Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

جنازے ہمارے لئے خاموش مبلّغکی حیثیت رکھتے ہیں ۔     ؎

جنازہ آگے آگے کہہ رہا ہے اے جہاں والو

مِرے پیچھے چلے آؤ تمھارا رہنما میں ہوں

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دھوکے میں نہ رہئے

             جوں جوں دن، مہینے اور سال گزرتے جارہے ہیں دُنیا ہم سے دُوربھاگ رہی ہے اور آخِرت قریب آرہی ہے مگر ہم ہیں کہ دُور بھاگنے والی کی آؤبھگت میں لگے ہیں اور آنے والی کے اِستقبال کی کوئی تیاری نہیں کرتے ، اپنی سانسوں کو غنیمت جانئے اور گناہوں سے توبہ کرکے نیکیاں کمانے میں مصروف ہوجائیے ، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو آنے والے کل کے منتظر ہوتے ہیں کہ یہ کریں گے وہ کریں گے ، پھروہ ’’کل‘‘ تو آتا ہے مگر اس کا اِنتظار کرنے والے اپنی  قَبر میں اُتر چکے ہوتے ہیں ، جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنامنصور بن عمّار علیہ رحمۃ اللّٰہ الغفار نے ایک نوجوان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: ’’ اے نوجوان! تجھے تیری جوانی دھوکے میں نہ ڈالے ، کتنے ہی جوان ایسے تھے جنہوں نے توبہ میں تاخیر کی اور لمبی لمبی اُمیدیں باندھ لیں ، موت کو بھلا کر یہ کہتے رہے کہ کل توبہ کرلیں گے ، پرسوں توبہ کرلیں گے یہاں تک کہ اسی غفلت کی حالت میں انہیں موت آگئی اور وہ اندھیری قَبر میں جا سوئے ، انہیں ان کے مال ، غلاموں ، اولاد اور ماں باپ نے کوئی فائدہ نہ دیا، فرمانِ الٰہی ہے :

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹) ۱۹  ، الشعراء، آیت:۸۸، ۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان:جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ(عَزَّوَجَلَّ ) کے حضور حاضِر ہوا سلامت دل لے کر ۔

(مکاشفۃ القلوب، باب فی العشق، ص۳۴)

آہ !  ہر  لمحہ گنہ کی کثرت  و  بھر مار  ہے                                 غلبۂ شیطان  ہے ا ور  نفسِ  بد اَ طوار  ہے

زندگی کی شام ڈھلتی جا رہی ہے ہا ئے نفس !                     گرم روز و شب گناہوں کاہی بس بازار ہے (وسائلِ بخشش ، ص۱۲۸)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

صَبر کا مثالی مظاہرہ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے بیٹے کے اِنتقال پر بھی صَبر کا ایسا مثالی مظاہرہ کیا کہ لوگ دنگ رہ گئے ۔ چنانچہ حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق کی وفات کے بعد جو خطبہ دیا اس میں فرمایا:’’عبدالملک بچپن سے لے کر وفات تک وہ میرے دل کا چین اور آنکھوں کی ٹھنڈک تھے لیکن آج سے بڑھ کر انہوں نے میری آنکھوں کو کبھی ٹھنڈک نہیں پہنچائی ۔ ‘‘اس کے بعد تمام سلطنت میں پیغام بھیجا کہ کسی قسم کا نوحہ نہ کیا جائے ۔ پھرجب حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق کو دَفن کیا جارہا تھا تو ایک شخص نے بائیں ہاتھ کا اِشارہ کرکے کہا:اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  امیرُ المُؤمنین کو اِس صَبر پر اجر دے ۔ فرمایا: گفتگو میں بائیں ہاتھ سے اِشارہ نہ کرو ، داہنے سے کرو ۔ وہ شخص بے اِختیار بول اٹھا : میں نے آج تک اس سے حیرت انگیز واقعہ نہیں دیکھا کہ ایک شخص اپنے عزیز ترین بیٹے کو دفن کر رہا ہے ، اس رَنج وغم کی حالت میں بھی اسے دائیں بائیں ہاتھ کا خیال ہے !(سیرت ابن عبدالحکم ، ص ۳۰۳، ۳۰۴ ملخصًا)

بیٹے کے دفن کے بعد بیان

            جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے شہزادے کو دَفن کیا جاچکا تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ ان کی قَبر کے پاس قبلہ رخ ہوکر بیٹھ گئے ، لوگوں نے آپ کے گردحَلقہ بنالیاآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا:بیٹا!اللّٰہ تعالیٰ تم پررحم کرے بیشک تم اپنے باپ کے ساتھ اچھاسُلوک کرنے والے تھے ، اللّٰہ کی قسم!جب سے تم اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے عطا ہوئے میں تم سے خوش رہااوراس سے زیادہ خوش اوراللّٰہ تعالیٰ سے اپناحصہ پانے کااُمیدوارآج اِس وقت ہوں جب میں نے تمہیں اس منزِل وگھرمیں رکھاہے جسے اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بنایاہے ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتم پررحم کرے ، تمہیں بخشے اورتمہیں تمہارے عمل کا اچھابدلہ عنایت کرے ، ہم اللّٰہ تعالیٰ کے فیصلہ پرراضی اوراس کے  حُکم کوتسلیم کرتے ہیں ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن، پھرآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہقبرِستان سے لوٹ آئے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۹۱)

تعزِیَت پر ردِ عمل

            لوگ حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق کی وفات پر تعزیت کے  کیسے ہی رِقّت خیز جملے اِستِعمال کرتے امیرُ المُؤمنینحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزان کے جواب میں صَبر وشکر کا ہی اظہار فرماتے ۔ ربیع بن سمرہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس آئے اور کہا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  آپ کو اَجرِعظیم دے ، آپ کے سِوا مجھے ایسا کوئی شخص نہیں نظر آیا کہ چند روز کے وقفہ میں اتنی بڑی آزمائش کا شکار ہوا ہو کہ اس کے بیٹے ، بھائی اور عزیز ترین غلام نے یکے بعد دیگرے وفات پائی ہو ، خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم !میں نے آپ کے بیٹے کا سا بیٹا، بھائی جیسا بھائی اور غلام جیسا غلام نہیں دیکھا ۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے سر جُھکا لیالوگوں نے ربیع سے کہا : تم نے امیرُ المُؤمنین کو بے قرار کر دیا ۔ تھوڑی دیر بعدآپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے سر اٹھایا اور فرمایا:ربیع! پھر سے کہنا تم نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے دوبارہ وہی جملے بول دئیے تو فرمایا: مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ یہ اَموات نہ ہوتیں (یعنی میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی رِضا پر راضی ہوں ) ۔ (سیرت ابن عبدا لحکم ص۳۰۴)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت سے ہمیں یہ مَدَنی پھول ملا کہ ہمیں بھی تعزِیَت کے جواب میں صَبر ، صَبر اور صِرف صَبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ ہمیں سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں :یقیناانسان کی موت اُس کے پسماندگان کیلئے زبردست اِمتحان کا باعِث ہوتی ہے ۔ ایسے موقع پر صَبْر کرنا اور بالخصوص زَبان کو قابو میں رکھنا ضَروری ہے ، بے



Total Pages: 139

Go To