$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

سندھی حکمرانوں کو اسلام کی دعوت پیش کی

            سندھ کے حکمرانوں کے نام بھی دعوت نامہ روانہ کیا، چونکہ وہ لوگ ان کے حُسنِ اخلاق کی شہرت پہلے سے سُن چکے تھے اس لئے بہت سے بادشاہوں نے اسلام قبول کر لیا، علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں : انہوں نے بادشاہوں کو اسلام کی اس شرط پر دعوت دی کہ ان کی بادشاہی میں کوئی خَلَل نہ آئے گا اور جو حُقُوق مسلمانوں کے ہیں ان کو ملیں گے اور جو ذمہ داریاں مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں وہ ان پر عائد ہوں گی ۔ چونکہ تمام بادشاہوں کو ان کے کردار کا حال معلوم ہوچکا تھا، اس لیے جیشبہ اور دوسرے بادشاہ اسلام لائے اور اپنا نام  عَرَبی رکھا ۔ (الکامل فی التاریخ ، ج۴، ص۳۲۳)

چارہزار ذِمّیوں نے اسلام قبول کرلیا

            جراح بن عبداللّٰہ حکمی کو جو خراسان کے عامل تھے ، لکھا کہ ذِمّیوں کو اسلام کی دعوت دیں اور وہ اسلام لائیں تو ان کا جِزیہ معاف کردیں ۔ انہوں نے اس  حُکمکی تعمیل کی اور ان کے ہاتھ پر چار ہزار ذِمّی اسلام لائے ، جراح کے حُسنِ اخلاق کی شہرت پھیلی، تو ان کے پاس تبت سے وفد آئے کہ ان کے یہاں مبلغین روانہ کریں ، چنانچہ اس غرض سے انہوں نے سلیط ابن عبداللّٰہ المنقی کو روانہ کیا ۔

مغرب والوں کو دعوتِ اسلام

            اسمٰعیل بن عبداللّٰہ بن ابی المہاجر جو مغرب (یورپ) کے عامل تھے ، اگرچہ وہ خودبھی اس خدمت میں مصروف تھے اور مسلسل غیر مسلموں کو اِسلام کی دعوت دیتے تھے ، لیکن جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کا دعوت نامہ پہنچا اور اسمٰعیل نے پڑھ کر سنایا تو اس کا اس قدر اثر ہوا کہ اسلام تمام مغرب کے افق پر چھا گیا، علامہ بلاذری لکھتے ہیں :پھر جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کا دور آیا تو انہوں نے اسماعیل بن عبداللّٰہ بن ابی المہاجر کو مغرب کا گورنر مقرر کیا، انہوں نے نہایت عمدہ روش اِختیار کی اور بَربَر کو اسلام کی دعوت دی، اس کے بعد خود حضرتِ عمر بن عبدالعزیز نے ان کے نام دعوت نامہ روانہ کیا ، اسمعیل نے یہ دعوت نامہ اُن کو پڑھ کر سنایا تو اسلام مغرب پر غالب ہوگیا ۔ (فتوح البلدان، ج۱، ص۲۷۳) اُن کے زمانہ میں اشاعتِ اسلام کا سب سے زیادہ موثر سبب یہ ہوا کہ حجاج کی ظالمانہ روش کے مطابق نو مسلموں سے اب تک جو جِزیہ وُصول کیا جاتا تھا، انہوں نے اس سے ان کو بالکل بَری کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ بکثرت اسلام لائے ۔

ہماری حیثیت کاشتکار کی سی رہ جائے

            ایک بار عدی بن اَرطاۃ نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کو لکھا کہ اس کثرت سے لوگ اسلام لارہے ہیں کہ مجھے خَراج میں کمی واقع ہونے کا اندیشہ ہے ، انہوں نے ان کو جواب دیا کہ میری یہ خواہش ہے کہ تمام لوگ مسلمان ہوجائیں اور ہماری اور تمہاری حیثیت  صِرف ایک کاشتکار کی رہ جائے کہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائیں ۔ (سیرتِ ابن جوزی ص۱۲۰)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حسنِ ظن رکھو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزفرمایا کرتے :اَحْسِنْ بِصَاحِبِکَ الظَّنَّ مَالَمْ یَغْلِبْکَ یعنی اپنے بھائی کے بارے میں اس وَقت تک حُسن ظن رکھو جب تک تمہیں ظنِ غالب نہ ہوجائے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۵)

 شریعت پر عمل کی ترغیب

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ایک مکتوب میں لکھا: بے شک اسلام کی کچھ حُدود ہیں اورکچھ اَحکام اور سنّتیں ، تو جس نے ان سب پر عمل کر لیا اس نے اپنا ایمان کامِل کر لیا اور جس نے عمل نہیں کیا اس کا ایمان نامکمل رہا ، پس اگر میں زندہ رہا تو یہ سب چیزیں تمہیں سکھاؤں گا بھی اور عمل کی ترغیب بھی دوں گا لیکن اگر اس سے پہلے میرا وَقتِ رخصت آپہنچا تو میں تمہاری صحبت کا حَرِیص نہیں ہوں ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۴)

اِصلاح کا انداز

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز   کے شہزادے حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِقنے ایک مرتبہ عَرض کی: حضور! میں دیکھتا ہوں کہ آپ نے کئی ایسے کام مُؤخَّر کردئیے ہیں جن کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اگر آپ کو ایک گھڑی کے لئے بھی حکومت ملی تو انہیں کرڈالیں گے ، میرا مشورہ ہے کہ چاہے نتائج کچھ بھی نکلیں آپ ان کاموں کو ہاتھوں ہاتھ کر ڈالئے ۔ اِس مخلصانہ مشورے پر حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز   نے اپنے شہزادے کی حوصلہ افزائی کی اور فرمایا: دراصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو دین کی بات پر آمادہ کرنا میرے بس میں نہیں جب تک میں اس کے ساتھ تھوڑی سی دُنیا نہ ملا دوں ، میں ان کے دلوں کو  نَرم کرکے اِصلاح کرنا چاہتا ہوں ورنہ مجھے ڈر ہے کہ ایسے فتنے کھڑے ہوجائیں گے جنہیں دُور کرنا میرے لئے ممکن نہ ہوگا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۱)

دوسروں کی اِصلاح کے لئے اپنی آخِرت برباد نہ کرو

            یونہی ایک مرتبہ اِرشاد فرمایا:مَنْ لَّمْ یُصْلِحْہُ اِلَّاالْغَشْمُ فَلَایُصْلَحُ ، وَاللّٰہِ لَااُصْلِحُ النَّاسَ بِھَلَاکِ دِیْنِیْ  یعنی جس شخص کی اِصلاح ظُلم کئے بغیر نہیں ہوسکتی ، چاہے اس کی اِصلاح نہ ہو مگر میں اپنا دین برباد کرکے لوگوں کی اِصلاح کے دَرپے نہیں ہوں گا ۔ (سیرتِ ابن عبدالحکم ص۱۱۲)

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز   کے اس اِرشادِ پاک میں  نیکی کی دعوت عام کرنے کا جذبہ رکھنے والے مبلغین کے لئے زبردست مَدَنی پھول ہے کہ کسی کی اِصلاح کی کوشِش کے دوران خود کوگناہ میں پڑنے سے بچانا چاہئے جیسا کہ اگر کوئی اس کے بار بارترغیب دلانے پر بھی نَمازنہیں پڑھتا تو اب وہ دوسروں کے سامنے اس کی غیبتیں کرکے گناہ گار اور نارِ جہنم کا



Total Pages: 139

Go To
$footer_html