Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

الرَّعْدِ وَسُوْرَۃِ مُحَمَّدٍ یعنی قطع رحمی کرنے والے سے کبھی بھائی چارہ قائم نہ کیجئے گا کیونکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے سورۂ رَعد اور سورۂ محمد میں قطع رحمی کرنے والے پر لعنت کی ہے ۔ (درمنثور ج۴ص۶۴۱)

افضل عمل کونسا ہے ؟

            حضرتِ سیِّدُنا ابو ربیعہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ مَااَ کْرَھَتْ عَلَیْہِ النُّفُوْسُ یعنی افضل ترین عمل وہ ہے جو نفس پر بھاری ہو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۷)

داڑھی کے بال اکھیڑنے والے کی گواہی مسترد کردی

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے پاس ایک ایسا شخص گواہی دینے کے لئے حاضِر ہوا جس نے اپنی بچّی(یعنی ٹھوڑی اور نچلے ہونٹ کی درمیانی  جگہ) کے بال اُکھاڑے ہوئے تھے ، یہ دیکھ کر آپ نے اس کی گواہی رَد کردی ۔ (احیاء العلوم، ج۱ ص۱۹۷)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ بلاحاجتِ شَرعی بچّی کے مقام سے داڑھی کے تھوڑے سے بال اکھاڑنے والے کی گواہی مسترد کر دی گئی ، اس سے زیب وزینت کے ان مَتوالوں کو عِبرت پکڑنی چاہئے جو مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پوری داڑھی ہی مونڈ ڈالتے ہیں ۔

داڑھیاں بڑھاؤ

            اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ عالیشان بار بار پڑھئے : ’’اَحْفُوا الشَّوَارِبَ ، وَاَعْفُوا اللِّحَی  وَلَا تَشَبَّہُوا بِالْیَہُودِ یعنی مونچھیں خوب پَست (یعنی چھوٹی) کرو اور داڑھیوں کو مُعافی دو (یعنی بڑھاؤ) یہودیوں کی سی صورت نہ بناؤ ۔ ‘‘ ( شرح معانی الآثار للطّحاوی ج۴ ص۲۸)

            شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری دامت برکاتہم العالیہ  اپنے رسالے ’’کالے بچھو ‘‘ میں یہ حدیث پاک نقل کرنے کے بعد سمجھاتے ہوئے لکھتے ہیں :

