مجسمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مولیٰ زاد (یعنی آزاد کردہ غلام) تھے ، اُن کی بیٹی ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کے پاس آئیں تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے کھڑے ہوکر اُن کا استقبال کیا ، اپنی جگہ بٹھایا اور ان کی تمام ضرورتیں پوری کیں ۔ (تاریخ الخلفاء ص۲۳۹) اسی طرح حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزکے خلیفہ بننے کے بعد ایک بار خاندانِ بنو اُمیہ کے بہت سے لوگ دروازہ پر منتظر بیٹھے ہوئے تھے ، لیکن آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے حضرتِ عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کے غلام کو سب سے پہلے باریابی کا موقع دیاتوہشام نے جل کر کہا : کیا عمر بن عبدالعزیز کو سب کچھ کرکے اب بھی تسکین نہیں ہوئی کہ ایک غلام کو موقع دیتے ہیں کہ ہماری گردن پھاند کے چَلا جائے ۔ (سیرتِ ابن جوزی ، ص۹۲)

بشارتِ نبوی

            امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز مکہ مکرمہ کی طرف جارہے تھے کہ ایک چَٹیَل میدان میں ایک مُردہ سانپ دیکھا ۔ انہوں نے ایک گڑھا کھودا اور ایک کپڑے میں اس سانپ کولپیٹ کر دَفن کردیا ۔ اچانک غیب سے ایک آواز سنائی دی :’’ اے سُرّق ! تم پر  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کو فرماتے سنا ہے : اے سرّق!تم ایک چٹیل میدان میں مروگے اورتمہیں میری اُمت کا بہترین آدمی دَفن کریگا ۔ ‘‘ یہ سن کر حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے اس آواز دینے والے سے پوچھا:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے ، تم کون ہو؟‘‘ اس نے کہا : ’’میں ایک جن ہوں اوریہ سُرّق ہے ، ہم اُن جنات میں سے ہیں جنہوں نے مدینے کے تاجدار  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم سے بَیعَت کی ہے ، ہم دونوں کے سوا اُن میں کوئی بھی زندہ نہیں رہا ، میں نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا تھا :’’اے سرّق!تم چٹیل میدان میں دم توڑو گے اور تمہیں میرا بہترین اُمّتی دَفن کرے گا ۔ ‘‘(دلائل النبوۃ، ج۶، ص۴۹۴)

جنات کی تین قسمیں

             شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ  وسلَّم نے فرمایا :’’جنات کی تین قسمیں ہیں ؛اَوّل:جن کے پَر ہیں اور وہ ہوا میں اُڑتے ہیں ، دُوَم: سانپ اورکتے اورسِوُم: جو سفر اور قیام کرتے ہیں ۔ ‘‘ (اَلْمُسْتَدْرَکُ لِلْحَاکِم، الجن ثلاثۃ اصناف ، الحدیث ۳۷۵۴، ج۳ ، ص۲۵۴)

جنات کی مختلف شکلیں

            علامہ بدر الدین شبلی حنفیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویاپنی کتاب’’اٰکَامُ الْمَرْجَانِ فِیْ  اَحْکَامِ الْجَانِ‘‘میں لکھتے ہیں :’’ بلاشبہ جنات انسانوں اور جانوروں کی شکل اِختیار کر لیتے ہیں چنانچہ وہ سانپوں ، بچھوؤں ، اونٹوں ، بیلوں ، گھوڑوں ، بکریوں ، خچروں ، گدھوں اور پرندوں کی شکلوں میں بدلتے رہتے ہیں ۔ ‘‘   [1]؎  (آکام المرجان فی احکام الجان، الباب السادس فی تطور الجن و تشکلہم ، ص۲۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

