Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

خواب میں مخصوص دعاسکھائی

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے شہزادے حضرتِ سیِّدُنا عبدالعزیزرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہجو یزید بن ولید کے دور میں حرمین طیبین کے گورنر بھی رہے ، ان کا بیان ہے کہ مجھے عِلمِ حدیث کے زبردست اِمام حضرت سیِّدُنا زُہری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کی زِیارت کا بہت شوق تھا ، بالآخرمجھے خواب میں ان کی زیارت نصیب ہوہی گئی ۔ میں نے عَرض کی: حضرت! کوئی مخصوص دُعا بتائیے ۔ فرمانے لگے : لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَایَمُوْتُ اللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ وَاسْأَلُکَ اَنْ تُعِیْذَنِیْ وَذُرِّیَّتِیْ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، میرا بھروسا اسی پر ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا کبھی مرے گا نہیں ، یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ میں تجھ سے عافیت کا سوالی ہوں اور تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اور میری اولاد کو شیطان مَردُود سے محفوظ فرما دے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۱۲)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

گورنر بن گئے

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے عِلمی فَضل وکمال کے اِظہار کا سب سے موزوں ذریعہ دَرس وتدریس تھا مگر خاندانِ خلافت سے تعلق آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کو مَسنَدِ خلافت تک لے گیا ، مگر اس سے پہلے ’’خُنَاصِرہ‘‘ پھر مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً میں صرف 25سال کی عمر میں گورنر کے عہدہ پر بھی فائز ہوئے ، مگر یہ خدمت بھی آپ نے آسانی سے قبول نہیں کی، چنانچِہ

گورنری قبول کرنے کے لئے شَرط رکھی

            خلیفۂ وَقت ولید بن عبدالملک نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً ، مکّۂ مکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً، اور طائف کاگورنر مقرر کیا مگر آپ یہ خدمت قبول کرنے میں پَس وپیش کرتے رہے ، خلیفہ کے بار بارکہنے پر آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہنے گورنری اِس شَرط پر قُبول کی کہ مجھے پہلے گورنروں کی طرح لوگوں پر ظُلم اور زِیادَتی پر مجبور نہ کیا جائے ۔ ولید نے اِس شرط کو منظور کرتے ہوئے کہا:اِعْمَلْ بِالْحَقِّ وَاِنْ لَّمْ تَرْفَعْ اِلَیْنَا اِلَّادِرْھَماً وَاحِداً  یعنی  آپ حق پر عمل کیجیے چاہے ہمیں ایک ہی دِرہم وصول ہو ۔ (سیرت ابن جوزی۴۲)

ظلم کا انجام ہلاکت ہے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کا مَدَنی ذہن ملاحظہ کیا کہ گورنری کاعہدہ جو اِختیارات کا مرکز تھا ، اس کوبھی آپ نے اِس شَرط پر قبول کیا کہ مجھے ظُلم کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا ، یقینا لوگوں پر ظُلم کرنے میں دنیا وآخِرت کی بربادی ہے ، اس میں اللّٰہ ورسولعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی بھی ہے اور بندوں کی حق تَلَفی بھی ۔ لہٰذا اگر ہمیں کوئی مَنصَب یاعہدہ حاصل ہوجائے تو اِس بات کا بے حدخیال رکھنا چاہئے کہ کہیں عزت وطاقت کا غُرُور ہمیں لوگوں پر ظُلم کرنے پرمجبور نہ کردے جس کے نتیجے میں ہم میدانِ محشر میں ذلیل ورُسوا ہوجائیں ۔

ظُلم کسے کہتے ہیں ؟

            دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ62 صفحات پر مشتمل رسالے ’’ظلم کا انجام ‘‘کے صفحہ 9 پر ہے : حضرتِ جُرجانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی اپنی کتاب ’’اَلتَّعرِیفات‘‘ میں ظلم کے معنٰی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ کہیں اور رکھنا ۔ (التعریفات للجر جانی ص ۱۰۲ ) شریعت میں ظلم سے مراد یہ ہے کہ کسی کا حق مارنا ، کسی کو غیر محل میں خرچ کرنا، کسی کوبِغیرقُصُور کے سزا دینا ۔ (مراٰۃ ج۶ ص ۶۶۹)

مُفلِس کون؟

             حضرتِ سیِّدُنامُسلِم بن حَجّاج قُشَیری  علیہ ر حمۃ  اللّٰہِ  القوی اپنے مشہور مجموعۂ حدیث ’’صَحِیْح مُسْلِم‘‘ میں نَقل کرتے ہیں : سرکار ِنامدار، مدینے کے تاجدار ، رسولوں کے سالار، نبیوں کے سردار، ہم غریبوں کے غمگسار، ہم بیکسوں کے مددگار، شفیعِ روزشُمار جنابِ احمد مختار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اِستِفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہومُفلِس کون ہے ؟ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عَرض کی :یارسولَاللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ہم میں سے جس کے پاس دراہِم و سامان نہ ہوں وہ مُفلِس ہے ۔ فرمایا: ’’میری اُمّت میں مُفلِس وہ ہے جو قِیامت کے دن نَماز، روزے اور زکوٰۃ لے کر آیا اور یوں آیا کہ اِسے گالی دی، اُس پرتُہمت لگائی، اِس کا مال کھایا، اُس کا خون بہایا، اُسے مارا تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اِس مظلوم کو دے دی جائیں اور کچھ اُس مظلوم کو پھر اگر اِس کے ذمّے جو حُقُوق تھے ان کی ادائیگی سے پہلے اِس کی نیکیاں خَتم ہوجائیں تو ان مظلوموں کی خطائیں لیکر اُس ظالِم پرڈال دی جائیں پھر اُسے آگ میں پھینک دیا جائے ۔ ‘‘ ( مُسلِم ص۱۳۹۴ حدیث ۲۵۸۱ )

لَرَز اٹھو !

            اے نَمازیو! اے روزہ دارو! اے حاجیو! اے پوری زکوٰۃ ادا کرنے والو! اے خیرات و حَسَنات میں حصّہ لینے والو!اے نیک صورت نظر آنیوالے مالدارو! ڈرجاؤ! لرزاٹھو! حقیقت میں مُفلِس وہ ہے جو نَماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وصَدَقات، سخاوتوں ، فَلاحی کاموں اور بڑی بڑی نیکیوں کے باوُجُود قیامت میں خالی کا خالی رہ جائے !جن کو کبھی گالی دیکر، کبھی بِلااجازتِ شَرعی ڈانٹ کر، بے عزّتی کرکے ، ذلیل کرکے ، مار پیٹ کرکے ، عارِیَّتاً چیزیں لے کر قصداً واپَس نہ لوٹا کر، قرض دبا کر، دل دکھا کر ناراض کردیا ہوگاوہ اُس کی ساری نیکیاں لیجائیں گے اور نیکیاں خَتم ہوجانے کی صورت میں ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کرواصِلِ جہنَّم کردیا جائے گا ۔ (ظلم کا انجام ص۹)

ہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسطے اٹھیں                بچانا ظُلم و سِتَم سے مجھے سدا یاربّ

 



Total Pages: 139

Go To