Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

لَّاذَنْبَ لَہٗیعنی گناہوں  سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔ ‘‘(السنن الکبری ، کتاب الشہادات ، باب شہادۃ القاذف ، رقم ۲۰۵۶۱ ، ج ۱۰ ، ص ۲۵۹)

توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا

            کسی نے حضرت ِسیِّدُنا ابن مسعودرضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے پوچھا کہ ایک آدمی نے گناہ کیا کیا اس کی توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ حضرت ِسیِّدُنا ابن مسعودرضی اللّٰہ تعالٰی عنہنے منہ دوسری طرف کر لیا ۔ پھر دوبارہ اِدھر توجُّہ کی توان کی آنکھیں ڈَبڈَبا رہی تھیں ۔ فرمایا’’جنت کے آٹھ دروازے ہیں ، سب کھلتے اور بند ہوتے ہیں ، سوائے توبہ کے ، اس لیے کہ توبہ کے دروازے پر ایک فِرِشتہ مقرر ہے ، اس لیے نیک عمل کرو اور مایوس نہ ہو ۔ ‘‘   [1]؎ (مکاشفۃ القلوب ، البا ب السابع عشر فی بیان الامانۃ والتو بۃ ، ص۶۱، ۶۲)

گناہوں سے بھر پور نامہ ہے میرا

                 مجھے بخش دے کر کرم یاالہٰی(وسائل بخشش ، ص۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نعمتوں میں غور عُمدہ عِبادت ہے

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے حضرتِ سیِّدُنا عبدالعزیز بن ابو داوٗد رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے فرمایا:اَلْفِکْرَۃُ فِیْ نِعَمِ اللّٰہِ اَفْضَلُ الْعِبَادَۃِ یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی نعمتوں میں غوروتفکر عُمدہ عِبادت ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۷)

غُربت کا رونا رونے والے کو عُمدہ نصیحت

          ایک شخص نے کسی بُزُرگ کی خدمت میں اپنی غُربت کی شکایت کی تواُنہوں نے اسے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی عنایت کردہ نعمتوں کا اِحساس دلانے کے لئے اِرشاد فرمایا: ’’کیا تُواِس بات کے لئے تیّار ہے کہ اپنی آنکھ دے دے اور دس ہزار دِرہَم لے لے ؟‘‘ اُس نے عَر ض کی: ’’ہر گز نہیں ۔ ‘‘ فرمایا:’’اچھا عَقل دے دے  اور دس ہزار دِرہم لے لے ۔ ‘‘عَرض کی: ’’کبھی نہیں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’اچّھا اپنے ہاتھ دے دے اور دس ہزار دِرہم لے لے ۔ ‘‘عَرض کی: ’’کسی صورت میں نہیں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’اچھا اپنے کان دے دے اور دس ہزار دِرہم لے لے ۔ ‘‘ اُس نے عَرض کی ’’یہ بھی گوارا نہیں ۔ ‘‘ فرمایا :’’اچّھا اپنے پاؤں دے دے اور دس ہزار دِرہم لے لے ۔ ‘‘ اُس نے عَرض کی :’’یہ بھی قَبول نہیں ۔ ‘‘ اِس پر اُنہوں نے اِرشاد فرمایا : ’’ 50 ہزار دِرہم کا مال تیرے پاس موجود ہے اور تو پھر بھی مفلِسی(یعنی غُربت) کا شکوہ کر رہا ہے ؟‘‘(کیمیائے سعادت ج۲ ص ۸۰۵)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی اگر ہم اپنے وجود اور اِردگِرد کے ماحول پر غور وفِکر کریں تو ہمیں اِحساس ہوگا کہ ہمیں رب تعالیٰ نے کتنی نعمتوں سے نواز رکھا ہے ۔

