$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

ادا کرنے کا  حُکم دے دیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۶)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ایک مسلمان قیدی کا واقعہ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے شاہِ روم کے پاس ایک قاصد بھیجا ۔ یہ قاصد ایک دن بادشاہ کے پاس سے اٹھا تو گھومتے پھرتے ایک ایسی جگہ پہنچا جہاں ایک شخص کے قرآن پڑھنے اور چکی پیسنے کی آواز آرہی تھی ۔ یہ اس کے پاس گیا اورسلام کرنے کے بعد اس کے حالات دریافت کئے تو اس نے بتایا کہ مجھے فلاں جگہ سے قید کیا گیا تھااور شاہِ رُوم کے سامنے پیش کیا گیا ، بادشاہ نے مجھے دعوت دی کہ میں نصرانی(کرسچین) ہوجاؤں مگر میں نے اِنکار کردیا، بادشاہ نے دھمکی دی کہ اگر ایسانہیں کرو گے تو آنکھیں نکال دی جائیں گی مگر میں نے دین کو آنکھوں پر ترجیح دی چنانچہ گرم سلائیوں سے میری آنکھیں ضائع کردی گئیں اور یہاں قید خانے میں پہنچادیا گیا ، روزانہ کچھ گندم پیس لیتا ہوں جس کے عِوَض مجھے کھانا دیا جاتا ہے ۔ جب قاصِد حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس پہنچا توا س قیدی کا ماجرا بھی بیان کیا ۔ قاصد کا کہنا ہے کہ میں ابھی پورا قصہ بیان نہیں کرپایا تھا کہ آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکی آنکھوں سے آنسوؤں کا چشمہ اُبل پڑا ، جس سے ان کے آگے کی جگہ تَر ہوگئی، اسی وقت شاہِ روم کے نام خط لکھا:’’اما بعد ! مجھے فلاں قیدی کے بارے میں خبر ملی ہے ، میں اللّٰہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر تم نے اسے رہا کرکے میرے پاس نہیں بھیجا تو میں مقابلے کے لئے ایسا لشکر بھیجو ں گا جس کا اگلا سِرا تمہارے پاس ہوگا اورپچھلامیرے پاس ۔ ‘‘

            قاصِد پھر شاہِ روم کے یہاں گیا تواس نے کہا:’’ بڑی جلدی دوبارہ آئے !‘‘ قاصد نے حضرتِ عمر کا خط پیش کیا ، اس نے پڑھ کر کہا: ہم نیک آدمی کو لشکر کشی کی زحمت نہیں دیں گے اوراس قیدی کو واپَس کردیں گے ۔ قاصد کا بیان ہے کہ مجھے قیدی کی رہائی کے انتظار میں چند دن وہاں ٹھہرنا پڑاایک دن بادشاہ کے دربار میں گیا تو عجیب منظر دیکھا کہ بادشاہ اپنے تخت سے نیچے بیٹھا ہے اور چہرے پر حُزن و مَلال کے آثار ہیں ۔ مجھے دیکھتے ہی کہا جانتے ہو میں اس طرح کیوں بیٹھا ہوا ہوں ؟ میں نے کہا: مجھے پتا نہیں مگرمیں بہت حیران ہوا ہوں ۔ بادشاہ نے کہا مجھے بعض علاقوں سے خبر پہنچی ہے کہ اس نیک آدمی (یعنی حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ) کا اِنتقال ہوگیا ، اس کے غم میں میری یہ حالت ہوئی ہے ۔ قاصد کہتا ہے : مجھے اس اطلاع سے اُس قیدی کی رہائی سے مایوسی ہوگئی، میں نے بادشاہ سے کہا :  مجھے واپَسی کی اِجازت ہو ۔ وہ کہنے لگا: یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم زندگی میں انکی بات مان لیں اور انکی موت کے بعد اس سے پھر جائیں ، چنانچہ اس قیدی کو رہا کرکے میرے ساتھ بھیج دیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۴)