مرنے کے بعد کی ہوشرُبا  منظر کشی

            اے غافِل اسلامی بھائی! ذرا ہوش کر!! مرنے کے بعد تیری ایک نہ چلے گی، تیرے ناز اٹھانے والے تیرے کپڑے بھی اتارلیں گے ۔ تو کتنا ہی بڑا سرمایہ دار سہی، تجھے وُہی کورے لٹّھے کا کفن پہنائیں گے جوفُٹ پاتھ پر دم توڑ دینے والے لاوارِث کو پہنایا جاتا ہے ۔ تیری کار ہے تو وہ بھی گیرج میں کھڑی رہ جائے گی ۔ تیرے بیش قیمت لباس صندوق میں دھرے رہ جائیں گے ۔ تیرا مال و متاع اور خون پسینے کی کمائی پر وُرَثاء قابِض ہوجائیں گے ۔ ’’اپنے ‘‘ اشک بہا رہے ہوں گے ۔ ’’بیگانے ‘‘ خوشیاں منا رہے ہوں گے ۔ تیرے ناز اٹھانے والے تجھے اپنے کندھوں پر لاد کر چل دیں گے اور ایک ایسے ویرانے میں لے آئیں گے کہ تو  کبھی اس ہولناک سنّاٹے میں خُصُوصاً رات کے وَقت ایک گھڑی بھی تنہا نہ آیا تھا، نہ آسکتا تھا بلکہ اس کے تصوُّر سے ہی کانپ جایا کرتا تھا ۔ اب گڑھا کھود کر تجھے منوں مِٹّی تلے دَفن کرکے تیرے سارے عزیز چلے جائیں گے ۔ تیرے پاس ایک رات کُجاایک گھنٹہ بھی ٹھہرنے کے لئے کوئی راضی نہ ہوگا ۔ خواہ تیرا چہیتا بیٹا ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی بھاگ کھڑا ہوگا ۔ اب اس تنگ و تاریک قَبْر میں نہ جانے کتنے ہزار سال تیرا قیام ہوگا ۔ تو حیران و پریشان ہوگا، افسردگی چھائی ہوگی،  قَبْر بھینچ رہی ہوگی، توچِلّارہا ہوگا، حسرت بھری نگاہوں سے عزیزوں کو نگاہوں سے اَوجھل ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوگا، دل ڈوبتا جارہا ہوگا ۔ اتنے میں قَبْر کی دیواریں ہلنا شروع ہوں گی اور دیکھتے ہی دیکھتے دو خوف ناک شکلوں والے فِرِشے (منکَر و نکیر) اپنے لمبے لمبے دانتوں سے قَبْرکی دیوار کو چیرتے ہوئے تیرے سامنے آ موجود ہوں گے ، ان کی آنکھوں سے آگ کے شعلے نکل رہے ہوں گے ، کالے کالے مُہِیب(یعنی ہیبت ناک) بال سر سے پاؤں تک لٹک رہے ہوں گے ، تجھے جِھڑک کر بٹھائیں گے ۔ کَرَخت (یعنی نہایت ہی  سخت) لہجے میں اس طرح سُوالات کریں گے : ’’مَنْ رَّبُّکَ؟‘‘ (یعنی تیرا رب  عَزَّوَجَلَّکون ہے ؟ ) ’’مَا دِیْنُکَ؟‘‘ (یعنی تیرا دین کیا ہے ؟)   اِتنے میں تیرے اور مدینے  کے درمِیان جتنے پردے حائل ہوں گے ، سب اُٹھادیئے جائیں گے کسی کی موہنی،  دلرُبا اور پیاری پیاری صورت سامنے آجائے گی ۔ یاوہ عظیم اور پیاری ہستی خود تشریف  لے آئے گی ۔ کیا عجب! تیری آنکھیں شَرم سے جُھک جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ تُو سوچ  میں پڑجائے کہ نِگاہیں اُٹھاؤں تو کیسے اُٹھاؤں ! اپنی بگڑی ہوئی صورت دِکھاؤں تو  کیسے دکھاؤں ! یہ وُہی تو میرے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں جن کا میں کلمہ  پڑھا کرتا تھا ۔ اپنے آپ کو ان صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا غلام بھی کہتا تھا ۔ لیکن میں  نے یہ کیا کیا! میٹھے میٹھے آقا  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تو یہ فرمایا: ’’ مونچھیں خوب پست کرواور داڑھیوں کو مُعافی دو یہودیوں جیسی صورت مت بناؤ ۔ ‘‘  لیکن ہائے میری بدبختی! میں چند روزہ دنیا کی زینت میں کھو گیا ۔ فیشن نے میرا ستیاناس(سَتْ ۔ تِیا ۔ ناس) کردیا ۔ آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سختی سے منع  کرنے کے باوُجود میں نے چِہرہ یہودیوں یعنی مدنی آقا  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ  وسلَّمکے دشمنوں جیسا ہی بنایا ۔ ہائے ! اب کیا ہوگا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری بگڑی ہوئی شکل دیکھ کر سرکار ِ عالی وقارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم منہ پھیر لیں اور یہ فرمادیں کہ ’’ یہ تو میرے دشمنوں والا چہرہ ہے میرے غلاموں والا نہیں !!‘‘ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو سوچ اُس وَقت تجھ پر کیا گزرے گی ۔

نہ اُٹھ سکے گاقِیامت تلک خدا کی قسم

اگر نبی نے نظر سے گرا کے چھوڑ دیا

            ایسا نہیں ہوگا، اِن شائَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہرگز نہیں ہوگا ۔ ابھی تو زندہ ہے ، مان جا! اپنے کمزور بدن پر  تَرس کھا! جھٹ ہِمّت کر! انگریزی فیشن، فِرنگی تہذیب کو تین طَلَاقیں دے ڈال اور اپنا چِہرہ میٹھے میٹھے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی پاکیزہ سنَّت سے آراستہ کرلے اور ایک مُٹّھی داڑھی سجالے ۔ ہرگز ہرگز شیطان کے اِس فریب میں نہ آ اور ان وساوِس کی طرف توجُّہ مت لا، کہ’’ ابھی تو میں اس قابل نہیں ہوا، میری تو عمر ہی کیا ہے ؟ میرا عِلم بھی اتنا کہاں ہے ؟ اگر کسی نے دین کے بارے میں سُوال کردیا تو مجھے جواب نہیں آئے



Total Pages: 139

Go To