$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان ، رحمت عالمیان  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا:’’اچھے اور برے مصاحِب کی مِثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ‘‘ (مسلم، ، ص۱۱۱۶، رقم الحدیث ۲۶۲۸)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی! ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ، مثال کے طور پر اگر آپ کو کبھی کسی مَیِّت والے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہاں کا اُداس ماحول کچھ دیر کے لئے آپ کو بھی غمگین کردے گااور اگر کسی شادی پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو خوشیوں بھرا  ماحول آپ کو بھی کچھ دیر کے لئے مسرور کر دے گا ۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص غفلت کا شکارہو کر گناہوں پر دلیرہوجانے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے گا ، تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی شخص ایسے خوش عقیدہ لوگوں کی صحبت اِختیار کرے گا جن کے دل خوفِ خدا سے معمور ہوں ، ان کی آنکھیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے ڈر سے روئیں تو یقینی طور پر یہی کیفیات اس شخص کے دل میں بھی سرایت کر جائیں گی ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  

صُحْبَتِ صَالِح  تُرَا صَالِح کُنَدْ

صُحْبَتِ طَالِح تُرَا طَالِح کُنَدْ

(یعنی اچھوں کی صحبت تجھے اچھا اور بروں کی صحبت تجھے برا بنادے گی )

ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟

             ہمیں چاہئے کہ دینی مَشغلوں اور دُنیا کے ضَروری کاموں سے فَراغت کے بعد خَلْوَت یعنی تنہائی اِختیار کریں یا صِرْف ایسے سنجیدہ اورسنّتوں کے پابند اسلامی بھائیوں کی صُحبت حاصِل کریں جن کی باتیں خوفِ خدا و عِشقِ مصطَفٰیعَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں اضافے کا باعِث بنیں اوروہ وقتاً فوقتاً ظاہری برائیوں اور باطِنی بیماریوں کی نشاندہی کرتے اور ان کا علاج تجویز فرماتے ہوں ۔ اچّھی صحبت کے مُتَعَلِّقدو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّممُلاحَظہ ہوں :(1) اچّھا رفیق وہ ہے کہ جب تو خداعَزَّوَجَلَّ کو یاد کرے تو وہ تیری مدد کرے اور جب تو بُھولے تو وہ یاد دلائے ۔  (موسوعۃ الامام لِابْنِ اَبِی الدُّنْیا، ج ۸، ص ۱۶۱ رقم۴۲ ) (2) اچّھا رفیق وہ ہے کہ اُس کے دیکھنے سے تمہیں خدا عَزَّوَجَلَّیاد آئے اور اُس کی گفتگو سے تمہارے عمل میں زیادَتی ہو اور اس کا عمل تمہیں آخِرت کی یاد دلائے ۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۷ ص۵۷ حدیث۹۴۴۶) ) ماخوذ از غیبت کی تباہ کاریاں ص۲۵۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

زلزلہ ، صدقہ اور دُعائیں

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے تمام علاقوں میں تحریری پیغام بھیجا کہ زَلزَلہ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ بندوں پر عتاب فرماتا ہے ، آپ لوگ فلاں دن باہَر نکلیں اور توبہ اِستِغفار کریں ، جو شخص صَدقہ کرسکتا ہو وہ صَدقہ کرے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے : قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴) (بے شک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا (پ۳۰، الاعلیٰ :۱۴) ‘‘ اور اپنے باپ حضرتِ سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی یہ دُعا پڑھا کرو:

رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۲۳) ۸، الاعراف :۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اے رب ہمارے ہم نے اپنا آپ بُرا کیاتو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے اور حضرتِ سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی دُعا پڑھا کرو:

وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ(۴۷) ۱۲، ھود :۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان:اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار ہوجاؤں ۔

اور حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی دُعا پڑھا کرو:

رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗؕ-۲۰، قصص :۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان:اے میرے رب میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے بخش دے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۸)

زَلزلہ کیسے آتا ہے ؟

            دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے 80صفحات پر مشتمل رسالے ’’زَلزَلہ اور اس کے اَسباب ‘‘ کے صفحہ 13پر ہے : میرے آقا اعلٰی حضرت، اِمامِ اَہلسنّت،  ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِٔ سنّت ، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن  فرماتے ہیں ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے تمام زمین کومُحِیط( یعنی گھیرے میں لیا ہوا) ایک پہاڑ پیداکیا، جس کا نام کوہِ قاف ہے ، زمین میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں کوہِ قاف کے رَیشے پھیلے ہوئے نہ ہوں ۔ جس طرح دَرَختْ کی جَڑیں زمین کے اندر پھیل جاتی ہیں اور ان جَڑوں کے سبب دَرخت کھڑا رہتا ہے اور آندھی، یا ہوا آئے تو یہ نہیں گرتا ۔ اب اُصول یہ ہے کہ دَرخت جتنا بڑا ہوگا اُتنی ہی دُور تک اس کی جڑوں کے رَیشے پھیلتے ہیں چُونکہ کوہِ قاف بَہُت بڑا ہے ، اتنا بڑا ہے ، اتنا بڑا ہے ، اتنا بڑا ہے کہ ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے لہٰذا اس کو کھڑے رہنے کیلئے جگہ بھی بَہُت ہی بڑی درکار ہے ، چُنانچِہ اسکے رَیشے  حُکمِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ سے ساری زمین میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ کہیں یہ رَیشے زمین کی اُوپری سَطح پرظاہِر ہیں جیسا کہ بَرگَد کے دَرَخت کی جَڑیں کہیں کہیں زمین پر اُبھری ہوئی ہوتی ہیں ۔ جہاں جہاں اس کوہِ قاف کے رَیشے اُبھرے وہاں پہاڑیاں اورپہاڑ کھڑے ہوگئے ، کہیں کہیں زمین کی سَطْح تک آکر رُکے رہے تو اس کو سَنگلاخ ( یعنی پتھریلی) زمین کہتے ہیں ۔ بَہَر حال یہ رَیشے کہیں زمین کے اوپر توکہیں زمین کے نیچے یہاں تک کہ سَمُندر کے اندر بھی ہیں ۔ سَمُنَدر میں بھی زَلزلہ آسکتا ہے ، پہلے ہم نے کبھی نہیں سُنا تھا مگر اب سونامی یعنی



Total Pages: 139

Go To
$footer_html