Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

اور جس نے مِیَانہ رَوِی کی وہ کنگال نہیں ہوگا ۔ (طبرانی اوسط ج۵ ص۷۷ الحدیث :۶۶۲۷) (۴) کسی دانا سے پو چھا گیا کونسی چیز عَقل کی زیادہ مُؤَیِّد(یعنی مددگار) اور کو نسی زیادہ مُضِرّ(یعنی نقصان دہ) ہے ۔ کہا:عَقل کے لئے زیادہ  مُفِید تین چیزیں ہیں ۔ (1) علماء کرام سے مشورہ کر نا ۔ (2) اُمور کا تجربہ ہونا ۔

 (3) کام میں ٹھہراؤ سلجھاؤہونا اور زیادہ مُضِر(یعنی نقصان دہ) بھی تین چیزیں ہیں ۔ (1) خود رائی ( 2) ناتجربہ کاری (3) جلد بازی ۔ ( العقد الفریدج۱ ص۲۶)  (۵) حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  فرماتے ہیں :’’خَاطَرَ مَنِ اسْتَغْنَی بِرَأْیِہٖیعنیجس نے اپنی رائے کو کافی جاناوہ خطرے میں پڑ گیا ۔ ‘‘  [1]؎  ( المستطرف ج۳ ص۲۴۵)

عِلم کے قدردان

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نہ صرف خود زبردست عالِم تھے بلکہ عِلم اور علماء کے قَدَر دان بھی تھے ، چُنانچِہ فرماتے ہیں :’’اِنِ اسْتَطَعْتَ فَکُنْ عَالِمًا فَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَکُنْ مُتَعَلِّمًا فَاِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَاَحِبَّھُمْ فَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَلاَتَبْغُضْھُم یعنی اگر تم سے ہوسکے تو عالِم بنو، یہ نہ ہوسکے تو مُتَعَلِّم بنو، یہ بھی نہ ہو سکے تو علمائے کرام سے محبت ہی رکھواوریہ بھی نہ ہو سکے تو کم از کم ان سے بُغض تو نہ رکھو ۔ پھر فرمایا: جس نے اس نصیحت کو قبول کرلیا، اُس کے لئے نَجات کا کوئی راستہ نکل ہی آئے گا، اللہ عَزَّوَجَلَّ  ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۳)

مجھ کو اے عطّارؔ سُنّی عالِموں سے پیار ہے

                                                    اِنْ شَآءَ اللہ  دوجہاں میں میرا بیڑا پار ہے (وسائل بخشش ص۶۴۶)

عِلم حاصل کرنے کا نُسخہ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا:تم عِلم کواُس وَقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اِس کوجہالت پرترجیح نہ دواورحق کونہیں پاسکتے جب تک باطِل کونہ چھوڑدو ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۰۲)

عالمِ باعمل بنو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے حضرت عبدالرحمن بن نُعَیم  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو ایک مکتوب میں لکھا: بے شک عِلم اور عمل قریب قریب ہیں لہٰذا تم عالِمِ باعمل بنو کیونکہ جو لوگ عِلم رکھتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے تو اُن کا عِلم ان کے لئے وَبال بن جاتا ہے ۔ (تاریخ طبری، ج۴، ص۲۵۰ )

عِلم غنی کی زِینت ہے

            ایک اور مقام پر فرمایا: تَعَلَّمُوْا الْعِلْمَ فَاِنَّہٗ زَیْنٌ لِلْغَنِیِّ وَعَوْنٌ لِلْفَقِیْرِ لَااَقُوْلُ اِنَّہٗ یَطْلُبُ بِہٖ وَلٰکِنَّہٗ یَدْعُوْ اِلَی الْقَنَاعَۃِ یعنی عِلم سیکھو! یہ غنی کی زینت اور فقیر کے لئے معاوِن (یعنی مددگار) ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ فقیر عِلم کے ذریعے مانگتا پھرے گا بلکہ عِلم اُسے قَناعت پر آمادہ کرے گا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۶)

