Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بُہتان تَراشنے والوں کا انجام

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ولید بن ہشام مُعِیطی کو قِنَّسْرِین کا امیرِ لشکر اور فُرات بن مسلم کو وہاں کا امیرِ خراج مقرر کیا ۔ اِن دونوں کے درمیان کچھ اَن بَن ہوگئی ۔ یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ ولید نے علاقے کے چار معمر افراد کو اس بات پر تیار کر لیا کہ وہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس فُرا ت کے خِلاف یہ جھوٹی گواہی دیں کہ (۱) وہ نَماز نہیں پڑھتا (۲) صحت واِقامت کی حالت میں بھی رمضان کے روزے نہیں رکھتا (۳) غسلِ جنابت تک نہیں کرتا (۴) ماہواری کی حالت میں بیوی کے پاس جاتا ہے ۔ وہ لوگ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے پاس آئے اور اِن چاروں باتوں کی گواہی دی ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:یہ تو تم لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا کہ فُرات نے نَماز نہیں پڑھی اب یہ خداجانے کہ جان بوجھ کر ہوایا سَہوونِسیان کی وجہ سے ، اور یہ بھی دیکھا ہوگا کہ بظاہر کوئی مَرَض نہ ہونے کے باوجود اس نے روزہ نہیں رکھا مگر یہ بتاؤ کہ تمہیں یہ کیسے پتا چلا کہ وہ غُسلِ جَنابت نہیں کرتا یا بیوی کے پاس ماہواری کی حالت میں جاتا ہے ؟ یہ سوال سن کر ان لوگوں کو سانپ سونگھ گیا، پھر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: ’’واللّٰہ ! فُرات جیسے پاک دامن اور امانت دار شخص سے ان باتوں کا تصوُّر بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ ‘‘اور اُن بدکردار بُڈھوں کو پولیس افسر کے حوالے کردیا ، ہرایک کو بیس کوڑے لگوائے ، پھر ان کی ضمانتیں اس شرط پر لیں کہ فُرات خود ان سے اپنا حق وُصول کریں یا معاف کردیں ۔ اس واقعے کے بعد آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے بھرپور کوشِش کرکے ولید اور فُرات کے درمیان صلح کروا دی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۰)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے بُہتان تراشنے والوں کی کیسی گرفت فرمائی، کسی شخص کی موجودگی یا غیرموجودگی میں اُس پر جھوٹ باندھنا بہتان کہلاتا ہے ۔ ( اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ  ج۲ ص۲۰۰) اس کو آسان لفظوں میں یوں سمجھئے کہ بُرائی نہ ہونے کے باوُجُود اگر پیٹھ پیچھے یا رُوبَرو وہ برائی اُس کی طرف منسوب کردی تو یہبُہتان ہوا مَثلاً  پیچھے یا منہ کے سامنے ریا کار کہہ دیا اور وہ ریا کار نہ ہو یااگر ہو بھی تو آپ کے پاس کو ئی ثُبُوت نہ ہو کیوں کہ ریا کاری کا تعلُّق باطِنی امراض سے ہے لہٰذااس طرح کسی کو ریاکار کہنابہتان ہوا ۔ تہمت دھرنے اوربہتان تراشنے والے کو دنیا وآخِرت میں رسوائی کا سامنا ہوگا، چنانچہ

دوزخیوں کی پیپ میں رہنا پڑے گا

             نبیِّ رَحمت ، شفیعِ امّت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّتصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَنْ قَالَ فِی مُؤْمِنٍ مَا لَیْسَ فِیہِ أَسْکَنَہُ اللَّہُ رَدْغَۃَ الْخَبَالِ حَتَّی یَخْرُجَ مِمَّا  قَالَیعنی جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس وَقت تک دوزخیوں کے کیچڑ ، پِیپ اور خون میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے ۔ (سُنَنِ ابوداوٗد  ج۳ ص۴۲۷ حدیث ۳۵۹۷ )

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر خدانخواستہ کبھی بُہتان تراشی کا گناہ سَرزَد ہوا ہو تو فوراً سے پیشتر توبہ کر لیجئے ، بہتان سے توبہ کے لئے تین باتوں کاپایاجاناضَروری ہے : {1}آیَندہ بہتان کوترک کرنے کاپکااِرادہ کرنا{2}جس کاحق ضائع کیا، ممکن ہوتواس سے مُعافی چاہنا مَثَلاًصاحبِ حق زندہ اورموجود ہے نیزمُعافی مانگنے سے کوئی جھگڑایاعداوت پیدانہیں ہوگی{3}(جن) لوگوں (کے سامنے بہتان لگایا ان ) کے سامنے اپنے جھوٹ (یعنی بہتان) کااقرارکرنایعنی یہ کہناکہ جومیں نے بہتان لگایاتھااس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ ( اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّۃ وَ الطَّرِیْقَۃُ الْمُحَمَّدِ یَّۃ ج ۲   ص ۲۰۹ ) دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  312 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ 16 صَفْحَہ 181پرصدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی فرماتے ہیں :بُہتان کی صورت میں توبہ کرنا اور مُعافی مانگنا ضَروری ہے بلکہ جن کے سامنے بہتان باندھا ہے ان کے پاس جا کر یہ کہنا ضَروری ہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا جو فُلاں پر میں نے بہتان باندھا تھا ۔ (بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص۱۸۱) نفس کے لئے یقینا یہ سخت گِراں ہے مگر دنیا کی تھوڑی سی ذلّت اٹھانی آسان مگر آخِرت کا مُعامَلہ انتِہائی سنگین ہے ، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قَسَم ! دوزخ کا عذاب برداشت نہیں ہو سکے گا ۔ (ماخوذ از غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۲۹۵)

 

جَہَنَّم کا ہلکا ترین عذاب

     حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماروایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا :’’دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہو گا اسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا ۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، باب صفۃ الجنۃ والنار ، الحدیث۶۵۶۱، ج۴، ص۲۶۲)

ہمارا نازُک وجود

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ذرا تصوُّر توکیجئے کہ اگر ہمیں سزا کے طور پر جہنم کا  صِرف یہی عذاب دیا جائے تو بھی ہم سے برداشت نہ ہوسکے گا کیونکہ ہمارے پاؤں اتنے نازُک ہیں کہ کسی گرم انگارے پر جاپڑیں تو پورے وُجود کو اُچھال کر رکھ دیں ، معمولی سا سَردَرد ہمارے ہوش گُم کردیتا ہے تو پھر وہ عذاب جس سے دماغ کھولنے لگے ، برداشت کرنے کی کس میں ہمت ہے ؟ہم جہنم کے عذاب سے اللّٰہ  تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

مجھے نارِ دوزخ سے ڈر لگ رہا ہے

        ہو مجھ ناتواں پر کرم یاالہٰی(وسائل بخشش ، ص۸۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قطع رحمی کرنے والے سے دور رہو

            حضرت میمون بن مہران علیہ رحمۃُ الحنّان کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے مجھ سے فرمایا:لَا تُوَاخِیَنَّ قَاطِعَ رحم فَاِنِّیْ سَمِعْتُ اللّٰہ لَعَنَہُمْ فِیْ سُوْرَتَیْنِ فِیْ سُوْرَۃِ



Total Pages: 139

Go To