Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

: امیر المومنین کو صاحبزادے کی وفات کا صدمہ پہنچا ، واللّٰہ ! میں نے کوئی بیٹا نہیں دیکھا جو باپ کا اتنا فرمانبردار اور خدمت گزار ہو پھر امیر المومنین کو بھائی کی وفات کا حادثہ پیش آیا، واللّٰہ! میں نے کوئی بھائی ایسا نہیں دیکھا جو اس سے بڑھ کر اپنے بھائی کا خیر خواہ اور نفع رَساں ہو ۔ ‘‘ مگر ان صاحب نے ’’ مُزاحِم ‘‘کا ذِکر نہیں کیا ۔ حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے فرمایا : کیا بات ہے آپ نے ’’ مُزاحِم ‘‘کا ذِکر نہیں کیا؟حالانکہ وہ میرے نزدیک ان دونوں سے کچھ کم رُتبہ نہیں رکھتا تھا ۔ پھر دو یا تین مرتبہ یہ فرمایا:’’  مُزاحِم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم کرے ، تم نے میری بہت سی دُنیوی فکروں سے کفایت کی اور آخرت کے معاملہ میں تم میرے بہترین وزیر تھے ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۲)

عافیت کی موت کی دُعا

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز مرضُ الوفات میں مُبتَلاہوئے تو رِینگتے ہوئے پانی کے مشکیزے تک پہنچے ، خوب اچھی طرح وضو کیا پھر اپنی جائے نَماز میں پہنچے ، دونَفل ادا کئے پھر یہ دُعا کی:’’یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!تو نے میرے مددگاروں ’’ سہل ، عبدالملک اور  مُزاحِم‘‘ کو اُٹھالیا، مگراس سے میری تجھ سے محبت بڑھی ہے کم نہیں ہوئی ، اورمیں تیری نعمتوں کو پانے کا مشتاق ہو گیا ہوں ، اب مجھے بھی عافیت کے ساتھ موت دے کہ میں نہ تو حُقُوق و فرائض کو ضائع کرنے والا ہوں نہ ان میں کوتاہی کرنے والا ۔ ‘‘چنانچہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہاس مرض سے جانبر نہ ہوسکے یہاں تک کہ آپ کا وِصال ہوگیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۹۷)

موت کی دُعا کرنا کیسا؟

            حدیثِ پاک میں ہے کوئی دُنیوی مصیبت سے پریشان ہو کر موت کی تمنّا نہ کرے ۔ (بخاری ، ج۴ ، ص۱۳ ، الحدیث ۵۶۷۱) اوردرحقیقت دنیاوی پریشانیوں سے تنگ آکر موت کی دُعا کرنا صَبر و رِضاو تسلیم و توکُّل کے خِلاف ہے اورناجائز ہے جبکہ  دینی نقصان کے خوف سے جائزہے ۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :موت کا خوشی کے ساتھ اِنتظار کرنا کہ آتے وقت ناگواری نہ ہو، اُس وقت کی ناگواری  مَعَاذَاللّٰہ بَہُت سخت ہے ، عِیاذاً باللّٰہاس میں سُوء ِ خاتمہ (یعنی بُرے خاتمے ) کاخوف ہے ، نبیِّ اکرمصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلمفرماتے ہیں : مَنْ اَحَبَّ لِقَاء اللّٰہِ اَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ وَمَنْ کَرِہَ لِقَاء اللّٰہِ کَرِہَ لِقَائَ ہٰٗؑیعنی جو اللّٰہسے ملنا پسند کرے گااللّٰہاس کا ملنا پسند فرمائیگا اورجواللّٰہسے ملنے کو مکروہ(یعنی ناپسند) رکھے گا اللّٰہاسکا ملنا مکروہ (یعنی ناپسند) رکھے گا ۔ حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا نے عَرض کی:یارسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم!ہم میں کون ایسا ہے کہ موت کو مکروہ نہ رکھے ! فرمایا:یہ مُراد نہیں بلکہ جس وقت دَم سینہ پر آئے اُس وقت کا اعتبار ہے اُس وقت جو اللّٰہسے ملنے کو پسند رکھے گا اللّٰہ تعالٰیاُس سے ملنے کو دوست رکھے گا، اور ناپسند تو ناپسند ۔ (ترمذی، ج۲ ص۳۳۶، الحدیث ۱۰۶۹) (فتاوی رضویہ ج۹ ص ۸۱) حدیث میں ہے : ’’کوئی تم سے موت کی آرزو نہ کرے مگر جب کہ اِعتماد نیکی کرنے پر نہ رکھتا ہو ۔ ‘‘ (مسنداحمد ، ج۳، ص۲۶۳ ، الحدیث ۸۶۱۵) اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ مزیدفرماتے ہیں : خلاصہ یہ کہ دُنیوی مُضَرَّتوں ( نقصانات وپریشانیوں ) سے بچنے کے لئے موت کی تمنّا ناجائز ہے اور دینی مُضَرَّت (دینی نقصان) کے خوف سے جائز ۔ (در مختار ج۹، ص۶۹۱ ) (فضائل دُعا، ص۱۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کیا آپ پر جادو کیا گیا تھا؟

