Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کوکسی کے اِنتقال کی خبرملی پھراطلاع ملی کہ پہلی خبرغَلَط تھی(یعنی وہ شخص زندہ ہے ) اس پرآپ نے انہیں خط لکھا:’’امابعد:ہمیں ایک خبرپہنچی تھی جس پرتمہارے تمام بھائی گھبراگئے تھے بعدازاں خبرملی کہ پہلی اِطلاع غَلَط ہے ، اس خبرسے ہمیں خوشی ہوئی! اگرچہ یہ خوشی بہت جلدہی خَتمہونے والی ہے اورکچھ ہی دن بعدوہ خبربھی آئے گی جس سے پہلی خبرکی تصدیق ہوجائے گی(یعنی جلدیابدیرموت توآکرہی رہے گی) میرے بھائی !تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے موت کامزہ چکھ لیاہوپھر(دنیامیں ) واپَسی کی درخواست کی ہواوراسے (زندہ رہنے کی) اِجازت مل گئی ہو، ظاہرہے کہ ایساشخص ہاتھوں ہاتھ (آخِرت کی) تیاری میں لگ جائے گا اور جہاں تک ممکن ہوگااپنے کم سے کم خوش کُن مال سے بھی دارِ قرار(یعنی آخِرت) کا سامان مہیا کرنے کی کوشِش کرے گا اور وہ یہ سمجھے گا کہ اس کے مال میں سے اس کی چیزیں  صِرف وہی ہیں جو اس نے آگے بھیج دیں کیونکہ ایسے شخص کے پلے تو دنیا و آخِرت کا خسارہ ہی خسارہ پڑتا ہے جس کے  پاس تھوڑا بہت مال ہو مگر اس کے باوجود اسکی اپنی کوئی چیز نہ ہو(یعنی آخِرت کے لیے کچھ نہ بھیجا ہو) ، رات اور دن ہمیشہ سے زندگی خَتم کرنے (انسانوں کی ) بساط حیات کو لپیٹتے اور شیرازۂ عمر کو بکھیرتے ہوئے دوڑے چلے جا رہے ہیں اور یہ دونوں (یعنی رات اوردن) اسی طرح دوڑتے رہیں گے اورانسان کوبوسیدہ اور فَنَا کرکے چھوڑیں گے ، یہ دن اور رات بہت سی اُمتوں کے مصاحب رہے مگر یہ سب لوگ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے جا ملے اور اپنے اچھے یا بُرے کو پالیا مگر رات اور دن اسی طرح تَر و تازہ ہیں جن کو انہوں نے فَنَا کیا ان میں سے کوئی بھی ان کو بوسیدہ نہ کرسکا اور جن پر سے یہ گزرے ان میں سے کوئی بھی ان کو فَنَانہ کرسکا ، یہ بدستور گزشتہ لوگوں کی طرح باقی ماندہ لوگوں کے ساتھ وہی کرنے کے لیے پوری طرح چُست اور تیا ر ہیں جو پہلے لوگوں کے ساتھ کرچکے ہیں ۔ تم آج اپنے بہت سے ہم عصر اور ہمسر لوگوں میں شریف انسان ہو مگر تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس کاایک ایک جوڑبندکاٹ دیاگیاہواوراس میں صِرف زندگی کی رَمَق رہ گئی ہواوروہ صبح شام بُلاوے کامنتظرہو، اس لئے ہم (سب) اپنی بداعمالیوں پرتوبہ واِستِغفارکرتے ہیں اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں ۔ کاش !ہمارے نفسوں کوعبرت ہو ۔ والسلام(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۷)

تُو اپنی موت کو مت بھول کر سامان چلنے کا       زمیں کی خاک پر سونا ہے اِینٹوں کا سِرہاناہے

نہ بَیلی ہو سکے بھائی نہ بیٹا باپ تے مائی              تُو کیوں پھرتا ہے سَو دائی عمل نے کام آناہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیر المؤمنین کی بیٹے کو نصیحت

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے خلیفہ بننے کے بعد  اپنے شہزادے حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق کو ایک خط میں لکھا : ’’ اپنے بعد میں اپنی وَصِیَّت اور نصیحت کا سب سے زیادہ مُستَحِق تم کو سمجھتا ہوں اور تم ہی ان کو محفوظ رکھنے کے سب سے زیادہ اہل ہو، خدا عَزَّوَجَلَّنے ہم پر بہت بڑا اِحسان کیا ہے اور جو نعمتیں رہ گئی ہیں وہ بھی عطا کرے گا، تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے وہ اِحسانات یاد کرو جوتم پر اور تمہارے باپ پر ہیں اور اپنے باپ کو ہر اُس معاملہ میں جس پر وہ قادِر ہے اور جس سے تمہارے خیال میں وہ عاجِز ہے مدد دو ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ۲۹۸ ملخصًا) حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِقنے اِس نصیحت پر شدت کے ساتھ عمل کیا اور حضرتِ عمر بن عبدالعزیز کو خِلافت کے اہم معاملات میں ہمیشہ مدد دی مثلاً حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز اَموالِ مغصوبہ کو بَنو اُمَیَّہ کے فتنہ و فساد کے خوف سے بتدریج اس کے اصل مالکوں کو واپَس کرنا چاہتے تھے لیکن حضرت سیِّدنا عبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِقہی کے مشورہ سے انہوں نے اس کام کو سب سے پہلے اَنجام دیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۲۶ملتقطًا)

