Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بہت زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۴۹)

قراٰن میں 90سے زیادہ بار نَماز کا تذکِرہ ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نَماز اِسلام کی تمام عبادات کی جامِع ہے کیونکہ نَمازمیں توحید و رسالت کی گواہی ہے ، قِبلہ کی طرف مُنہ کرنا ہے ، دورانِ نَماز کھانے پینے کو تَرک کرنا اور نفسانی خواہِشوں سے باز رَہنا ہے اور ان اُمور میں حج اور روزے کی طرف اِشارہ ہے ، قرآنِ کریم کی تِلاوت ہے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی حمد وتسبیح اور اس کی تعظیم ہے ۔  رسول اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   پر صلوٰۃ وسلام اور آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم و تکریم ہے ، آخِر میں سلام کے ذَرِیعے مسلمانوں کی خَیر خواہی ہے ، اپنے اور دوسرے مسلمانوں کے لیے دُعا ہے ، اِخلاص ہے ، خوفِ خدا ہے ، تمام بُرے کاموں سے بچنا ہے ، شیطان سے ، نَفس کی خواہِشوں سے اور اپنے بدن سے جہاد ہے ، اِعتِکاف ہے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کا بیان ہے ، اپنے گناہوں کا اِعتِراف اور توبہ واِستِغفَار ہے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضِر ہونا ہے ، مُراقَبہ ہے ، مُجاہَدہ ہے ، مُشاہَدہ ہے اور مؤمِن کی مِعراج ہے ۔ قرانِ کریم میں نوے (90) سے زیادہ مرتبہ نَماز کا ذِکر کیا گیا ہے ، اسلام میں سب سے پہلی عِبادت نَمازہے ، یہ صِرف  نَماز کی خُصوصیَّت ہے کہ وہ امیر و غریب ، بوڑھے اور جوان ، مرد اور عورت ، صحَّت مند اور بیمار ہر ایک پر یکساں فَرض ہے ، یِہی وہ عِبادت ہے جو کسی حال میں ساقِط نہیں ہوتی ، اگر کھڑے ہو کر  نَماز نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر ، اگر بیٹھ کربھی نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھنا ہوگی ، حالتِ جنگ یا سفر میں اگر سُواری سے اُتر نہیں سکتے تو سُواری پر پڑھنے کا  حُکم ہے ۔

نَماز سینکڑوں بیماریوں کا علاج ہے

نَماز انسان کی ہرحالت دُرُست کرتی ہے ، بُرے کاموں سے بچاتی ہے یہ توآزمائی ہوئی بات ہے کہ بڑے بڑے فاسِق و بدکار لوگوں نے جب صِدق دل سے نَماز پڑھنی شُروع کر دی تو رب عَزَّوَجَلَّکے فضل سے سارے گناہوں سے بچ گئے ۔ نَماز صدہا بیماریوں کا علاج ہے اس وَقت کے اَطبّاء بھی کہتے ہیں کہ وُضو کرنے والا آدمی دِماغی بیماریوں میں بَہُت کم مبتَلا ہوتا ہے ۔ نَمازی آدمی اکثر تِلّی کی بیماریوں اور جُنُون(یعنی پاگل پن) وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے نیز پنج وقتہ نَمازی کے اَعضاء دُھلتے رہتے ہیں ، کپڑے پاک رہتے ہیں ، گھر بھی اس کا پاک رہتا ہے ، اس لئے وہ گندگی سے بچا رہتا ہے اور گندگی بَہُت سی بیماریوں کی جڑ ہے ۔ نَماز ہر مصیبت کاعِلاج ہے اِسی لئے اسلام نے ہر مصیبت کے وَقت نَماز پڑھنے کا  حُکم دیا، بارِش نہ ہو تونَمازِ اِستِسقاء پڑھو،  سورج یا چاند کوگَرَہَن لگے تو نَمازِکُسُوف (یا نمازِ خُسوف) پڑھو، کوئی حاجت دَرپیش ہو تو نَمازِ حاجت پڑھو ۔ غرضیکہ نَماز ہر مصیبت میں کام آنے والی چیز ہے ۔ (تفسیرِ نعیمی ج۱ ص۱۲۷)

عمل کا ہو جذبہ عطا یاالٰہی        گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی

میں پانچوں نَمازیں پڑھوں باجماعت              ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی

پڑھوں سنّتِ قَبْلیَّہ وقت ہی پر

ہوں سارے نوافِل ادا یا الٰہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نَمازِجمعہ پڑھ کر جانا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے اِنفِرادی طور پر لوگوں کو نَماز کی پابندی کی طرف توجہ دلائی ، چنانچہ ایک شخص کوکوئی ذمّہ داری دے کر مِصر روانہ کرنا چاہا، اس نے جانے میں دیر کی تو آدمی بھیج کر بلوایاوہ آیا تو اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے فرمایا : گھبراؤ نہیں ، آج جمعہ کا دن ہے ، جمعہ پڑھے بغیر یہاں سے نہ جانا، ہم نے تمہیں ایک فوری کام کے لیے بھیجا تھا، لیکن یہ عُجلت تم کو اس پر نہ آمادہ کرے کہ نَماز کو وَقت گزار کر پڑھو،  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے اس قوم کے بارے میں جس نے نَماز کو برباد کردیا اور شہوت پرستی کی، فرمایا :

فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ(۵۹) (پ۱۶، مریم :۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان:عنقریب وہ دوزخ میں غَی کا جنگل پائیں گے ۔

ان لوگوں نے نَماز کو بالکل تَرک نہیں کردیا تھابلکہ اس کے وَقت کی پابندی چھوڑ دی تھی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۶)

مؤذِّنین کے وظائف مقرر کئے

            ان ہدایات کے علاوہ ملک میں ہر جگہ عملی طور پر نَماز کا اِہتِمام کیا اور مؤذِّنین کی تنخواہیں مقرر کیں ، تاریخِ دِمشق میں کثیر بن زید سے روایت ہے :قَدِمْتُ  خَنَاصِرَۃَ فِیْ خِلَافَۃِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْز فَرَأَ یْتُہ ٗیَرْزُقُ الْمُؤَذِّنِیْنَ مِنْ بَیْتِ الْمَال میں حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے دورِ خِلافت میں خَناصِرہ آیا تو دیکھا کہ وہ مؤذنین کو بیت المال سے وظیفہ دیتے ہیں ۔ (تاریخ دمشق ج۵۰ص۲۱ )

زکوٰۃ و صدقہ

          اگرچہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خِلافت کی یہ برکت تھی کہ جب لوگوں کو ان کے خلیفہ ہونے کی خبر ہوئی تو نہایت سُرعت ودیانت سے صَدقہفِطرادا کرنا شروع کیا یہاں تک کہ ان کے ایک عامل نے لکھا کہ اب بہت سا صَدقہفِطر جمع ہوگیا ہے اپنی رائے سے اطلاع دیجئے کہ اس کو کیا کیا جائے (سیرت ابن جوزی ، ص ۱۰۵) ، تاہم آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ خود بھی نہایت  شِدّت کے ساتھ لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے رہتے تھے ، ایک بار خَناصِرہ میں عید سے ایک دن پہلے جمعہ کے روزخطبہ دیا جس میں لوگوں کو نَمازِ عید سے پہلے ہی صَدقہ فطر دینے کی ترغیب دی تو لوگ صَدقہفِطر کے طور پر ستو لاتے اور حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزقَبول کرتے جاتے تھے ۔ (طبقات ابن سعد ، ج ۵ص۲۸۱)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

 



Total Pages: 139

Go To