Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

ہوں ۔ (تاریخ الخلفاء ص۹۱ا)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صِرف خونی رشتے کے جوش کے سبب ماں باپ ، اولادیا کسی رِشتے دار سے مَحَبَّت کرنا بھی کارِ ثواب نہیں ، جب تک رِضائے الہٰی عزوجل پانے کی نیَّت نہ ہو ۔   مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں : کسی بندے سے  صِرف اس لیے  مَحَبَّت کرے کہ رب تعالیٰ اِس سے راضی ہوجائے ، اِس(مَحَبَّت ) میں دُنیاوی غَرَض(اور) رِیا ( یعنی دکھاوا) نہ ہو ۔ اِس مَحَبَّت میں ماں باپ ، اولاد (اور) اہلِ قَرابت (یعنی رشتے دار) مسلمانوں سیمَحَبَّت سب داخِل ہیں جب کہ رِضا ئے الہی (عزوجل ) کے لیے (یہ مَحَبَّتیں )   ہوں ۔ (مِراٰۃ  المناجیح ، ج ۶، ص ۵۸۴ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَدَنی آقاصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا پیغام

            ابوہَمَّام نامی شخص کا بیان ہے کہ میں حج کے اِرادے سے گھر سے چلا، حرم شریف پہنچ کر مناسکِ حج ادا کئے ۔ حرمین طیبین سے جُدائی کا وقت قریب آیا تو میں نوافِل ادا کرنے  ’’اَبْطَحْ‘‘ کی جانب گیا ۔ نوافل پڑھنے کے بعدوہاں کچھ دیر آرام کے لئے بیٹھاتو اُونگھ آگئی ، سر کی آنکھیں بند ہوئیں تو دل کی آنکھیں کھل رہی تھیں اور نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّماپنا نورانی چہرہ چمکاتے مسکراتے ہوئے میرے خواب میں تشریف لائے اور اِرشاد فرمایا : ’’ اے خوش بخت ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تیری سعی (یعنی کوشِش) کو قبول فرمالیا ہے ، تم عمر بن عبد العزیز کے پاس جانااور اس سے کہنا: ’’ہمارے ہاں تمہارے تین نام ہیں :(۱) عمر بن عبد العزیز (۲) امیر المؤمنین (۳) اَبُو الْیَتَامٰی (یعنی یتیموں کا والی) ۔ اے عمر بن عبد العزیز! قوم کے سرداروں اور ٹیکس وُصول کرنے والوں پر اپنا ہاتھ سخت رکھنا ۔ ‘‘ اتنا فرما کر سیِّدُالَْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم  واپَس تشریف لے گئے ۔ میں بیدار ہواا ور اپنے رفقاء کے پاس پہنچ کر کہا: ’’ جاؤ! اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کی بَرَکت کے ساتھ ا پنے و طن لوٹ جاؤ! میں کسی وجہ سے تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا ۔ ‘‘پھرمیں ’’شام ‘‘جانے والے قافلے میں شامل ہو گیا ۔ دِمشق پہنچ کر امیرُ المُؤمنین کا گھر معلوم کیا اور زوال سے کچھ دیر پہلے وہاں پہنچ گیا ۔ باہری دروازے کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا میں نے اس سے کہا : ’’ امیرُ المُؤمنین سے میرے لئے حاضِر ی کی اِجازت طَلَب کرو ۔ ‘‘وہ بولا:’’ ان کے پاس جانے سے تمہیں کوئی نہیں روکے گا، لیکن ابھی وہ لوگوں کے مسائل حل فر ما رہے ہیں ۔

