$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

مسند عمر بن عبد العزیز، رقم :۸۹۲۷، ج۵، ص۳۳۳) یہ حدیثِ پاک سن کرامیرُ المُؤمنینبہت دیر تک روتے رہے ، پھر فرمایا:’’اے ابوحازِم !کیا میرے لئے یہ بہتر نہیں کہ میں اپنے جسم کو کمزور ونحیف بنالوں تا کہ اس ہولناک وادی سے گزر سکوں ! لیکن مجھے اس خِلافت کی آزمائش میں مبتلا کر دیا گیا ہے ، میں نہیں جانتا کہ مجھے نجات ملے گی یا نہیں ؟‘‘

            اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ پر غشی طاری ہوگئی، اس پرلوگوں نے اپنی اپنی رائے دینا شروع کر دی لیکن میں نے لوگو ں سے کہا:’’ تمہیں کیا معلوم! یہ کس آزمائش سے دوچار ہیں ۔ ‘‘ اچانک امیرُ المُؤمنیننے رونا شرو ع کردیا اور اتنا زور سے روئے کہ ہم سب نے ان کی آواز سنی پھر یکدم آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہمسکرانے لگے ۔ میں نے پوچھا:’’ امیرُ المُؤمنین! ہم نے آپ کو بڑی تعجب خیز حالت میں دیکھا ، پہلے تو خوب روئے پھر مسکرانا شروع کردیا، اس میں کیا راز ہے ؟‘‘ انہوں نے پوچھا :’’ کیا تم نے مجھے اس حالت میں دیکھ لیا؟‘‘میں نے کہا :’’جی ہاں ! ہم سب نے آپ کی یہ تعجب خیزحالت دیکھی ہے ۔ ‘‘  فرمانے لگے :’’ بات دراصل یہ ہے کہ جب مجھ پر غشی طاری ہو ئی تو میں نے خواب دیکھا کہ قِیامت قائم ہوچکی ہے اور مخلوق حساب و کتاب کے لئے میدان محشر میں جمع ہے ، تمام اُمتوں کی 120صفیں ہیں جن میں سے اسّی(80) صفیں اُمتِ محمد یہ علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کی ہیں ، ندادی گئی: ’’عبداللّٰہبن عثمان ابوبکرصدیق ( رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ)  کہاں ہیں ؟‘‘ چنانچہ حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو فِرِ شتو ں نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ  میں حاضِر کیا ۔ ان سے مختصر حساب لیا گیا اور انہیں دائیں جانب جنت کی طر ف جانے کا  حُکم ہوا ۔ پھر حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو آواز دی گئی ؟ وہ بھی بارگاہِ ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ میں حاضِر کئے گئے اور مختصر حساب کے بعد انہیں بھی جنت کا مُژدہ سنادیا گیا، پھرحضرت سیِّدُناعثمان غنی  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو بھی مختصر حساب کے بعدجنت میں جانے کا  حُکمسنایا گیا پھر حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کو ندادی گئی ۔ چنا نچہ وہ بھی بارگاہِ احکم الحکمین عَزَّوَجَلَّ  میں حاضِر ہوگئے اور انہیں بھی مختصر حساب کے بعد جنت کا پروانہ مل گیا ۔ جب میں نے دیکھا کہ جلد ہی میری بھی باری آنے والی ہے تو میں منہ کے بل گر پڑا ، مجھے معلوم نہیں کہ خلفاء اربعہ رضوان اللّٰہ تعالٰی علیہم اجمعین کے بعد والوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ پھر ندادی گئی : عمر بن عبد العزیزکہا ں ہے ؟میری حالت غیر ہوگئی اور میں پسینے میں شرابور ہوگیا، بہرحال مجھے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں حاضِر کیا گیا اور مجھ سے حساب کتاب شرو ع ہوا اور ہر اس فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا جو میں نے کیا حتّٰی کہ گٹھلی اوراس کے چھلکے تک کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی، پھر مجھے بخش دیا گیا ۔ (عیون الحکایات، ص۷۱) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پرندے کی طرح پھڑپھڑانے لگتے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی وفات کے بعدکچھ فقہائے کرام تعزیت کی غرض سے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی زوجہ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا کے پاس آئے اور بعدِ دُعائے مغفرت ان کی گھریلوزندگی کے بارے میں دریافت کیا تو آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا نے فرمایا:واللّٰہ! وہ آپ حضرات سے زیادہ نَمازیں پڑھنے والے یا روزے رکھنے والے تو نہیں تھے مگر میں نے ان سے بڑھ کر خوفِ خدا رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا، کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ہم دونوں ایک لحاف میں ہوتے ، اچانک ان کے دل پراللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا ایسا خوف طاری ہوتا کہ وہ اس پرندے کی طرح پھڑپھڑانے لگتے جو پانی میں گر گیا ہو ، پھروہ آہ وبکا کرنے لگتے اور مجھے چھوڑ کر لحاف سے نکل جاتے ، میں گھبرا کر کہتی : کاش اس عہدے (یعنی خِلافت) اور ہمارے درمیان مشرق ومغرب جتنا فاصلہ ہوتا کیونکہ یہ جب سے ہمیں ملا ہے ہم نے سُرور کا ایک لمحہ نہیں دیکھا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۲۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 غریب اسلامی بہن کی خیر خواہی

