Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

              حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز اپنے زمانۂ گورنری میں ایک رات مسجد ِ نبوی شریف میں حاضر ہوئے ، اورجَہری (یعنی اونچی) قراء ت  [1]؎کے ساتھ نَماز پڑھنے لگے ، آواز بڑی اچھی تھی، اتفاقاً قریب ہی کہیں حضرت ِ سعید بن مسیب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ موجودتھے ، مگر انہیں آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی موجودگی کا عِلم نہیں تھا ، چنانچہ انہوں نے اپنے غلام ’’ بُرد‘‘سے فرمایا: ’’اِس قاری کو یہاں سے ہٹاؤ، اس کی آواز ہمیں پریشان کررہی ہے ۔ ‘‘غلام اِس کام کی ہمت نہ کر سکا اور حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز بدستور اپنے دھیان میں نَماز پڑھتے رہے ۔ تھوڑی دیر بعد حضرت سعید رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے غلام سے پھر فرمایا:’’ بُرد! بڑے افسوس کی بات ہے ، میں نے کہا تھاکہ اِس قاری کو یہاں سے ہٹاؤ، مگر تم نے ابھی تک نہیں ہٹایا ۔ ‘‘ بُرد نے عَرض کی:’’حضور! مسجد کوئی ہماری جاگیر تو نہیں ۔ ‘‘ جب یہ بات حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے کان میں پڑی تو اپنے جوتے اُٹھائے اور مسجد کے دوسرے کونے میں چلے گئے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۳) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

زمانۂ خدمت کی یادگاریں

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے مدینۂ منوَّرہ   زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً میں اپنے زمانۂ خدمت کے دوران مسجدِ نبوی شریف کی اَز سَرِنَو تعمیر کی، مسجد نبوی میں اگرچہ امیرُ المُؤمنین حضرت سیِّدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے زمانہ سے ہی تھوڑی بہت توسیع کا کام شروع ہوگیا تھا بالخصوص  امیرُ المُؤمنین حضرت سیِّدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے اسے بہت شاندار بنا دیا تھا ، پھر امیرُ المُؤمنینحضرت سیِّدنا علی المرتضیٰ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے بعد سے لے کر عبدالملک تک مسجد نبوی میں کوئی تصرُّف نہیں کیا گیا، ولید بن عبدالملک مسندِ خلافت پر بیٹھا تو مسجد نبوی کو نئی آب وتاب کے ساتھ بنانا چاہا ، چنانچہ اس نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو لکھا کہ مسجد نبوی کی تعمیر نو کی جائے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے مسجد کے پاس موجود مکانات خرید کر مسجد میں شامل کئے اور فقہائے مدینہ نے مسجدِ نبوی کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھا اور مسجد بننا شروع ہوگئی ۔ پہلے مسجِد میں امام کیلئے طاق نُما محراب نہیں ہوتی تھی سب سے پہلے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیزنیمسجدُ النَّبَوِی الشّریف علیٰ صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام میں محراب بنانے کی سعادت حاصل کی اِس نئی ایجاد( بد عتِ حَسَنہ) کو اس قَدَر مقبولیّت حاصل ہے کہ اب دنیابھر میں مسجد کی پہچان اِسی سے ہے ، روضۂ اطہر کے چاروں طرف دوہری دیوار بنوائی ، اطرافِ مدینہ میں جن جن مساجد میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے نَماز ادا فرمائی تھی ، ان کو مُنَقَّش پتھروں سے تعمیر کروایا، مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً میں پانی کے کنویں کھدوائے اور راستے ہموار کروائے ۔ (البدایۃ والنھایۃ ج۶ ص  ۱۹۷ ملخصًا)

 رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم جیسی نَماز

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سنّتِ خیرُ الْاَنامعلٰی صاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر عمل کی بھرپور کوشِش کیا کرتے تھے ۔ جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ گورنرِ مدینہ تھے تو نبیِّ کریم، رَئُ وف رَّحیم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کے خادمِ خاص اور جلیل القدر صحابی حضرتِ انس بن مالک  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عراق سے مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً  آئے توحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پیچھے نَماز پڑھی ۔ انہیں حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی نَماز بہت پسند آئی چنانچہ نَماز پڑھنے کے بعد فرمایا : ’’ مَا رَ أَ یْتُ اَحَدًا اَشْبَہَ بِصَلَاۃِ النَّبِیِّ مِنْ ہَذَا الْغُلَامِ یعنی میں نے اس نوجوان سے بڑھ کر رسول اکرمصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمسے مشابہ نَماز پڑھنے والا کوئی نہیں دیکھا ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۳۴)

اطمینان سے نَماز پڑھنے کی فضیلت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی نَماز اطمینان اور سکون سے پڑھنی چاہئے تاکہ ہماری نَماز قبولیت کی مِعراج تک پہنچ سکے ، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامِت رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ رَحمت ، شَفیعِ اُمّت، شَہَنْشاہِ  نُبُوَّت ، تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے ، ’’ جو شَخص اچّھی طرح وُضو کرے ، پھر نَماز کے لیے کھڑا ہو، اِس کے رُکوع ، سُجُود اور قِراء َت (قِرا ۔ ء ۔ ت)   کو مکمَّل کرے تو نَماز کہتی ہے :  اللہ عَزَّوَجَلَّ تیری حفاظت کرے جس طرح تُو نے میری حِفاظت کی ۔ پھر اس نَماز کو آسمان کی طرف لے جایا جاتاہے اور اس کے لیے  چمک اور نور ہوتا ہے ۔ پس اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں حتّٰ ی کہ اسے  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے اور وہ نَماز اُس  نَمازی کی  شَفاعت کرتی ہے ۔ اور اگر وہ اس کا رُکوع ، سُجُود اور قِرائَ ت مکمَّل نہ کرے تو نَماز کہتی ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ضائِع کردے جس طرح تُو نے مجھے ضائِع کیا ۔ پھر اس  نَماز کواس طرح آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے کہ اس پر تاریکی چھائی ہوتی ہے اور اس پر آسمان کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں پھر اس کو پُرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر اس نَمازی کے منہ پر مارا جاتا ہے ۔  (شعب الایمان، ج۳، ص۱۴۲، الحدیث ۳۱۴۰)

میں پانچوں نَمازیں پڑھوں باجماعت                  ہو توفیق ایسی عطا یاالہٰی

میں پڑھتا رہوں سنَّتیں وقْت ہی پر                  ہوں سارے نوافِل ادا یاالہٰی

(وسائلِ بخشش ص۸۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مٹی پر سجدہ کیا کرتے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز (کپڑے وغیرہ کے بجائے ) ہمیشہ مٹی پر سجدہ کیا کرتے تھے ۔ (احیاء العلوم، ج۱ ص۲۰۴)

        مدنی پھول:سجدہ زمین پر بلا حائل ہونا مُستَحَب ہے ۔ اگر کوئی کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرے تو حرج نہیں ۔ (بہارِ شریعت ، ج ۱، ص۵۲۹، ۵۳۸)

 



    12  دن کے نوافل میں قرآن آہستہ پڑھنا واجب ہے اور رات کے نوافل میں اختیار ہے اگر تنہا پڑھے اور جماعت سے رات کے نفل پڑھے ، تو جہر واجب ہے ۔ (درمختارمع ردالمحتار ج۲، ص۳۰۶)



Total Pages: 139

Go To