 بہتر یہی ہے کہ تم کچھ دیر اِنتظار کرلوجیسے ہی وہ فارِغ ہوں گے میں تمہیں بتا دوں گا اور اگر ابھی حاضِر ہونا چا ہو تو تمہاری مرضی ۔ ‘‘ میں اِنتظار کرنے لگا ، کچھ دیر بعد بتایا گیا: ’’امیرُ المُؤمنینلوگو ں کے مسائل سے فارِغ ہوچکے ہیں ۔ ‘‘ چنانچہ، میں نے حاضِرِ خدمت ہو کر سلام پیش کیا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے پوچھا:’’ تم کون ہو ؟‘‘ میں نے عَرض کی:’’ میں رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکا قاصِد ہوں اور آپ کی طرف پیغام لے کر آیا ہوں ۔ ‘‘ یہ سنتے ہی آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے میری طرف دیکھا اس وقت آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ پانی پی رہے تھے ۔ فوراً پیالہ ایک طرف رکھا ، مجھے سلامتی کی دُعا دی پھر اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا:’’ تم کہاں سے آئے ہو ؟ ‘‘میں نے کہا : ’’بصرہ کا رہنے والا ہوں ۔ ‘‘ پوچھا:’’ کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو ۔ ‘‘میں نے کہا: ’’ فلاں قبیلے سے ۔ ‘‘ فرمایا:’’ وہاں اس سال گندم کیسی ہوئی ہے ؟ تمہاری جَوْ کی فصلیں کیسی ہوئی ہیں ؟وہاں کے انگور کیسے ہیں ؟ وہا ں کی کھجوریں کیسی ہیں ؟ گھی کیسا ہے ؟ وہاں کے ہتھیار اور بیج کی کیا حالت ہے ؟ ‘‘اَلغَرَض! آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے خرید وفروخت سے متعلقہ تمام چیزوں کے بارے میں سوال کیا ۔ جب ان تمام چیزوں کے متعلِّق پوچھ چکے تو پہلی بات کی طرف آئے اور کہا: ’’تمہارا بھلا ہو کہ تم بہت عظیم معاملہ لے کر آئے ہو ۔ ‘‘ میں نے عَرض کی:’’ حضور! مجھے خواب میں جو پیغام ملامیں وہی لے کر حاضِر ہو ا ہوں ۔ ‘‘پھر میں نے حضور صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کی زِیارت سے یہاں پہنچنے تک تمام واقعات آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو کہہ سنائے ، مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے انہیں مجھ پر اِعتِماد ہوگیا ہے اور ان کے نزدیک میری تمام باتیں ثابت ہوچکی ہیں ۔ فرمایا:’’ تم ہمارے پاس ٹھہرو، ہم تمہاری خیر خواہی کریں گے ۔ ‘‘ میں نے کہا : ’’حضور! میں پیغام لے کر حاضِر ہوا تھا ، اب میں اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکا ہوں ، مجھے اِجازت عطا فرمائیے ۔ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ مجھے وہیں چھوڑ کر اندر تشریف لے گئے ۔ واپَسی پر چالیس دیناروں سے بھر ی ایک تھیلی میری طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا : ’’اس وقت میرے پاس ان دیناروں کے علاوہ کو ئی اور چیزنہیں تم بطورِ تحفہ یہ قبول کرلو ۔ ‘‘

             میں نے کہا :’’ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں کبھی بھی حضور صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا پیغام پہنچا نے کے عوض کوئی چیز نہیں لوں گا ۔ بے حد اِصرار کے باوجود میں نے ان دیناروں کو ہاتھ تک نہ لگا یا ۔ میں نے واپَسی کی اِجازت چاہی اور اَلوداعی سلام لے کر اٹھنے لگا تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے مجھے سینے سے لگالیا اور دروازے تک چھوڑ نے آئے اور اَشک بار آنکھوں سے مجھے رخصت کیا ۔  اس ولی ٔکامل سے ملاقات کے بعد دل میں ان کی محبت وتعظیم مزید بڑھ گئی تھی ۔ بصرہ پہنچنے کے کچھ ہی دن بعد مجھے یہ رُوح فَرساخبر ملی کہ ولی ٔ کامل، امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز ہزاروں آنکھوں کو سوگوار چھوڑ کر اس دنیاسے پردہ فرما گئے ہیں ۔ ‘‘ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن ۔ آپ کی جُدائی پرہر آنکھ اشک بار تھی،  ؎

عرش پر دُھومیں مَچیں ، وہ مومنِ صالح ملا

فرش سے ماتم اٹھے ، وہ طیب و طاہر گیا

             پھر میں مجاہد ین کے ہمراہ جہاد کے لئے رُوم چلا گیا ۔ وہاں مجھے وہی شخص ملا جو حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے دروازے پر بیٹھا ہواتھااورجس کے ذریعے میں نے اِجازت طَلَب کی تھی ۔ میں اسے پہچان نہ سکا لیکن اس نے مجھے پہچان لیا میرے قریب آکر سلام کیا اور کہا: اے بندۂ خدا! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کا خواب سچا کردیا ہے ۔ امیر المؤمنین کے بیٹے عبد المَلِک بیمار ہوگئے تھے ۔ میں رات کے وقت ان کی خدمت پر مامور تھا ۔ جب میں ان کے پاس ہوتا تو امیر المؤمنین چلے جاتے اور نَماز پڑھتے رہتے ۔ جب وہ اپنے بیٹے کے پاس آجاتے تو میں جاکر سوجاتا ۔ میرے جاتے ہی آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ دروازہ بند کر لیتے اور نَماز میں مشغول ہوجاتے ۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ایک رات میں نے اچانک امیر المؤمنین کے رونے کی آواز سنی، آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ بڑے درد بھرے انداز میں بلند آواز سے رو رہے تھے ۔ میں گھبرا کر دروازے کی طرف لپکا دروازہ اندر سے بند تھا ۔ میں نے کہا:’’ اے امیر المؤمنین! کیا عبدالمَلِک کو کوئی حادثہ پیش آگیا ہے ؟‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہمسلسل روتے رہے اور میری بات کی طرف بالکل تو جہ نہ دی ۔ جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکو کچھ افاقہ ہوا تو دروازہ کھول کر فرمایا:’’ اے بندہ ٔخدا! جان لے ! بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس



Total Pages: 139

Go To