$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

لہو ولعب اور نوحہ کی ممانعت

             شریعت نے جن چیزوں کی ممانعت کی ہے ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے ان کی سختی سے روک تھام کی ۔ ایک بار ان کو معلوم ہوا کہ بہت سے مسلمان لَہوولَعب میں مصروف ہوگئے ہیں اور عورتیں جنازے کے ساتھ بال کھولے ہوئے نَوحہ کرتی ہوئی نکلتی ہیں تو عُمال کے نام ایک فرمان بھیجا، جس کا خُلاصہ یہ ہے : ’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ سُفَہاء(یعنی بے وقوفوں ) کی عورتیں مُردے کی وفات کے وَقت بال کھولے ہوئے اہلِ جاہلیت کی طرح نوحہ کرتی ہوئی نکلتی ہیں ، حالانکہ جب سے عورتوں کو آنچل ڈالنے کا  حُکم دیا گیا ان کو دوپٹہ اتارنے کی اِجازت نہیں دی گئی، پس اس نوحہ و ماتم کی روک تھام کرواور مسلمانوں کو لہو و لعب اور راگ باجے وغیرہ سے روکو، پھر بھی جو باز نہ آئے اس کو اِعتدال کے ساتھ سزا دو ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۸۹)

اِنسدادِ شراب نوشی

            شراب کو حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے اُمُّ الْخَبَائِث یعنی تمام گناہوں کی جڑ فرمایا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اِس کو حرام فرمایا اور حدیثوں میں بھی کثرت سے اِس کی حُرمت اور مخالفت کا ذِکر آیا ہے ۔ قرآن مجید میں ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰) اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) (پ۷، المائدۃ:۹۰، ۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلواوے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللّٰہ کی یاداور نَماز سے روکے تو کیا تم باز آئے ۔

             حضرتِ سیِّدنا اَ نَس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول ُاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے فرمایا کہ ا للہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ۔ {۱} شراب نچوڑنے والے پر{۲} شراب نچڑ وانے والے پر {۳} شراب پینے والے پر {۴} شراب اُٹھانے والے پر{۵} اُس پر جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی گئی ۔ {۶} شراب پلانے والے پر {۷} شراب کی قیمت کھانے والے پر  {۸} شراب بیچنے والے پر{۹} شراب خریدنے والے پر {۱۰} اس پر جس کیلئے شراب خریدی گئی ہو ۔  (سنن الترمذی، کتاب البیوع، باب النھی ان یتخذ الخمرخلا، الحدیث۱۲۹۹، ج۳، ص۴۷ ۔ سنن ابن ماجہ، کتاب الاشربۃ، باب لعنت الخمر علی عشرۃ اوجہ، الحدیث۳۳۸۱، ج۴، ص۶۵)  

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے شراب نوشی کے انسداد کے لیے مختلف تدبیریں اِختیار کیں مثلاً شرابیوں کو سزائیں دیں ، ذِمّیوں کو شہروں میں شراب لانے سے روک دیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عورتوں کو حمام میں جانے سے روک دیا

            مذہب اور اخلاق کے متعلق اور بھی بہت سے اَحکام تھے جن کی خِلاف ورزی غَلَط نتائج پیدا کرسکتی تھی، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے ان تمام جزئیات کی طرف توجہ کی اور ان سے مسلمانوں کو روکا مثلاً : عجمیوں کی آمیزش و اختلاط سے ممالک اسلامیہ میں حماموں کا رواج ہوگیا تھا اور اس میں مرد و عورت بیباکانہ جاتے اور غسل کرتے تھے لیکن اس میں سترِ عورت کا انتظام نہیں کیا جاتا تھا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے عورتوں کو حمام میں جانے سے بالکل روک دیا اور مردوں کی نسبت عام  حُکم دیا کہ بغیر تہبند کے حمام میں غسل نہ کریں ، چنانچہ اس  حُکم پر اس  شِدّت کے ساتھ عمل ہوا کہ ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے حمام کے مالک اور حمام میں جانے والی دونوں کو دیکھا کہ ان کو سزا دی جارہی ہے ۔ اسی طرح حماموں کی دیواروں پر تصویریں بنائی جاتی تھیں جو اصولِ شریعت کے خِلاف تھیں ، ایک بار حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے ایک حمام میں اس قسم کی تصویر دیکھی تو مٹا نے کا  حُکم دیا اورفرمایا :لَوْعَلِمْتُ مَنْ عَمِلَ ھٰذا لَاَوْجَعْتُہ ٗضَرْباً  یعنی اگرمجھے پتا ہوتا کہ یہ کس نے بنائی ہے تو میں اس کو سزا دیتا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۹۸)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیر المؤمنین اوردعوتِ اسلام

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے اپنی زندگی کا ایک اہم مقصد دعوتِ اسلام کو قرار دیا اور اس پر ہر قسم کی مادی اور اخلاقی طاقت  صَرف کی جو افسر کفار کے ساتھ معرکہ آراء تھے اُن کو ہدایت کی:لَا تَقْتُلْنَ حِصْناًمِّنْ حُصُوْنِ الرُّوْمِ وَلَا جَمَاعَۃً مِّنْ جَمَاعَا تِھِمْ حَتّٰی تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ رومیوں کے کسی قلعہ اور کسی جماعت سے اُس وَقت تک جنگ نہ کرو جب تک ان کو اسلام کی دعوت نہ دے لو ۔ (طبقات ابن سعد ج۵ ص۲۷۴) لوگوں کو تالیفِ قلبی کے لیے بڑی بڑی رقمیں دے کر اسلام کی طرف مائل کیا ، چنانچہ ایک بار کسی شخص کو اس غرض سے ہزار اشرفیاں دیں ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۷۰)

دیگر بادشاہوں کودعوتِ اسلام

            شاہانِ ماوَرَاء النہر کو اسلام کی دعوت دی اور اُن میں بعض نے اسلام قبول کیا، چنانچہ فتوحُ البلدان میں ہے :کَتَبَ اِلٰی مُلُوْکِ مَاوَرَاء النَّھْرِ یَدْعُوْھُمْ اِلَی الْاِسْلَامِ فَاَسْلَمَ بَعْضُھُمحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے ماوَراء النہر کے بادشاہوں کو دعوت ِ اسلام دی اور ان میں بعض اسلام لائے ۔ (فتوح البلدان ، ج۳ ص ۵۳۴)

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html