Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بدنام تھا ، لوگ اسے بہت سمجھاتے مگر اس کے کانوں پر جُوں تک نہ رینگتی ۔ دیگر برائیوں کے ساتھ ساتھ دن رات شراب کے نشے میں بَدمَست رہا کرتا ۔ اس کے شب وروز بحرِ گناہ میں غوطہ زنی کرتے گزررہے تھے کہ ایک دن کسی اسلامی بھائی نے اُسے  دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اِجتماع میں شرکت کی دعوت دی ۔ اس کی خوش نصیبی کہ وہ اجتماع میں شریک ہوگیا ۔ جونہی اجتماع میں شیخ طریقت ، امیرا ہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالیہ کاسنتوں بھرا بیان شروع ہوا وہ سراپا اِشتیاق بن گیا ۔ جب رِقّت انگیز بیان کی تاثیر کانوں کے راستے اس کے دل میں اُتری تو وہاں سے نَدامت کے چشمے پھوٹ نکلے جو آنکھوں کے راستے آنسوؤں کی صورت میں بہنے لگے ۔ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ  کے سبب اس پر اتنی رِقّت طاری ہوئی کہ بیان کے خَتم ہوجانے کے بعد بھی وہ بہت دیر تک سرجھکائے زاروقطار روتا رہا ۔ پھراس نے شیخ طریقت ، امیرا ہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالیہ  کے ہاتھ بَیعَت ہوکر حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی غلامی کا پٹا اپنے گلے میں ڈال لیا ۔  اس نے اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کر کے شراب کو ہمیشہ کے لیے تَرک کرنے کا اِرادہ کر لیا ۔ اچانک شراب چھوڑنے کی وجہ سے اس کی طبیعت شدید خراب ہو گئی ، کسی نے مشورہ بھی دیا کہ شراب یک دَم نہیں چھوڑی جاسکتی لہٰذا فی الحال تھوڑی بہت پی لیا کرو، تھوڑاسکون مل جائے گاپھرکم کرتے کرتے چھوڑدینا، لیکن اس نے شراب پینے سے صاف اِنکار کر دیااور تکلیفیں اٹھا کرشراب سے چھٹکارا پاہی لیا ۔ پانچوں نَمازیں مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھنے کو اپنا معمول بنا لیا اورچہرے پر سنت کے مطابق داڑھی شریف بھی سجا لی ۔ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول نے اس اسلامی بھائی کی زندگی بدل کر رکھ دی ۔ دن بھر سنت کے مطابق سفید لباس میں ملبوس نظر آتے ، ہفتے میں ایک دن علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شریک ہوتے ۔ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کی برکت سے انہیں ایسی مِلَنساری نصیب ہوئی کہ جو کوئی ان سے ملتا، ان کا گرویدہ ہو جاتا ۔

            ایک دن اچانک ان کی طبیعت خراب ہو گئی انہیں ہسپتال میں داخل کروادیا گیا، کثرتِ قے واِسہال (دست) کی وجہ سے نڈھال ہو گئے ۔ ان کی حالت دیکھ کر یہی محسوس ہوتا تھا کہ شایداب صحت یاب نہ ہو سکیں ۔ شام کے وَقت اچانک بلند آواز سے کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پڑھا اور اُن کی رُوح قفسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی ۔ جب اِنتقال کی خبر علاقے میں پہنچی تو ان سے محبت رکھنے والا ہراسلامی بھائی اُداس اور مغموم دکھائی دینے لگا ۔ اس مبلغِ دعوت اسلامی کے جنازے میں کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے ۔ اُن کی نَماز جنازہ ان کے پیرومُرشِد ، شیخ طریقت امیرا ہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادِری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالیہ نے پڑھائی ۔ اسلامی بھائی مُرید کے جنازے پر مُرشِد کی آمد پر فرطِ رَشک سے اَشکبار ہو گئے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

