Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

 

آگے نہ پڑھ سکے

            حضرتِ سیِّدُنا مقاتل بن حیّان رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے پیچھے نَماز پڑھی ۔ جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ تلاوت کرتے ہوئے پارہ 23سورۂ صافات کی آیت24 :’’ وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَۙ(۲۴) (ترجمۂ کنزالایمان:اور انہیں ٹھہراؤ ان سے پوچھنا ہے ۔ ) ‘‘پر پہنچے تو رونے لگے ، اسی آیت کو بار بار پڑھا مگر آگے نہ بڑھ سکے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۱۷)

          صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاس آیت کے تحت لکھتے ہیں :(یعنی) صِراط کے پاس(ٹھہراؤ) ، حدیث شریف میں ہے کہ روزِ قیامت بندہ جگہ سے ہل نہ سکے گا جب تک چار باتیں اس سے نہ پوچھ لی جائیں : (۱) ایک اس کی عمر کہ کس کام میں گزری؟ (۲) دوسرے اس کا عِلم کہ اس پر کیا عمل کیا؟ (۳) تیسرے اس کا مال کہ کہاں سے کمایا کہاں خرچ کیا؟ (۴) چوتھے اس کا جِسم کہ اس کو کس کام میں لایا ؟(ترمذی، ج۴، ص۱۸۸، الحدیث۲۴۲۵)

تُلیں میرے اعمال مِیزاں پہ جس دم

پڑے اِک بھی نیکی نہ کم یاالٰہی(وسائلِ بخشش ، ص۸۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَحَبّتِ مدینہ

              حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزمدینۂ طَیِبَّہ زَ ادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْمًاکے ادب و اِحترام کا بہت زیادہ لحاظ رکھتے تھے ، مثلاً مدینہ کا جو حَرَم رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے مقرر کردیا تھا، اس کے اندر کے درخت یا گھاس کو کاٹا نہیں جاسکتا تھا ، جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے مَروِی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، سُرورِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں اس کے گوشوں کے درمیان کو کہ اس میں خون بہایا جائے نہ شکار کیا جائے اور نہ ہی بَجُز چارے کے یہاں کا درخت کاٹا جائے ۔ ( مسلم، کتاب الحج، الحدیث ۱۳۶۲ ص۷۰۹)

            غالباًاِسی فرمانِ مصطفی کا پاس رکھنے کے لئے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز فرمایا کرتے تھے :ایک شخص کو میرے سامنے اس حالت میں لایا جائے کہ وہ شراب لئے جاتا ہومگر یہ گوارا نہیں کہ ایک شخص کو اس حالت میں لایا جائے کہ وہ حرمِ مد ینہ سے کوئی چیز کاٹ کر لے جاتا ہو ۔ (معجم البلدان ، باب المیم والدال ج۴ ص۲۳۲ ملخصًا)

واہ! کیا بات ہے مدینے کی

             حضرتِ سیِّدُنا انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ نبیِّ اکرم نورِ مجسّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب سفر سے آتے اور مدینہ پاک کی دیواروں کو دیکھتے تواس کی محبت کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز فرمادیتے اور اگر گھوڑے پر ہوتے تو اسے ایڑی لگاتے ۔ ( بخاری ، کتاب الحج، الحدیث ۱۸۰۲ ، ج۱، ص۵۹۴)

تُو عطارؔ کو چشمِ نَم دے کے ہر دم

                            مدینے کے غم میں رُلا یاالٰہی(وسائل بخشش ص۸۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اہلِ بیت سے محبت

حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز اہلِ بیت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہمسے بہت محبت رکھتے تھے ، چنانچِہ جب کسی چیز کو راہِ خدا میں پیش کرنے کاارادہ کرتے تو فرماتے :اِبْتَغُوْا اَھْلَ بَیْتٍ بِہِمْ حَاجَۃٌ  یعنیاُن اہل بیت کوتلاش کرو جوحاجت مند  ہوں ۔ (سیرت ابن جوزی۴۲)

محبتِ اہلِ بیت کا فائدہ

            سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار، شہنشاہِ اَبرار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے فرمایا:اَحِبُّوا اللّٰہَ لِمَا یَغْذُوکُمْ مِنْ نِعَمِہِ وَاَحِبُّونِی بِحُبِّ اللَّہِ وَاَحِبُّوا اَہْلَ بَیْتِی لِحُبِّی یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں سے روزی دیتا ہے اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی محبت کے لیے مجھ سے محبت کرواور میری محبت کے لیے میرے اہلِ بیت سے محبت کرو ۔ (ترمذی ، الحدیث ۳۸۱۴، ج۵، ص۴۳۴)

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُ مَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی محبت حاصل کرنے کے لئے مجھ سے محبت کرو کیونکہ میں اللّٰہتعالیٰ کا محبوب ہوں ، محبوب کا محبوب خود اپنا محبوب ہوتا ہے ، میری محبت حاصل کرنے کے لئے میرے گھر والوں ، اولاد پاک، اَزواجِ مطہرات(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم) سے محبت کرو کیونکہ وہ میرے محبوب ہیں خلاصہ یہ ہے کہ ان محبتوں میں ترتیب یہ ہے کہ اہلِ بیت کی محبت زِینہ ہے حضور (صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم ) کی محبت کا او ر حضور (صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم ) کی محبت ذریعہ ہے رب تعالیٰ کی محبت کا ۔ (مراٰۃ المناجیح ج۸، ص۴۹۳)

صحابہ کا گدا ہوں اور اہلبَیت کا خادِم

                  یہ سب ہے آپ ہی کی تو عنایت  یارسولَ اللّٰہ(وسائل بخشش ص۱۸۴)

کھڑے ہوکر استقبال کیا

            جو لوگ خاندانِ نبوت سے تھوڑا سا تعلق بھی رکھتے تھے ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز اُن کے ساتھ اسی قسم کے فیاضانہ سُلُوک کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنااُسامہ



Total Pages: 139

Go To