کون کس کو دیکھے ؟

            سرکارِنامدار، مدینے کے تاجدار ، شَہَنشاہِ اَبرار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: جس میں دو عادتیں ہوں اسی اللہ عَزَّوَجَلَّ شاکِر صابِر لکھتا ہے جو اپنے دین میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو اس کی پیروی کرے اور اپنی دنیا میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھے تو اللہعَزَّوَجَلَّ کا شکر کرے اس پر کہ اللہعَزَّوَجَلَّنے اسے اس شخص پر بزرگی دی تو اللہعَزَّوَجَلَّاسے شاکِر صابِر لکھے گا اور جو اپنے دین میں اپنے سے کم کو دیکھے اور اپنی دنیا میں اپنے سے اوپر کو دیکھے تو فوت شدہ دنیا پر غم کرے اللہعَزَّوَجَلَّ اُسے نہ شاکر لکھے نہ صابِر ۔ (ترمذی ج۴ص۲۲۹حدیث۲۵۲۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو نیکیوں میں کمزور ہیں وہ نیکیوں میں آگے بڑھے ہوؤں پر رَشک کر کے اُن کی طرح نیکیاں بڑھانے کی جُستجُو کریں اور مریض وغیرہ اپنے سے بڑے مریض کی طرف نظر رکھتے ہوئے شکر ادا کریں کہ مجھے فُلاں کے مقابلہ میں تکلیف کم ہے ۔ مَثَلاً جوڑوں کے دَرد والا پیٹ کے درد والے کو دیکھے کہ یہ مجھ سے زیادہ اَذِیَّت میں ہے ، T.Bوالا کینسر والے کی طرف دیکھے کہ وہ بے چارہ زیادہ تکلیف میں ہے ۔ جس کا ایک ہاتھ کٹ گیا وہ اُس کی طرف دیکھے جس کے دونوں ہاتھ کٹ چکے ہیں ، جس کی ایک آنکھ ضائِع ہو گئی ہووہ نابینا کی طرف نظر کرے ۔ کم تنخواہ والا بے رُوزگار کی طرف ، فلیٹ میں رہنے والا کوٹھی والے کو دیکھنے کے بجائے بے گھر کو دیکھے ۔ شاید کوئی سوچے کہ نابینا اور کینسر والا کس کی طرف دیکھیں ؟ وہ بھی اپنے سے زیادہ تکلیف والوں کی طرف دیکھیں مَثَلاً نابینا اُس پر غور کرے جو نابینا ہونے کے ساتھ ہاتھ پاؤں سے بھی معذور ہو، اِسی طرح کینسر والا غور کرے کہ فُلاں کو کینسر کے ساتھ ساتھ دل کا مرض یافالِج بھی ہے ۔ بَہَر حال دنیا میں ہر آفت سے بڑی آفت مل جائیگی ۔ خدا کی قسم ! سب سے بڑی مصیبت کُفر ہے ہر وہ مسلمان جو کتنا ہی بڑا مریض و غمزدہ ہو وہ  اللہ عَزَّوَجَلََّّکا شکر ادا کرے کہ اس نے مجھے ایمان کی نعمت سے نوازا اور کُفر کی مصیبت سے محفوظ رکھاہے ۔

اصل برباد کُن اَمراض گناہوں کے ہیں

بھائی کیوں اس کو فراموش کیا جاتا ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اپنے بزرگوں کا دامن تھامے رکھو

            امام اَوزاعی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا: اپنے بزرگوں کی رائے کو مضبوطی سے تھام لو اور اس کے خِلاف چلنے سے بچو کیونکہ وہ تم سے بہتر اور زیادہ عِلم والے تھے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۵)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینابزرگانِ دین کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رہنے میں دنیا وآخِرت کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں ،  اللّٰہکے پیارے حبیب   صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ



[1]     توبہ کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’نہر کی صدائیں ‘‘اور 132 صفحات پر مشتمل کتاب ’’توبہ کی روایات وحکایات ‘‘کا ضرور مطالعہ کیجئے ۔



Total Pages: 139

Go To