Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

عَنَّا جَزَاکَ مَلِیْکُ النَّاسِ صَالِحَۃً                                                                                                                    فِیْ جَنَّۃِ الْخُلْدِ وَالْفِرْدَوسِ یَا عُمَرُ!

اَنْتَ الَّذِیْ لَا نَرٰی عَدْلاً نَسُرُّ بِہٖ                                                                                                                           مِنْ بَعْدِہٖ مَا جَرٰی شَمْسٌ وَلَا قَمَرُ

ترجمہ:(۱) …اے سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ!لوگوں کاعظیم بادشاہ عَزَّوَجَلَّ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو ہماری طرف سے جنت الخلداور جنت الفردوس میں بہترین جزاء عطافرمائے ۔ (آمین)

                (۲) … جب تک سورج چاند طلوع ہوتے رہیں گے ، ہم آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے بعد ایسا عادل خلیفہ کبھی نہ پائیں گے جس سے ہم خوش ہو سکیں ۔ (اخبار مکۃ للفاکھی، ذکر السمر والحدیث فی المسجد الحرام، الحدیث۱۳۳۹، ج۲، ص۱۵۱)

 

شہداکی جنازے میں شرکت

            کسی بُزُرگ کا لڑکا شہید ہوگیا، وہ اپنے باپ کو کبھی خواب میں نظر نہ آیا ۔ صِرف اس دن خواب میں باپ سے ملا جس دن حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے وِصال فرمایا ۔ باپ نے دیکھ کر فرمایا: میرے بیٹے ! کیا تم پر موت  واقع نہیں ہوچکی؟تو اس نے جواب دیا :میں مُردہ نہیں ہوں ، بلکہ مجھے شہادت نصیب ہوئی ہے اور میں اللّٰہ تعالیٰ کے قُرب میں زندہ ہوں ، اور مجھے اَنواع و اقسام کی روزی ملتی ہے ۔ باپ نے پوچھا:پھرآج تم ادھر کیسے آگئے ؟تو اس نے کہا: آج تمام آسمان والوں کو آواز دی گئی کہ آج انبیاء وشہداء سب عمر بن عبدالعزیز کے جنازہ میں شریک ہوں ، تو میں بھی ان کی نَماز جنازہ میں شرکت کے لیے ادھر آیا تھا ۔ (تاریخ دمشق ، ج۴۵ ، ص۲۵۷ملخصًا)

آزادی کا پروانہ

اَمیرُ المُؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعُمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ایک مرتبہ  شعبانُ المُعَظَّم کی پندرہویں رات یعنی شبِ برائَ ت عِبادت میں مصروف تھے ۔ سراُٹھایا تو ایک ’’سبز پرچہ‘‘ملا جس کا نُور آسمان تک پھیلا ہواتھا، اُس پر لکھا تھا، ’’ہٰذہٖ بَرَائَ ۃٌ مِّنَ النَّارِ مِنَ الْمَلِکِ الْعَزِیْزِ لِعَبْدِہٖ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ‘‘ یعنی خدائے مالِک وغالِب کی طرف سے یہ ’’جہنَّم کی آگ سے آزادی کا پروانہ‘‘ہے جو اُس کے بندے عمر بن عبد العزیز کو عطا ہوا ہے ۔ (تفسیر روح البیان ج۸ص۲۰۴ )

جنت کے دروازے پر پروانۂ نجات

            ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے :بَرَآئَ ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ لِعُمَرَبْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِمِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ یعنی  خدائے غالِب ورحیم کی طرف سے اُس کے بندے عمر بن عبد العزیز کے لئے دردناک دن(یعنی یومِ قِیامت) کے عذاب سے نجات ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۹۰)

میں جنت عدن میں ہوں

             حضرتِ سیِّدُنا مَسلَمَہ بن عبدالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو خواب میں دیکھا تو پوچھا: کاش ! مجھے پتا چل جائے کہ بعدِ وفات آپ کن حالات سے گزرے ! فرمایا:واللّٰہ ! میں بہت آرام میں ہوں ۔ پوچھا: یا امیرالمومنین !آپ کہاں پر ہیں ؟فرمایا: ائمہ ھُدی کے ساتھ جَنّات عدن میں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۸۷)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حضرت مکحول کے تأثرات

             ایک بارحضرتِ سیِّدُنا مکحول رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ مقامِ دابق سے پلٹ کر ایک منزل میں کُوچ کے وقت اترے اور ایک طرف دور نکل گئے ، لوگوں نے پوچھا: حضرت!کہاں تشریف لے گئے تھے ؟ فرمایا: پانچ میل کے فاصلہ پر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی قَبر تھی میں وہیں گیا تھا، خدا کی قسم! اُن کے زمانہ میں ان سے زیادہ کوئی خدا تَرس نہ تھا، خدا کی قسم ان کے زمانہ میں ان سے زیادہ کوئی زاہِد نہ تھا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۷)

تقویٰ وپرہیز گاری کی قسم اٹھائی جاسکتی ہے

            حضرتِ سیِّدُنا مکحول رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا ہی بیان ہے کہ اگر میں اس بات پر قسم کھاؤں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنہایت زاہد، پاکباز اور خوف خدا رکھنے والے تھے تو میری قسم جھوٹی نہیں ہوگی ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۹۱)

 اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا انعام

            حضرتِ سیِّدُنا امام زھری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں : فَلَمَّا کَانَ فِیْ رَأْسِ الْمِأَۃِ مَنَّ اللّٰہُ عَلٰی ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ بِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزیعنی جب صدی اختتام پذیر ہوئی تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی صورت میں اس اُمّت پر اِحسان فرمایا ۔ (درمنثور ج۱ص۷۶۸)

مرنے کے بعد بھی احترام

            ہشام بن عبدالملک جب خلیفہ بنا تو اس کے پاس ایک آدمی آکر کہنے لگا: امیرالمومنین!عبدالملک نے میرے داداکوایک جاگیردی جسے ولیداورسلیمان نے  برقراررکھااورجب عمربن عبدالعزیزرَحِمَہُ اللّٰہ خلیفہ بنے توانہوں نے واپَس لے لی ۔ ہشام نے اس سے کہا:اپنی بات دہراؤ، اس نے کہا:امیرالمومنین!عبدالملک نے میرے داداکوایک جاگیردی جسے ولیداورسلیمان نے برقراررکھا، اورجب عمربن عبدالعزیزرحمہ اللّٰہخلیفہ بنے توانہوں نے لے لی، ہشام نے کہا:تم بھی عجیب آدمی ہو؟جنہوں نے تمہارے داداکوجاگیردی ان کا تَذکِرہ بغیر کسی تعظیم کے کرتے ہو اورجس نے چھینی ان کے لئے دُعائے رحمت کررہے ہو، البتہ ہم نے وہی  حُکم صادِر کیاجوعمربن عبدالعزیزرَحِمَہُ اللّٰہ نے کیاتھا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۸۰ رقم ۷۴۷۶)

بارگاہِ مصطَفٰے میں حاضِری

 



Total Pages: 139

Go To