Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

سَمُند ر ی زَلزلہ بھی سُن لیا، جو  26.12.04  کو بَرَپا ہوا تھا، اس نے سب سے زیادہ تباہی انڈونیشیا کے صوبے ’’ آچے ‘‘ کے دارالحکومت ’’ باندا آچے ‘‘ میں مچائی ، غالِباً صِرف اُسی ایک شہر میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد موت کے گھاٹ اُتر گئے !سُنا یہی ہے کہ خُصُوصاً وہ عَلاقے اسکی زَد میں آئے تھے جہاں گناہوں کی حد ہوگئی تھی ، سَمُند ر کی چنگھاڑتی ہوئی لہروں نے ان بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اورتَہِس نَہِس کر کے رکھ دیا ۔ بَہَر حال کوہِ قاف کے رَیشے زمین کی نچلی سطح میں بھی دُور دُور تک پھیلے ہوئے ہیں ، جہاں جہاں وہ رَیشے ہوتے ہیں اسکی اُوپری زمین بَہُت نَرم ہوتی ہے ۔ جس جگہ زَلزلہ بھیجنے کااللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کا اِرادہ ہوتا ہے ، ( اللّٰہ اور اُس کے رسول کی پناہ ) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کوہِ قاف کو  حُکم دیتا ہے کہ وہ اپنے وہاں کے رَیشے کوجُنبِشدے ،  صِرف وہیں زَلزلہ آئیگا جس جگہ کے رَیشے کو حَرَکت دی گئی پھر جہاں خفیف یعنی ہلکے زَلزلے کا حُکم ہے تو یہ وہاں کے رَیشے کو ہلکا ساہِلاتا ہے اور جہاں حُکم ہے کہ شدید جھٹکا دے تو وہاں کوہِ قاف بَہُت زور سے اپنا رَیشہ ہِلاتا ہے ۔ بعض جگہ صِرف ہَلکا سا جھٹکا آتا ہے اورخَتم ہوجاتا ہے اس میں بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی مَشِیَّتَیں (مَشِیْ ۔ یَتَیں ) کارفرماہیں کہ کہیں ہلکاسا جھٹکا آتا ہے توکہیں زَور دار، کہیں مکانات صِرف ہِل جاتے ہیں تو کہیں اس کی کھڑکیاں اور کانچ وغیرہ بھی ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں ، کہیں مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّزمین پھٹ جاتی ہے اور ا س سے پانی نکل آتا ہے تو کہیں مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ شُعلے نکل پڑتے اور چیخنے کی آوازیں بُلند ہوتی ہیں ۔ کہیں سے بخارات و دھوئیں برآمد ہوتے ہیں ۔ (از افادات: فتاوٰی رضویہ  ج ۲۷ ص ۹۶ تا ۹۷)

زَلزَلہ گناہوں کے سبب آتا ہے

             میرے آقائے نعمت ، عظیم البَرَکت، عظیم المرتَبَت، پروانۂ شمعِ رسالت ، مجدِّدِ دین و ملت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰنکی بارگاہ میں سُوال کیا گیا کہ زَلزَلے کا سبب کیا ہے ؟اِرشاد فرمایا:’’سببِ حقیقی ‘‘تو وہی اِرادۃُ اللّٰہ(یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ   کا اِرادہ فرمانا ) ہے اور عالَم اسباب میں ’’باعثِ اصلی‘‘ بندوں کے مَعاصِی (یعنی گناہ ) ۔  [1]؎(فتاوی رضویہ ج۲۷ ص۹۶)

نِیم جاں کردیا گناہوں نے

          مرضِ عِصیاں سے دے شفا یارب(وسائل بخشش ص ۸۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

فرائض کی ادائیگی کی اہمیت

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا:تقویٰ محض دن کوروزہ رکھنے اورراتوں کو قیام کرنے کا نام نہیں بلکہ فرائض کو ادا کرنے اورحرام کو چھوڑدینے کا نام ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۹)

تقویٰ سے عَقل بڑھتی ہے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا:تقویٰ سے عَقل میں اِضافہ ہوتا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۹)