علمِ دین کی اشاعت

             اَحادیث کی تَدوِین و ترتیب کے بعد دوسرا کام یہ تھا کہ ان کی تَروِیج و اِشاعت کا اِہتِمام کیا جائے ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے اپنے دَور میں عِلم کی اِشاعت پر خُصُوصی توجہ دی ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ایک پیغام میں قاضی ابوبکر بن حزم کو اس طرف بھی توجہ دلائی اور لکھا:وَلْتُفْشُوا الْعِلْمَ وَلْتَجْلِسُوا حَتَّی یُعَلَّمَ مَنْ لَا یَعْلَمُ فَإِنَّ الْعِلْمَ لَا یَہْلِکُ حَتَّی یَکُونَ سِرًّا یعنی لوگوں کو چاہیے کہ عِلم کی اِشاعت کریں اور تعلیم کے لیے حلقۂ دَرس میں بیٹھیں تاکہ جو لوگ نہیں جانتے وہ جان لیں کیونکہ عِلماس وَقت تک نہیں برباد ہوتا جب تک کہ وہ مَخفِی نہ رکھا جائے ۔ (فتح الباری، باب کیف یقبض العلم ، ج ۲، ص ۱۷۶ )

خلیفہ کا پیغام علماء کے نام  

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے جعفر بن بُرقان کو خط کے ذریعے  حُکم فرمایا:اپنے علاقے کے فقہاء و علماء کی بارگاہ میں حاضِر ہو کر عَرض کرو کہ اللّٰہ  تعالیٰ نے آپ کو جو عِلم عطا کیا اسے اپنے اِجتماعات اور مساجد میں پھیلائیں ۔ (جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البر، ج۱، ص۱۶۸، رقم۵۵۶)

عِلم کے بغیر عمل کرنا خطرناک ہے

                امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز فرماتے ہیں :’’ مَنْ عَمِلَ عَلٰی غَیْرِ عِلْمٍ کَانَ مَایُفْسِدُ اَکْثَرَمِمَّایُصْلِحُ یعنی جوکوئی عِلم کے بغیر عمل کرتا ہے ، وہ سنوارتا کم بگاڑتا زیادہ ہے ۔ ‘‘(مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہج۸ ص۲۴۲ رقم۱۹)

عِلم سیکھنے کے لئے سوال کرنے سے نہ شرماؤ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز فرمایا کرتے تھے :’’ بہت کچھ عِلم مجھے حاصِل ہے ، لیکن جن باتوں کے بارے میں سوال کرنے سے میں شرمایا تھا ان سے آج بھی لاعِلم ہوں ۔ ‘‘(جامع بیان العلم وفضلہ لابن عبد البرج۱ ص۶۲۱رقم ۳۱۴) یعنی پوچھنے سے عِلم بڑھتا ہے لہٰذا عِلم کے بارے میں سوال کرنے سے شرمانا نہیں چاہئے ۔

مُحدِّثین کی خدمت

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے تدریس و اِشاعتِ عِلم میں مشغول علمائے کرام کے لئے بیتُ المال سے بھاری وظیفے مقرر کرکے ان کو فِکرِ مَعاش سے آزاد کردیا ۔ حضرت سیِّدُناقاسم بن مُخَیمرہ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ ایک مُحَدِّث تھے ، جو نہایت تنگ دستی کی زندگی بسر کرتے تھے ، جب وہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس آئے تو ان کی جانب سے 90 دینار قَرض ادا کیا، رہنے کا مکان اور ایک خادِم دیا اور 60دینار وظیفہ مقرر کردیاتاکہ وہ یکسُوئی کے ساتھ خدمتِ دین کرسکیں ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۶۹ملخصًا)

30دِرہم پیش کئے

            ایک بار حضرت سیِّدُنا مجاہدعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الواحِدحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خدمت میں حاضِر ہوئے ، تو ان کو تیس دِرہم پیش کئے اور کہا کہ یہ رقم میں نے اپنی جیب



Total Pages: 139

Go To