            جولوگ مدد کے محتاج ہوتے تھے حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزہر ممکن طریقے سے اُن کی مدد فرماتے تھے چنانچہ ایک عراقی عورت حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے گھر آئی ، جب وہ آپ کے دروازے پر پہنچی تو حیران ہو کرپوچھنے لگی: کیا امیر المومنین کے دروازے پر دَربان نہیں ہوتا ؟ اسے بتایا گیا :’’ یہاں کوئی دربان نہیں ، اندرجانا چاہتی ہو تو جاسکتی ہو ۔ ‘‘یہ عورت زنان خانہ میں حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی زوجہ محترمہ  حضرت سیدتنا فاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہا کے پاس گئیں ۔ وہ گھر میں رُوئی ٹھیک کررہی تھیں ، سلام دُعا کے بعد انہوں نے بیٹھنے کو کہا ۔ تھوڑی دیر میں حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز گھر آئے اور گھر کے کنویں سے پانی کے ڈول نکال نکال کر مٹی پر جو گھر میں پڑی تھی ڈالنے لگے اور آپ کی نظر بارباراپنی زوجہ محترمہ پر پڑرہی تھی، اسی عورت نے فاطمہ سے کہا : اس مزدور سے پردہ تو کرلو، یہ تمہاری طرف ہی دیکھے جارہا ہے ۔ فاطمہ نے بتایا: یہ مزدور نہیں امیر المومنین ہیں ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز اس کام سے فارغ ہو کر  حضرت سیدتنا فاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہا کی طرف آئے ، سلام کیا اور ان سے اس عورت کا حال دریافت کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ فلاں عورت ہے ۔ آپ نے توشہ دان اٹھایا، اس میں کچھ انگور تھے ، چن چن کر اس خاتون کو دیئے پھر دریافت فرمایا تم کس ضَرورت سے آئیں ؟ اس نے بتایا : میں عراق سے آئی ہوں ، میری پانچ بے کس و بے سہارا لڑکیاں ہیں ، میں آپ سے مدد مانگنے آئی ہوں ۔ ‘‘آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ بے کس و بے سہارا کا لفظ دوہرا دوہرا کر رونے لگے ۔ پھر آپ نے کاغذ قلم لیا اور والیٔ عراق کے نام خط لکھناشروع کیا، عورت سے اس کی بڑی بیٹی کا نام پوچھا ، اس نے بتایا تو آپ نے اس کا وظیفہ مقرر کردیا، عورت نے کہا :اَ لْحَمْدُ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ، پھر دوسری، تیسری اور چوتھی کا نام دریافت کیا اور ایک ایک کا وظیفہ مقرر فرماتے گئے ۔ عورت ہر ایک وظیفے پر اَلْحَمْدُ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کہتی جاتی ، جب چوتھی لڑکی کا وظیفہ مقررہوا تو عورت خوشی سے بے قرار ہوگئی اور آپ کو دُعائیں دینے لگی اورشکریہ کے طور پر جَزَاکَ اللّٰہ کہا ۔ اس پر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ہاتھ روک لیا اور فرمایا: جب تک تم مُستَحِقِ حمد یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا شکر کرتی رہیں ہم وظیفہ لگاتے رہے مگر اب جب کہ تم نے میر اشکر یہ ادا کیا تو ا سکے بعد کا وظیفہ نفسانیت پر مبنی ہوگا پس ان چاروں لڑکیوں کو کہنا کہ اسی میں سے پانچویں کو بھی دے دیا کریں ۔ عورت یہ تحریر لے کر عراق پہنچی اوراِسے والیٔ عراق کے سامنے پیش کیا ۔ اُس نے خط پڑھا تو روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی ، کچھ سنبھلا تو بولا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ صاحبِ خط پر رحم فرمائے ۔ عورت بولی: کیا ہوا ؟کیا ان کااِنتقال ہوگیا؟جواب ملا: جی ہاں ! یہ سنکر عورت چیخنے اور واویلا کرنے لگی اور واپَسی کا اِرادہ کیا،  والی عراق نے کہا:ٹھہرو، فِکر کی بات نہیں ، میں کسی بھی معاملے میں انکی تحریر کو رد نہیں کرسکتا، پھر اس کی تعمیل کی اس کی لڑکیوں کا وظیفہ



Total Pages: 139

Go To
$footer_html