            ابتدائے مرض میں عام خیال یہی تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز پر جادو کیا گیا ہے لیکن خودآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو اپنی بیماری کا اصلی رازمعلوم ہوچکا تھا، چنانچہ ایک بارحضرت مجاہدرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے پوچھا کہ میری نسبت لوگوں کا کیاخیال ہے ؟ انہوں نے جواب دیا :’’ لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ پر جادو کیا گیا ہے ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے اس کی تردیدکی: نہیں !میں مَسحُورنہیں ہوں (یعنی مجھ پر جادو نہیں کیا گیا) ، مجھے وہ وقت یاد ہے جب مجھے زہر دیا گیا ۔ اس کے بعد ایک غلام کو بلا کر پوچھا تو اس نے زہر دینے کا اِقرار کر لیا ۔ فرمایا: تم مجھے زہر دینے پر کیونکر آمادہ ہوئے ؟ اُس نے کہا :’’ مجھے ہزار دینار دے کر آزاد کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے وہ دینار منگوا کر بیت المال میں جمع کروادیئے اور اپنے قاتل سے کہہ دیا : ’’ تم ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں کوئی تم تک پہنچ نہ سکے ۔ ( تاریخ الخلفاء ص ۱۹۷) جب طبیب آیا تو اس نے بھی مرض کی یہی وجہ بتائی اور علاج کی طرف توجہ دلائی لیکن آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے علاج کروانے سے اِنکار کردیا ۔ (سیرت ابن جوزی ۳۱۷ ملخصًا)

آپ کو زہر کیوں دیا گیا؟

             طاقتور افراد نے غاصبانہ طور پر مسلمانوں کی جو جائیدادیں اپنے قبضہ میں کرلی تھیں ، ا ن کو حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے خلیفہ بنتے ہی نہایت سختی کے ساتھ واپَس کردیا، جس نے ان لوگوں میں عام برہمی پھیلادی، لیکن یہ ناراضی صِرف زَبان و قلم تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے ایک خطرناک سازِش کی صورت اِختیار کرلی اور حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی وفات اسی سازِش کا نتیجہ ہے ۔ چنانچہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے ایک خادِم کو ایک ہزار اشرفیاں دے کر آپ کو زہر دلوایا گیا ۔

لوگوں کی ہمدردی

            عبدالحمید بن سہیل کا بیان ہے کہ میری حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے طبیب سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا: کیا آج تم نے ان کا پیشاب ٹیسٹ کیا ہے ؟ تو کہنے لگا : ہاں ! مگر مجھے اس میں لوگوں کے دُکھ درد کے علاوہ کوئی بیماری دکھائی نہیں دیتی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۱۶)

بغیر قمیض کے رہنا ہوگا

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز بیمار تھے ۔ مَسلَمَہ بن عبدُالملک عیادت کے لیے آئے دیکھا کہ کرتا بہت میلا ہورہا ہے ‘ اپنی ہمشیرہ اور آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی زوجہ فاطمہ بنت عبدُالملک سے کہا :’’ انکی قمیض دھودو ۔ ‘‘ اگلے دن انہوں نے دیکھا تو قمیض اسی طرح تھی تو اپنی بہن سے ناراض ہوئے اور کہا:’’فاطمہ !کیا میں نے تمہیں امیرالمومنین کی قمیض دھونے کا نہیں کہا تھا ؟لوگ عِیادت کرنے آتے ہیں ۔ ‘‘بہن نے جواب دیا: ’’وَاللّٰہِ! مَالَہٗ قَمِیْصٌ غَیْرُہٗ یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی قسم !اِن کے پاس بس یہی ایک قمیص ہے ۔ ‘‘یعنی اگر اسے اتار کر دھوئیں تو اتنی دیر اِن کو بغیر قمیص کے رہنا ہوگا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۲)

 



Total Pages: 139

Go To