عِلم کی فضیلت

          رسولِ اکرم ، نورِ مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ فضیلت نشان ہے :اِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِعَلٰی سَائِرِ الْکَوَاکِبِ  یعنی عالم کی بُزُرگی عابِد(یعنی عبادت گزار ) پر ایسی ہے جیسے چودہویں رات کے چاند کی تاروں پر ۔ (ابن ماجہ ج۱، ص۱۴۶ ، الحدیث ۲۲۳)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقینا عِلمِ دین کی بڑی فضیلت واہمیت ہے مگر فی زمانہ اِس حوالے سے ہماری حالت انتہائی ناگُفتَہ بہ ہے ، حبِّ جاہ ومال نے ہمارے دلوں پر ایسا قبضہ کررکھا ہے کہ ہم عزت ، شہرت اور دولت پانے کے لئے دُنیا کا ہر کام سیکھنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں لیکن اپنی آخِرت سنوارنے کے لئے عِلمِ دین حاصل کرنے کے لئے ہمارے پاس وَقت نہیں ہوتا ، یاد رکھئے عِلم مال سے افضل ہے ، چنانچِہ

علم مال سے افضل ہے

              حضرتِ مولائے کائنا ت عَلیُّ الْمرتَضٰیکَرَّمَ اللّٰہ تعالٰی وَجہَہُ الکرِیم فرماتے ہیں کہ عِلمِ دین مال پر سات وجہ سے افضل ہے : (۱)  علم پیغمبروں کی مِیراث اور مال فرعون، ہامان اور نَمرود کی (۲) مال خَرچ کرنے سے گھٹتا ہے مگر علم بڑھتا ہے (۳) مال کی انسان حفاظت کرتا ہے مگر علم انسان کی حفاظت کرتا ہے (۴) مرنے کے بعد مال تو دنیا میں رہ جاتا ہے اور علمقَبْر میں ساتھ جاتا ہے (۵) مال مومِن و کافِر سب کو مل جاتا ہے مگر علم دین کا نفع ایماندار ہی کو حاصل ہوتا ہے (۶) کوئی بھی عالم سے بے پرواہ نہیں لیکن بَہُت سے لوگوں کو مالداروں کی ضَرورت نہیں (۷) علم سے پُل صراط پر گزرنے کی قُوّت حاصل ہو گی اور مال سے کمزوری ۔ (تفسیر کبیر ج۱ ص۴۰۳ )

علم کی حفاظت کا طریقہ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:اَ یُّھَاالنَّاسُ قَیِّدُوْا الْعِلْمَ بِالْکِتَابِ یعنی اے لوگو! عِلم کی حفاظت لکھنے کے ذریعے کرو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۶)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب بھی دینی عِلم کی یا حکمت بھری کوئی بات سنیں اُسے لکھنے کی عادت بنایئے ، عِلمِ دین کی بات لکھ لینے سے جلدی یاد بھی ہو جاتی اور اس کی بَقاء کی صورت بھی پیدا ہوتی ہے ۔ تابعی بُزُرگ حضرت سیِّدُنا ابو قِلابہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا قول ہے : بھول جانے سے لکھ لینا کہیں بہتر ہے ۔ (جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۱۰۳) علمِ نحو کے مشہور امام حضرت خلیل بن احمد تابعی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی کا قول ہے : ’’جو کچھ میں نے سنا ہے ، لکھ لیا ہے اور جو کچھ لکھا ہے ، یاد کر لیاہے اور جو کچھ یاد کیا ہے ، اس سے فائدہ اٹھایا ہے ۔ ‘‘(ایضًا ، ص ۱۰۵ ) حضرت سیِّدُنا عصام بن یوسف رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے مُفِید باتیں لکھنے کیلئے ایک دِینارمیں قلم خرید فرمایا تھا ۔ (تعلیم المتعلم، ص۱۰۸) (تذکرۂ امیرِ اہلسنّت حصہ۵ملخصًا)

 



[1]