Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

عبدُالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہاکا بیان ہے کہ ان کی وفات کے وقت میں ان کے خیمہ سے نکل کر مکان میں بیٹھ گئی تو میں نے ان کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا :

تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ۲۰، القصص :۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان :یہ آخِرت کا گھر ہم ان کے لئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اور آخِرت کی بھلائی پرہیز گاروں کے لئے ہے ۔

 اس کے بعد وہ بالکل ہی پرسکون ہوگئے ، نہ کچھ بولے ، نہ کوئی حرکت کی ۔ تو میں نے کنیز سے کہا کہ ذرادیکھنا! امیرُ المُؤمنین کا کیا حال ہے ؟ وہ دوڑ کر گئی تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ وفات پاچکے تھے (سیرت ابن جوزی ص۳۲۵) اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ عین وفات کے وقت آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ مجھے بٹھادو جب لوگوں نے انہیں بٹھایا تو بیٹھ کر انہوں نے یہ کہا :یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! تو نے مجھے کچھ باتوں کا  حُکم فرمایا تو میں نے کوتاہی کی اور تو نے مجھے کچھ باتوں سے منع فرمایا تو میں نے نافرمانی کی ۔

 تین مرتبہ یہی کہا پھر کلمہ طیبہلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہپڑھا اور نظر جما کر دیکھا تو لوگوں نے کہا کہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  کیا دیکھ رہے ہیں ؟ تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ میں کچھ سبز پوش لوگوں کود یکھ رہا ہوں جو نہ انسان ہیں نہ جن، یہ کہا اور ان کی رُوح پرواز کر گئی ۔ (احیاء العلوم ج۴ص۸۰۴و۹۰۴)

مرتے وقت کلمۂ طیبہ  پڑھنے کی فضیلت

            خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم !خوش قسمت ہے وہ مسلمان  جس کو مرتے وَقْت کَلِمَہ نصیب ہو جائے اُس کا آخِرت میں بیڑا پا ر ہے ۔ چُنانچِہ نبیِّ رَحْمت، شفیعِ امّت، مالِکِ جنّت، محبوبِ ربُّ العزَّت  صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ جنّت نشان ہے ، جس کا آخِری کلام  لَا اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہُ ہو وہ داخِلِ جنّت ہو گا ۔ (ابوداوٗد شریف، الحدیث ۳۱۱۶، ج ۳ ص ۱۳۲)

فضل و کرم جس پر بھی ہُوا     لب پر مرتے دَمکَلِمَہ

جاری ہوا جنّت میں گیا         لَا اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہ

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دم رخصت تِلاوتِ قراٰن کی

             عبید بن حسان کہتے ہیں کہ جب حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیز کی وفات کا وقت بالکل ہی قریب آ پہنچا تو انہوں نے ہر شخص کو گھر میں سے نکل جانے کا  حُکم دیا ۔ ان کی زوجہ محترمہ حضرت سیدتنا فاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہا اور برادرِ نسبتی مَسلَمَہ دروازے پر بیٹھ گئے ، انہوں نے سنا کہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  بلند آواز سے کہہ رہے ہیں : مرحبا! خوش آمدید ہے ان چہروں کے لیے جو نہ آدمی ہیں نہ جن پھر یہ آیت پڑھی:تِلْ تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) پھر لوگوں نے گھر میں داخل ہو کر دیکھا تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ وفات پاچکے تھے ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۹۶)

وفات کے وقت عمرِ مُبارَک

            تقریباً20دن بیمار رہنے کے بعد25 رجب 101ھ بدھ کے دن حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیز نے اپنا سفر حیات مکمل کرلیا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے ۔ اس وقت آپ کی عمر صِرف 39سال تھی اور آپ تقریباً اڑھائی سال خلیفہ رہے ۔ آپ کو حلب کے قریب دَیر سِمعان میں سِپُردِ خاک کیا گیا جو شام میں ہے ۔ (بعض روایتوں میں تاریخ وفات۲۰ رجب اور عمر ۴۰ سال بھی بیان کی گئی ہے ) (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۱۹)

خیرُالنَّاس کا اِنتقال ہوگیا

            جب حضرتِ سیِّدنا حَسَن بصری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کو حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی وفات کی خبر ملی تو فرمایا:  مَاتَ خَیْرُالنَّاس یعنی بہترین آدمی کا اِنتقال ہوگیا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۵)

 خوبیاں بیان کرنے والے کے لئے امام احمد بن حنبل کی بشارت

            حضرتِ سیِّدنا امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں :اذَا رَأَیْتَ الرَّجُلَ یُحِبُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَیَذْکُرُ مَحَاسِنَہٗ وَیَنْشُرُہَا فَاعْلَمْ اَنَّ مِنْ وَّرَاءذٰلِکَ خَیْراً اِنْ شَاءَ اللّٰہُ  یعنی جب تم دیکھو کہ کوئی شخص حضرتِ عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزسے محبت رکھتا ہے اور ان کی خوبیوں کو بیان کرنے اور انہیں عام کرنے کا اِہتِمام کرتا ہے تو اس کا نتیجہ خیر ہی خیر ہے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ۔ (سیرت ابن جوزی ص۷۴)

اخلاقی خُوبیاں

            عبدالملک بن عمیر نے ایک موقع پر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کی اَخلاقی خوبیاں اس طرح گنوائیں : امیرُالمُؤمنین ! خدا  عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم کرے ، آپ نگاہوں کو جُھکائے رہتے تھے ، پاک دامن تھے ، فَیّاض تھے ، ٹھٹھا مذاق نہیں کرتے تھے ، کسی پر عیب لگاتے تھے نہ کسی کی غیبت کرتے تھے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۳۰)

نجیبِ قوم

            محمدبن علی بن حسین سے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے بارے میں پوچھاگیاتو فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ ہرقوم میں ایک نجیب [1]؎

 

 



[1]   ولایت کا ایک مَنصَب



Total Pages: 139

Go To