$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بَرَکت نشان ہے : اَلبَرَکَۃُ مَع اَ کابِرِکُمیعنی برکت تمہارے بُزُرگوں کے ساتھ ہے ۔ (المستدرک للحاکم، کتاب الایمان، ج۱، ص۲۳۸، الحدیث۲۱۸)

تین نصیحتیں

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے شام میں مٹی کے بنے ہوئے منبر پر خطبہ دیا جس میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی حمد وثنا کے بعد اِرشاد فرمایا:(۱) اے لوگو! تم اپنے باطِن کی اِصلاح کرلو تو تمہارے ظاہِر کی اِصلاح خودبخود ہوجائے گی (۲) تم اپنی آخِرت کے لئے کام کرو تمہاری دنیا کے لئے بھی یہی کفایت کرے گا اور (۳) یہ بات جان لو کہ ہر وہ شخص جس کے باپ اور حضرت سیِّدُنا آدم صَفِی اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام تک کوئی زندہ نہیں رہا اُسے موت ضرور آئے گی ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۰۰)

 

دِل کی اِصلاح کی ضَرورت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے :’’آگاہ رہو کہ جسم میں ایک لوتھڑا گوشت کا ہے جب وہ سنورے تو پورا جسم سنور جاتا ہے ، اگر وہ بگڑے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے ، سُنو! وہ دِل ہے ۔ ‘‘(صحیح البخاری ، کتاب الایمان ، باب من استبراء لدینہ ، الحدیث۵۲، ج۱، ص۳۳)

          مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی دل بادشاہ ہے جسم اِس کی رِعایا، جیسے بادشاہ کے دُرُست ہوجانے سے تمام مُلک ٹھیک ہوجاتا ہے ، ایسے ہی دل سنبھل جانے سے تمام جسم ٹھیک ہوجاتا ہے ، دل اِرادہ کرتا ہے جسم اس پر عَمَل کی کوشِش ، اس لیے صوفیاء کرام دل کی اِصلاح پر بہت زور دیتے ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح ج۴، ص ۲۳۱)

            حُجَّۃُ الْاِسْلامحضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی  علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی  لکھتے ہیں : تم پر دل کی حفاظت ، اس کی اِصلاح اور اسے دُرُست رکھنے کی کوشِش کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ دل کا معاملہ باقی اَعضاء سے زیادہ خطرناک ہے ، اور اس کا اثر باقی اعضاء سے زیادہ ہے ۔ (مزید لکھتے ہیں ) ظاہری اَعمال کا باطنی اَوصاف کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے ۔ اگر باطن خراب ہو تو ظاہری اَعمال بھی خراب ہوں گے اور اگر باطن حَسَد، رِیا اور تَکَبُّر وغیرہ عیوب سے پاک ہو تو ظاہِری اعمال بھی دُرُست ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اگر کوئی اپنے اَعمال صالحہ کو رب تعالیٰ کا فَضل و کَرَم سمجھے تو ٹھیک ہے اور اگر انہیں اپنا ذاتی کمال تَصَوُّر کرے تو خُودسِتائی (خُد ۔ سِتا ۔ ای) کے باعث وہ اَعمال برباد ہوجاتے ہیں ، اس لیے جب تک باطنی اُ مُور کا ظاہری اعمال سے تعلق ، باطنی اَوصاف کی ظاہری اعمال میں تاثیر اور اوصاف باطنی کے ذریعہ ظاہری اعمال کی حفاظت کی کیفیت وغیرہ کا پتہ نہ چلے ، ظاہری اَعمال بھی دُرُست نہیں ہوسکتے ۔ (منہاج العابدین، ص۶۷، ۱۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

معذرت کرنے والے کاموں سے بچو

            حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مِہران رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے مجھ سے فرمایا:اِیَّاکَ وَمَایُعْتَذَرُ مِنْہُ  یعنی اس کام سے بچو جس پر معذرت کرنی پڑے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۶)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی ہرکام سے پہلے اس کے نتائج پر غوروفِکر کرنا ہمیں بہت سی ناکامیوں اور شرمندگیوں سے بچا سکتا ہے ۔

نصیحت کا شکریہ ادا کیا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کوکسی شخص نے کوئی ناصحانہ خط لکھاتھا، اس کے جواب میں تحریرفرمایا:’’امابعد!آپ کاگرامی نامہ مجھے ملا، جس میں آپ نے نصیحتیں فرمائی تھیں اور اس چیز کا ذِکر کیا تھا جومیراحصہ ہے (یعنی نصیحت کوتوجہ سے سننا) اورجوآپ کے ذمہ حق ہے (یعنی نصیحت کرنا ) آپ نے اس نصیحت نامہ کے ذریعہ سب سے افضل اَ جرپالیا، بلاشُبہ نصیحت صَدقہ کی مثل ہے بلکہ اَ جر وثواب میں اس سے بڑھ کرہے کہ اس کانفع زیادہ پائیدارہے اوریہ اس سے بہترذخیرہ بھی ہے اورمردِمومن کے ذمہ اس سے بڑاحق بھی ۔ ایک مومن کااپنے بھائی سے بطورنصیحت ایک بات کہہ دیناجس سے اس کی ہدایت طلبی میں اِضافہ ہو، اس مال سے یقینابہترہے جس کااپنے بھائی پرصَدقہ کرے ، خواہ وہ اس صَدقے کاضَرورت مندبھی ہواورتمہارے بھائی کووعظ ونصیحت سے جوہدایت ملے گی وہ اس دنیاسے بدرجہا بہترہے جوتمہارے مال سے اسے حاصِل ہوگی اورتمہارابھائی تمہارے وعظ ونصیحت کے ذریعہ ہلاکت سے نجات پائے یہ اس کے لئے کہیں زیادہ بہترہے اس بات سے کہ وہ تمہارے صَدقے کے ذریعے اپنی غربت کامُداواکرے ۔ لہٰذاجس کونصیحت کیجئے اپنے اوپرحق سمجھتے ہوئے کیجئے ، مگرجب آپ کسی دوسرے کونصیحت کریں تواس پرخودبھی عمل کیجئے ، آپ کی مثال اس طبیبِ حاذِق کی سی ہونی چاہیے جو خوب جانتاہے کہ اگردواکابے موقع اِستِعمال کرے گاتومریض کوبھی پریشان کرے گااورخودبھی پریشان ہوگااوراگرمناسب جگہ پردوا لگانے میں کوتاہی کرے گاتو جہالت وحماقت کامرتکب ہوگااورجب وہ کسی مجنون کاعلاج کرے گاتویونہی کُھلے بندوں علاج شروع نہیں کردے گا، بلکہ اس کے ہاتھ پاؤں بندھواکراطمینان کرے گاکیونکہ اسے خطرہ ہوگاکہ کہیں اس’’کارِخیر‘‘کے ذریعہ اس سے بڑاشرپیدانہ ہوجائے گویااس کاعِلم وتجربہ اس کے عمل کی کنجی ہے ، یادرہے کہ دروازے پرتالااس لئے نہیں لگایاجاتا کہ وہ ہمیشہ بندرہے ، کبھی نہ کُھلے ، نہ اس کے لئے کہ ہمیشہ کھلارہے ، کبھی بندنہ ہو!بلکہ اس لئے لگایاجاتاہے کہ اسے اپنے وَقت پربندکیاجائے اوراپنے وَقت پرکھولابھی جائے ۔ ‘‘ والسلام ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۳)

عمل کا ہو جذبہ عطا یاالہٰی

                        گُناہوں سے مجھ کو بچا یاالہٰی(وسائل بخشش ص۸۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دل ہلادینے والی نصیحت

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html