افضل عِبادت

            ایک مرتبہ فرمایا:اِنَّ اَفْضَلَ الْعِبَادَۃِ اَدَائُ اْلفَرَائِضِ وَاِجْتِنَابُ الْمَحَارِمِیعنی فرائض کو اداکرنا اورحرام سے بچنا افضل عِبادت ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۶)

گناہ کی تین جڑیں

             مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں : عُلَمائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامفرماتے ہیں کہ گناہوں کی اَصل(یعنی جڑ) تین چیزیں ہیں : (۱) حِرص(۲) حَسَد اور(۳) تَکبُّر ۔ غفلت پیدا کرنے والی 6 چیزیں ہیں :(۱) زیادہ کھانا(۲) زیادہ سونا(۳) ہر طرح آرام سے رہنے کی خواہِش کرنا(۴) مال کی مَحَبَّت(۵) عزَّت(پانے ) کی رَغبت(۶) حکومت کی خواہِش، بسا اوقات مال و حکومت کی طَلَب میں انسان کافِر(بھی) بن جاتا ہے اور وہ (یعنی علمائے کرام) یہ بھی فرماتے ہیں کہ گناہ دل میں سیاہی پیدا کرتا ہے اور قرآنِ پاک کی تِلاوت، دُرُود شریف، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا ذِکر، موت کا یاد کرنا ۔ یہ سب چیزیں دل کی صَیقَل (یعنی دل کی صفائی کرنے والی ) ہیں ، جن سے وہ سیاہی دُور ہوتی ہے ۔ اسی طرح زیادہ ہنسنا دل کو بیمار کر دیتا ہے اور خوفِ الٰہی سے رونا اس کا علاج ہے ۔ جو شخص گناہوں کے ساتھ نیکیاں بھی کرتا رہے تو اس کا قلب مَیلا ہو کر دُھلتا رہے گا(جبکہ اِس نیّت سے گناہ نہ کرتا ہو کہ بعد میں نیکی کر کے گناہ دھو ڈالا کروں گا) لیکن جو گناہوں میں مشغول رہے ، نیکی کی طرف مُتَوجِّہ نہ ہو اُس کے قَلب کی سیاہی بڑھتے بڑھتے ایک دن سارے قَلب کو سیاہ کر دے گی، جس کیمُتَعَلِّق  حدیث شریف میں آتا ہے کہ’’ ان دلوں پر لوہے کی طرح زنگ آتا رہتا ہے اور اس کی صَفائی تِلاوتِ قرآن ہے ۔ ‘‘ اِس سیاہ قلب کو صاف کرنے کے لئے ایک عَرصہ اور کافیمِحنَت چاہئے ، ہاں اگر کسی اللّٰہ والے کی اِس پر نگاہِ کرم پڑ جائے تو وہ آناً فاناً اس قَلب کو صاف کر دیتی ہے ۔ خیال رہے کہ گناہوں سے آہِستگی سے دل مَیلا ہوتا ہے اورمَیلا دل عبادات کے ذَرِیعے آہِستہ آہِستہ صاف ہوتا ہے مگر نبیِّ کریم  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم    کی عداوت سے کبھی ایک دم مُہر لگ جاتی ہے ۔ شیطان کے دل پر حضرتِ سیِّدُنا آدم  صفیُّ  اللّٰہ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے بُغض سے اچانک مُہر لگ گئی اورحضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے جادوگروں کا مَیلا دل نگاہِ کلیمی سے اچانک اُجلا ہو گیا ۔ معلوم ہوا کہ عداوتِ نبی بدترین کُفرہے اور نگاہِ ولی بہترین نعمت ہے ۔ (تفسیر نعیمی ج۱ ص۱۵۱)

گناہوں کی عادت بڑھی جارہی ہے

کرم یاالہٰی کرم یاالہٰی (وسائل بخشش ، ص۸۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



  [1]  زلزلے کے بارے میں مزید تفصیلات پڑھنے کے لئے مکتبۃ المدینہ کے 80 صفحات پر مشتمل رسالے ’’زلزلہ اور اس کے اسباب ‘‘کا ضرور مطالعہ کیجئے ۔   



Total Pages: 139

Go To