جب خلیفہ کا قاصد موت کی خبر لے کر پہنچا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کا قاصد جب بصرہ آتا تو جونہی لوگوں کو اس کی آمد کی اطلاع ہوتی وہ جَوق دَر جَوق اِستقبال کے لیے نکل آتے ، قاصد کی آمد عموماً وظیفے کی زیادتی، مال کی تقسیم، کسی بھلائی کے  حُکم یا کسی برائی سے ممانعت کا پیغام لایا کرتی ۔ لوگ قاصد کے ساتھ چل کر مسجد پہنچتے جہاں وہ خلیفہ کا فرمان پڑھ کر سنادیتا ۔ جس دن قاصدحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے اِنتقال کی خبر لایا لوگ حسب معمول اس کے اِستقبال کے لیے نکلے ، مگر آج وہ کسی خوش خبری کے بجائے رو رو کر آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے اِنتقال کے بارے میں بتا رہا تھا، لوگ اس عظیم حادثہ اور مصیبت پر روتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے اور قاصد نے وہاں آپ کی وفات کی خبر باقاعدہ پڑھ کر سنائی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۷)

شاہِ روم کا رنج وغم

            محمد بن معبد کا بیان ہے کہ میں شاہِ روم کے پاس گیا تو اس کو زمین پر نہایت رنج و غم کی حالت میں بیٹھا ہوا پایا ، میں نے پوچھا: کیا حال ہے ؟کہنے لگا: جو کچھ ہوا تم کو خبر نہیں ؟ میں نے کہا :کیا ہوا؟بولا :مرد صالح کا اِنتقال ہوگیا ۔ میں نے کہا :وہ کون ؟ بولا ’’ عمر بن عبدالعزیز ‘‘ پھر کہا : مجھے اس راہب کی حالت پر کوئی تعجب نہیں جس نے اپنے دروازے کو بند کرکے دنیا کو چھوڑ دیا، اور عِبادت میں مشغول ہوگیا مجھے اس شخص کی حالت پر تعجب ہے جس کے قدموں کے نیچے دنیا تھی اور اس نے اس کو پامال کرکے راہبانہ زندگی اِختیار کی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۳۱)

نَبَطی کے آنسو

            حضرتِ سیِّدُنا امام اَوزاعی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا بیان ہے کہ میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے جنازے میں شرکت کے بعد جب واپَس جارہا تھا کہ ایک راہب نے مجھ سے پوچھا :کیا تم حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی وفات کے وقت موجود تھے ؟ میں نے کہا: ’’ہاں ۔ ‘‘ یہ سن کراس کی آنکھیں بھر آئیں ۔ میں نے کہا :تم ان کے لئے کیوں رو رہے ہو ؟ وہ تو تمہارے ہم مذہب نہ تھے ! اس نے کہا:اِنِّیْ لَسْتُ اَبْکِیْ عَلَیْہِ وَلٰکِنْ اَبْکِیْ عَلٰی نُوْرٍ کَانَ فِی الْاَرْضِ فَطُفِیَٔ یعنی میں ان پر نہیں روتا اس نور پر روتا ہوں جو زمین پر تھا اور بجھا دیا گیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۳۱)

 وفات پر جنّات کا اظہارِ غم

            ایک رات کوفہ میں ایک عورت اپنی بیٹی کے ہمراہ بالا خانے میں چرخا کات رہی تھی، اچانک اس کی بیٹی کی کوئی چیز نیچے گر گئی، اس نے باہر دیکھا تو نیچے چند عورتوں کا حلقۂ غم برپا تھا ۔ درمیان میں کھڑی ایک عورت شعر پڑھ رہی تھی جن کا ترجمہ یہ ہے :’’ ہاں جنات کی عورتوں سے کہو کہ اب وہ فرطِ غم سے رویا کریں ، ریشمی لباس میں  نازو انداز سے چلنے کے بجائے ٹاٹ پہنا کریں اور برق رفتار گھوڑوں کی سواری کے بجائے سست رفتار جانوروں پر سوار ہوا کریں ۔ ‘‘

             وہ عورت یہ شعر پڑھتی اور حاضِرین مجلس ’’ہائے امیر المومنین ! ہائے امیر المومنین ‘‘کہکر اس کی تائید کرتے ، لڑکی نے گھبرا کر والدہ سے کہا :’’ امی دیکھو تو نیچے کیا ہے ؟‘‘ بڑھیا نے نیچے جھانکا تو عجیب منظر دیکھا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اسی رات امیر المومنین حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرکا اِنتقال ہوا تھا ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۹۹)

ایک جن کے اشعار

             ایک جنّ نے ان الفاظ میں آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی وفات پر اظہارِ غم کے لئے یہ اشعار کہے :

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html