Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

حقدار نہ بنے مثلاً یوں نہ کہے کہ ’’فلاں بہت ڈھیٹ ہے ہزار بار سمجھایا کہ نماز پڑھا کرومانتا ہی نہیں ‘‘، وغیرہ ۔

 اِصلاح میں رُکاوٹیں

            حضرتِ سیِّدنا سلیمان بن داوٗ د خولانی عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْغنیکا بیان ہے کہ  حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزفرمایاکرتے تھے : کاش! میں تمہارے معاملہ میں کتابُ اللّٰہ پر مکمل طور پر عمل کرسکتا اور تم لوگ بھی اس پر عمل کرتے ، ابھی تو یہ حال ہے کہ میں تمہارے درمیان ایک سنّت کو نافذ کرتا ہوں تو گویا میرے جسم کا ایک عُضو جَھڑ جاتا ہے ، بالآخر اسی میں میری جان نکل جائے گی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۵)

چُغل خور کی اِصلاح

          امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  کی خدمتِ با بَرَکت میں ایک شخص حاضِر ہوا اور اُس نے کسی کے بارے میں کوئی مَنفی (NEGATIVE)   بات کی ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  نے فرمایا : اگر تم چاہو تو ہم تمہارے مُعامَلے کی تحقیق کریں ! اگر تم جھوٹے نکلے تو اِس آیتِ مبارَکہ کے مِصداق قرار پاؤ گے :

اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا (پ۲۶، الحُجرات۶)

ترجَمۂ کنزالایمان :اگر کوئی فاسِق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو ۔

  اور اگر تم سچے ہو ئے تو یہ آیتِ کریمہ تم پر صادِق آئے گی:

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ(۱۱) (پ۲۹، القلم۱۱)

ترجَمۂ کنزالایمان :بَہُت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا ۔

           اور اگر تم چاہو تو ہم تمہیں مُعاف کر دیں ! اُس نے عَرض کی: یاامیرَالْمُؤمِنِین ! مُعاف کر دیجئے آیَندہ میں ایسا (یعنی غیبتیں اور چغلخوریاں ) نہیں کروں گا ۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۳۹۱) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

محبتوں کے چور

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! لوگوں میں فساد کروانے کے لئے اُن کی باتیں ایک دوسرے تک پہنچانا چغلی ہے ۔ (شرح مسلم للنووی ج۱، ص۱۱۳) چغل خور محبتوں کا چور ہے ، بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین فرماتے ہیں : عَقلوں کے دشمنوں اور مَحَبَّتوں کے چوروں سے بچو ، یہ چور بدگوئی کرنے والے اورچُغلی کھانے والے ہیں اور چور تومال چُراتے ہیں جبکہ یہ (غیبتیں اور چغلیاں کرنے والے ) لوگ محبتیں چُراتے ہیں ۔ (اَلْمُسْتَطْرَف ج۱ص۱۵۱)  آج ہمارے معاشرے میں محبتوں کی فضا آلُودہ ہونے کا ایک بڑا سبب چغل خوری بھی ہے ، لوگوں کے درمیان چغلیاں کھا کر فساد برپا کرکے اپنے کلیجے میں ٹھنڈک محسوس کرنے والے کو کل جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جلنا پڑے گا ، جیسا کہ نبیِّ آخر الزّمان ، شَہَنْشاہِ کون و مکانصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : چار طرح کے جہنَّمی جوکہ حَمِیْم  اور جَحِیْم (یعنی کھولتے پانی اور آگ ) کے درمیان بھاگتے پھرتے وَیل وثُبُور (یعنی ھلاکت) مانگتے ہونگے ۔ ان میں سے ایک شخص وہ ہوگا کہ جو اپنا گوشت کھاتا ہوگا ۔ جہنَّمی کہیں گے : اس بد بخت کو کیا ہوا ہماری تکلیف میں اِضافہ کئے دیتا ہے ؟ کہا جائے گا: یہ ’’بدبخت ‘‘ لوگوں کا گوشت کھاتا (یعنی غیبت کرتا) اور چغلی کرتا تھا ۔ (ذَمُّ الْغِیبَۃلِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ص۸۹ رقم ۴۹) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر کبھی زندگی میں یہ گناہ ہوا ہوتو توبہ کرکے یہ نیت کرلیجئے کہ ہم چغلی کھائیں گے نہ سُنیں گے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ۔

سنوں نہ فُحش کلامی نہ غیبت وچغلی

تری پسندکی باتیں فَقَط سنایارب(وسائلِ بخشش ، ص۹۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دیوار پر قراٰن لکھنا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کسی جگہ سے گزرے تو زمین پر کچھ لکھا ہوا دیکھا تو ایک نوجوان سے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے ؟ اس نے عَرض کی :’’یہ کتابُ اللّٰہ ہے ، ایک یہودی نے یہاں لکھا ہے ۔ آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اِرشاد فرمایا:ایسا کرنے والے پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی لعنت ہو ، کتابُ اللّٰہ کو اس کے مقام ومرتبے پر ہی رکھو ۔ محمد بن زبیر کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنے ایک بیٹے کو دیوار پرقراٰن لکھتے ہوئے دیکھا تو اس کی پٹائی لگائی ۔ (تفسیر قرطبی ج۱ ص۳۰)

            مَدَنی پھول :فقیہِ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ رحمۃ اللّٰہ القوی فرماتے ہیں :’’مسجد کی دیواروں پر قرآنِ مجید کی آیتیں لکھنا جائز ہے لیکن نہ لکھنا بہتر ہے اس لئے کہ ان آیاتِ قرآنیہ پر نَجِس جگہ سے اُڑتی ہوئی دُھول وغیرہ آئے گی نیز مٹی ، چونا جو اس کے اوپرلگا ہوا ہے زمین پر گرے گا اور پاؤں کے نیچے گرے گا جس سے بے اَدَبی ہوگی ۔ (فتاوی فقیہ ملت ج۱ص۱۹۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اپنے اہل وعیال کو رِزقِ   حلال ہی کھلاؤ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے جعونہ بن حارث سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے گھر والے تم سے کیا چاہتے ہیں ؟عَرض کی: وہ میرا بھلا چاہتے ہیں ۔ اِرشاد



Total Pages: 139

Go To