$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

گا میں تو جب قابِل ہوجاؤں گا اُس وَقت داڑھی رکھوں گا ۔ ‘‘ یاد رکھ! یہ شیطان کا کامیاب ترین وار ہے کہ انسان اپنے بارے میں یہ سمجھ بیٹھے کہ ’’ہاں ، اب میں قابِل ہوگیا ہوں ۔ ‘‘یادرکھئے ! اپنے آپ کو قابِل سمجھنا یِہی ناقابلیت کی سب سے بـڑی دلیل ہے ۔ عاجِزی اِختیار کر!بڑے بڑے علمائے کرام بھی ہرسُوال کا جواب نہیں دیتے تو کیا ہرسُوال کا جواب دینے کی تُو نے ذمّہ داری لی ہوئی ہے ؟ نفس کی حیلہ بازیوں میں مت آ! اور مان جا ۔ خواہ ماں روکے ، باپ منع کرے ، معاشرہ آڑے آئے ، شادی میں رُکاوٹ کھڑی ہو ۔ کچھ ہی ہوجائے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسولصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا  حُکم ماننا ہی پڑے گا ۔ تسلّی رکھ! اگر جوڑا لوحِ محفوظ پر لکھا ہوا ہے تو تیری شادی ضَرور ہوجائے گی اور اگر نہیں لکھا تو دُنیا کی کوئی طاقت تیری شادی نہیں کرواسکتی ۔ زندَگی کا کیا بھروسہ؟

داڑھی مُنڈواتے ہی موت

          کسی نے سگِ مدینہ (راقم الحروف) کو کچھ اس طرح کا واقِعہ سنایا تھا کہ بنگلہ دیش میں ایک نوجوان نے داڑھی رکھی تھی، جب اس کی شادی کا وَقت قریب آیا تو والِدین نے داڑھی مُنڈوانے پر مجبور کیا ۔ بادلِ نَخواستہ نائی کے پاس جا کر داڑھی منڈوا کر گھر کی طرف آتے ہوئے سڑک عبور کررہا تھا کہ کسی تیزرفتار گاڑی نے کچل کر رکھ دیا، اُس کا دم نکل گیا اور اُس کی شادی کے ارمان خاک میں مل گئے ۔ ماں باپ کیا کام آئے ؟ نہ شادی ہوئی نہ داڑھی رہی ۔ توپیارے اسلامی بھائی! ہوش میں آ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ کرکے آج ہی عہد کرلے کہ اب تاجدارِ رسالت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحَبَّتمیں گردن تو کٹ سکتی ہے مگر میری داڑھی اب دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے جُدا نہیں کر سکتی ۔

شاباش …… مبارَک …… مبارَک…… مبارَک (کالے بچھو ص۴تا۱۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سردار کون ہوتا ہے ؟

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک شخص سے پوچھا: مَنْ سَیِّدُ قَوْمِکَیعنی تمہاری قوم کا سردار کون ہے ؟ اس نے کہا: انا یعنی میں ۔ تو اِرشاد فرمایا:لوکُنْتَ سَیِّدَھُمْ مَاقُلْتَ یعنی اگر تم واقعی ان کے سردار ہوتے تو ہاں نہ کہتے (یعنی عاجزی کرتے ہوئے خاموش رہتے ) ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۸)

                اس حکایت میں ان اسلامی بھائیوں کے لئے دَرسِ عظیم ہے جنہیں کوئی بڑی ذمّہ داری یا عہدہ حاصِل ہوجائے توکوئی پوچھے نہ پوچھے وہ اپنے تعارُف میں  بلاضَرورت ومصلحت اپنے عہدے کو ضرور ذِکر کرتے ہیں ، ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر کوئی نگران بھی ہوتو عندَ الضرورت خود کو خادِم کہہ کر تعارف کروائے ، امیراہلِسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی کی عاجزی مرحبا ! کہ لوگ آپ کو امیرِ اہلسنّت کہتے ہیں لیکن آپ دامت برکاتہم العالیہ خود کو حسبِ موقع فقیر اہلسنّت کہتے ہیں اور اس کی وضاحت یوں فرماتے ہیں :’’ میں اہلسنّت میں سے نیکیوں کے معاملے میں سب سے غریب ہوں اس لئے فقیرِ اہلسنّت ہوں ۔ ‘‘ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بھی حقیقی عاجزی نصیب فرمائے ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

رزق پہنچ کر رہے گا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:اَ یُّھَا النَّاسُ ! اِتَّقُوااللّٰہَ وَاَجْمِلُوْا فِی الطَّلَبِ فَاِنَّہٗ اِنْ کَانَ لِاَحَدِکُمْ رِزْقٌ فِیْ رَأسِ جَبَلٍ اَوْحَضِیْضِ اَرْضٍ یَاْتِیْہٖ یعنی لوگو! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور حلال ذریعے سے رِزق تلاش کرو کیونکہ اگرتمہارا رِزق کسی پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہے یا زمین کی تہہ میں ، تمہیں مل کر رہے گا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۴)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس فرمانِ عظیم میں ہمارے لئے توکُّل کا دَرس پوشیدہ ہے ، اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :تَوَکُّلترکِ اسباب کا نام نہیں بلکہ اِعتِماد علی الاسباب کا ترک ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ ج ۲۴ ص۳۷۹) یعنی اسباب ہی کو چھوڑ دینا توکُّل نہیں ہے ، توکُّل تو یہ ہے کہ اسباب پر بھروسہ نہ کرے ۔ مثلاًمریض دوائی کھانا نہ چھوڑے بلکہ دوائی کھائے اور نظر خالقِ اسباب کی طرف رکھے کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ چاہے گا تو ہی اِس دوائی سے شِفا ملے گی ۔

توکل کیسا ہونا چاہئے ؟

             حُضُورِ نبیِّ کریم، ر ء وفٌ رَّحیم، محبوبِ ربِّ عظیم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کا فرمانِ راحت نشان ہے :لَوْ اَ نَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُونَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہِ لَرُزِقْتُمْ کَمَا یُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًایعنی اگر تم  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  پرایسا توکُّل کرو جیسا کہ اُس پرتَوکُّل کرنے کا حق ہے تو تم کو ایسے رِزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ(پرندے ) صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں ۔  (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج ۴ ص ۱۵۴حدیث ۲۳۵۱ )

                اس فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے ان نادانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں جو روزی کمانی کے لئے حرام ذریعہ اپنانے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے ، اے کاش ہمیں حقیقی توکل نصیب ہوجائے ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

بدمذھبوں کی صحبت سے بچو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:لَاتُجَالِسْ ذَاھَوٰی فَیُلْقِیْ فِیْ نَفْسِکَ شَیْئاً یَسْخَطُ اللّٰہُ بِہٖ عَلَیْکَ یعنی بد مذہبوں کی صحبت سے بچو کیونکہ وہ تمہیں بھی ایسے کاموں میں لگا دے گا جن سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  ناراض ہوتا ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۶)

اچھے اور بُرے مصاحِب کی مثال

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html