Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

صبری سے صَبر کا اَجر تو ضائِع ہو سکتا ہے مگر مرنے والا پلٹ کر نہیں آسکتا ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن  ’’حدائقِ بخشش شریف‘‘ میں فرماتے ہیں :

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

جانے والے نہیں آنیوالے (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ص۴۹۲)

            مگر کیا کیجئے ایسے نادان بھی اس جہان میں موجود ہیں جو اپنے کسی قریبی عزیز مثلاً باپ، بیٹے ، بھائی یا والدہ وغیرہ کی وفات پر دامنِ صَبر ہاتھوں سے چھوڑ دیتے ہیں اوراللّٰہعَزَّوَجَلَّ یا اس کے محترم فِرِشتوں کے لئے ایسے توہین آمیز کلمات بک دیتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے ہاتھوں سے ایمان بھی جاتا رہتا ہے ، ایسی ہی چند مثالیں ملاحظہ ہوں : چُنانچہ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 692 صفحات پر مشتمل کتاب ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ‘‘ کے صفحہ 489 پر ہے :

فوتگی میں بکے جانے والے کفریّات  کے بارے میں سُوال جواب

’’ اللّٰہ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے ‘‘ کہنا کیسا؟

سُوال: چھوٹے بھائی کی فوتگی پر بڑے بھائی نے صدمے کی وجہ سے کہا کہ’’اللّٰہ تعالیٰ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ ‘‘بڑے بھائی کیلئے کیا  حُکم ہے ؟

جواب:یہ کہنا کفر ہے ۔ کیونکہ کہنے والے نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ   پر اعتِراض کیا ۔

’’نیک لوگوں کی اللّٰہ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے ‘‘ کہنا کیسا ؟

سُوال:  ایک نیک نَمازی آدَمی فوت ہوگیا، اس پر پڑوسی نے کہا:’’ نیک لوگوں کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّجلدی اٹھا لیتا ہے کیوں کہ ایسوں کی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کو بھی ضَرورت پڑتی ہے ۔ ‘‘ پڑوسی کا یہ قول کیسا ہے ؟

جواب: پڑوسی کا قول کُفریہ ہے ۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ    کسی کا بھی محتاج نہیں ، وہ بے نیاز ہے ۔ چُنانچِہ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامفرماتے ہیں : کسی نے مُردے کے بارے میں کہا: ’’اے لوگو! اللّٰہ تعالیٰ تم سے زیادہ اس کاحاجتمندہے ‘‘ یہ کہنا کفر  ہے ۔ ‘‘(مِنَحُ الرَّوْض ص۳۱۸)

’’یہ اللّٰہ کو چاہئے ہوگا‘‘ کہنا کیسا ہے ؟

سُوال: ایک ننّھا مُنّا بچّہ چھت سے گر کر فوت ہو گیا ، تعزِیَت کرنے والی ایک عورت بولی: ’’ آپ کاپھول جیسا بچّہاللّٰہ پاک کو چاہئے ہو گا اِسی واسِطے اُس نے لے لیا ہو گا ۔ ‘‘ اُس عورت کا یہ کہنا کیسا ہے ؟

جواب: اُس عورت نیکُفربک دیا ۔ فُقَہائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السلام فرماتے ہیں : کسی کا بیٹا فوت ہوگیا ، اُس نے کہا :’’اللّٰہتعالیٰ کو اس کی حاجت ہوگی ‘‘ یہ قول کفر ہے ۔ کیونکہ کہنے والے نے اللّٰہ تعالیٰ کو محتاج قرار دیا ۔                  ( اَلْبَزَّازِیَّۃعلٰی ہامِش الْفَتَاوَی الْہِنْدِیَّۃ ج۶ ص۳۴۹)

یا اللّٰہ  ! تجھے بچّوں پر بھی ترس نہیں آیا ! کہنا کیسا؟

سُوال: ایک آدمی کا انتِقال ہوگیا ۔ اس کی بیوہ نے خوب واویلا مچایا اور چیخ چیخ کر کہنے لگی:’’یااللّٰہ ! تجھے میرے چھوٹے چھوٹے بچّوں پر بھی  تَرس نہیں آیا ! ‘‘ بیوہ کیلئے کیا  حُکمِ شَرعی ہے ؟

جواب: بیوہ پر  حُکمِ کفر ہے ، کیوں کہ اُس نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کو ظالم قرار دیا ۔

’’یااللّٰہ تجھے بھری جوانی پر بھی رحم نہ آیا‘‘کہنا

سُوال: ایک نوجوان کا انتِقال ہو گیا ۔ اِس کی سوگوار ماں نے غم سے نڈھال ہو کر رو کر پکارا!’’یااللّٰہ ! اِس کی بھری جوانی پر بھی تجھے رحم نہ آیا ! اگر تجھے لینا ہی تھا تو اِس کی بوڑھی دادی یابُڈّھے نانا کو لے لیتا!‘‘سوگوارماں کے یہ کلمات کیسے ہیں ؟

جواب: یہ کلمات، کفریات سے بھر پور ہیں ۔

’’ یااللّٰہ! ہم نے تیرا کیا بگاڑا ہے ‘‘ کہنے کا حکم ِشرعی

سُوال: ایک گھر میں تھوڑے تھوڑے وَقفے سے دو اَموات ہو گئیں ۔ اِس پر گھر کی بڑی بی روتے ہوئے بَڑبُڑانے لگی: ’’ یااللّٰہ ! ہم نے تیرا کیابِگاڑا ہے ! آخِر ملکُ الموت کوہمارے ہی گھر والوں کے پیچھے کیوں لگا دیا ہے !‘‘ بڑی بی کے یہ الفاظ کیا  حُکم رکھتے ہیں ؟

جواب: مذکورہ بڑھیا کی بکواس ربِّ کائنات کی توہین اور اس پر اعتِراضات سے بھر پور ہے اوراللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی توہین اور اس پر اعتِراض کرنا کفر ہے ۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۴۸۹)

محبت کا معیار

جب حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق کے اِنتقال کے بعد ایک مرتبہ امیرُ المُؤمنینکی زَبان سے ان کے متعلق تحسین آمیز کلمات نکلے تو مَسلَمَہ نے کہا : یاامیرَ المُؤمنیناگر وہ زندہ رہتے تو آپ انہی کو ولی عہد مقرر کرتے ؟ فرمایا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ انہوں نے کہا: وہ کیوں ! ان کی تعریف تو آپ بہت کرتے ہیں !فرمایا: مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ محض محبتِ پِدَرِی کی وجہ سے محبوب نہ نظر آتے



Total Pages: 139

Go To