گورنری سے اِستعفٰی

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ۸۷ھ سے ۹۳ ھ تک  تقریباً 6سال تک مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً میں گورنری کی خدمات اَنجام دیتے رہے ، اس دوران طائف اور مکّۂ مکرَّمہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْما بھی آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے زیرِ انتظام رہے ۔  آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کے عَدل واِنصاف نے مکے مدینے والوں کے دل جیت لئے مگرایک افسوس ناک واقعہ کی وجہ سے آپ گورنری سے مُستَعفِی ہوگئے ، ہوا یوں کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک نے آپ  رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہکو پیغام بھیجا کہ خُبَیب بنعبداللّٰہ (رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ) کو گرفتار کر لیں اور100کوڑوں کی سزا دیں ۔ چنانچہ حضرتِ خُبَیب بن عبداللّٰہ (رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کو پابندِسَلاسِل کردیا گیا اور جب انہیں سوکوڑے مارے گئے تو ایک گھڑے میں ٹھنڈا پانی لا کر حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو دیا گیا جسے آپ  رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے خُبَیب بن عبداللّٰہ(رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) پرپھینک دیا، سردیوں کے دن تھے ، اُن پر کپکپی طاری ہوگئی ۔ جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو آپ نے انہیں قیدسے رہا کردیا اور اپنے فعل کی معافی مانگی ۔ ان کے رشتہ دار انہیں گھر لے گئے ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزبہت پریشان تھے چنانچہ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے اپنے مُعاوِن’’ ماجِشُون‘‘ کو معلومات کے لئے ان کے گھر بھیجا ۔ جب ماجشون وہاں پہنچے تو حضرت خُبَیب بن عبداللّٰہ (رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کی کفن میں لپٹی ہوئی لاش ان کے سامنے تھی ۔ ماجِشُونکا بیان ہے کہ جب میں واپس حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس پہنچا تو آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ بے قراری کے عالَم میں اٹھ بیٹھ رہے تھے ، مجھے دیکھتے ہی بے چینی سے پوچھا: کیا ہوا؟ جب میں نے  خُبَیب بن عبداللّٰہ (رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کی موت کی خبر دی تو وہ غش کھا کر زمین پر گر گئے کچھ دیر بعد ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رٰجِعُوْن ‘‘ پڑھتے ہوئے اٹھے اور گورنری سے مُستَعفِی ہوگئے ۔ اس واقعے کا آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کو عمر بھر افسوس رہا ، حتی کہ جب کبھی کوئی کسی کام پر آپ کی تعریف کرتا کہ آپ نے بڑا شاندار کام کیا ہے تو فرمایا کرتے : ’’مگر میں نے خُبَیب کے ساتھ کیا کِیا؟‘‘(سیرتِ ابنِ جوزی ، ص۴۴)

اِستعفیٰ یا مَعزولی؟

            بعض روایات کے مطابق محلاتی سازشوں کے نتیجے میں ولید نے خود ہی انہیں مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْما کی گورنری سے معزول کر دیا تھا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اُس وَقت کے خلیفہ ولید بن عبدالملک کو ایک خط روانہ کیا جس میں حجاج بن یوسف کے بڑھتے ہوئے مَظالِم کی شکایت کی گئی تھی ۔ جب حجاج بن یوسف کو اِس بارے میں پتا چلا تو اس نے آگ بگولہ ہوکر ولید کو ایک خط میں لکھا کہ عراق سے بہت سے فسادی لوگ جِلا وطن ہوکر مکّہ اور مدینہ میں آباد ہوگئے ہیں جو ایک قسم کی سیاسی کمزوری ہے (اور اس کا ذمہ دار وہاں کا گورنر ہے ) ۔ ولید نے جواب میں لکھا: مجھے گورنری کے لئے دو نام بتاؤ جنہیں وہاں گورنری کی خدمت سونپی جاسکے ۔ حجاج بن یوسف نے خالد بن عبداللّٰہ اور عُثمان بن حیّان کے نام لکھ کر بھیجے ، چُنانچِہ ولید نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو معزول کر کے خالد بن عبداللّٰہ کومکّۂ مکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً اور عثمان بن حیان کو مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماًمیں



[1]    جنات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’جنات کی حکایات ‘‘ اور 262صفحات پر مشتمل کتاب ’’قوم جنات اور امیر اہلسنّت‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔



Total Pages: 139

Go To