صاحبزادے کی وفات سے عبرت

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو اپنی اولاد میں سے  زیادہ محبت حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق سے تھی ، بلکہ شام کے بعض مشائخ کا کہنا ہے کہ ہمارے خیال میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کا ذوقِ عِبادت اپنے بیٹے عبدالملکرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی عِبادت ورِیاضت سے متأثر ہوکر بڑھا تھا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۹۷) حضرتِ سیِّدُنا عبدالملکرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہطاعون کے مَرَض میں مبتلا ہوئے اور مرض نازُک صورت اِختیار کر گیاتو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکو اِطلا ع دی گئی ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ تشریف لائے اور ان سے دریافت فرمایا :’’بیٹا ! کیسے ہو ۔ ‘‘ انہوں نے سَرسَری طور پرعَرض کی :’’ اچھا ہوں ۔ ‘‘ مگر اپنی حالت کا اظہار نہیں کیا تاکہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہپریشان نہ ہوں ۔ فرمایا : ’’بیٹا! اپنی حالت ٹھیک سے بتاؤ تم جانتے ہی ہو کہ میں تمہارے معاملے میں رِضائے الہٰی پر راضی ہوں ۔ ‘‘ عَرض کی :’’ ابا جان! سچی بات تویہ ہے کہ میں خود کو دُنیا سے رُخصت ہوتا ہوا محسوس کررہا ہوں ۔ ‘‘ مِزاج پُرسی کرکے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز اپنی جائے نَماز میں تشریف لے گئے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہابھی نَماز میں تھے کہ حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق کا اِنتقال ہوگیا ۔  مُزاحِم نے آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکو اطلاع دی تو غَش کھا کر گِرپڑے ۔ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے مزاحم کو تاکید کررکھی تھی کہ مجھ سے کوئی بات خِلافِ معمول صادِر ہوتی ہوئی دیکھو تو ٹوک دیا کرو ۔ حضرتِ سیِّدُنا عبدالملکرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے کَفَن دَفن سے فَراغت ہوئی تو مزاحم نے کہا  :’’امیرُ المُؤمنین ! آج میں نے آپ سے ایک عجیب بات دیکھی وہ یہ کہ آپ عبدُالملک کے پاس آئے اورانکی مِزاج پُرسی کی تو انہوں نے اپنی حالت کو چھپانا چاہا مگر آپ نے اِصرار کیا کہ وہ اپنی حالت آپ کو ٹھیک ٹھیک بتائیں کیونکہ ان کے حق میں تقدیر کا جو فیصلہ ہوگا آپ اس پر دل وجان سے راضی رہیں گے ، پھر جب ان کا اِنتقال ہوا اور میں نے آپ کو اس کی اِطلاع کی تو آپ غش کھا کر گر گئے ، اگر آپ تقدیرکے فیصلے پر راضی تھے تو یہ غشی کیوں طاری ہوئی؟‘‘امیرُ المُؤمنین رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا: بات تو یہی تھی کہ میں تقدیرِ الہٰی کے فیصلہ پر راضی ہوں مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلاممیرے گھر آکر میرے جگر کے ٹکڑے کو لے کر گئے ہیں تو میں ڈرگیاجس کی وجہ سے وہ حالت پیش آئی جو تم نے دیکھی ، لہٰذایہ غم کی نہیں خوفِ موت کی غشی تھی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۹۶)

ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی یہ سمجھنا نادانی ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے جنازے ہی دیکھتے رہیں گے ، یادرکھئے ! ایک دن وہ بھی آئے گا کہ ہمارا بھی جنازہ اٹھایا جائے گا ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ   رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عنہ کوئی جنازہ دیکھتے تو فرماتے : ’’رُوْحُوْا فِانَّا غَادُوْنَیعنیچلو ہم بھی تمہارے پیچھے آنیوالے ہیں ۔ ‘‘ (البدایۃ والنہایۃ، سنۃ ستین من الہجرۃ، ج۵، ص۶۱۶) واقِعی آئے دن اُٹھنے والے



Total Pages: 139

Go To